ذہنی دباؤ سے آزاد معاشرہ۔۔محمد شعیب

گاہے بگاہے زندگی میں ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ ذہنی بیماریاں ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں اور ہماری زندگیوں پر ان کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ اکثر اوقات یہ کسی وجہ سے ہوتی ہیں اور کبھی بغیر وجہ کے شروع ہو جاتی ہیں۔ عموماً ہم اس اداسی سے خود بھی چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں بعض دفعہ دوستوں سے بات کر کے یا علاج کے ذریعے۔لیکن میڈیکل کے لحاظ سے یہ اداسی ذہنی دباؤ / ڈپریشن اس وقت کہلاتی ہے جب انسان کو اس اداسی کا احساس زیادہ عرصہ کے لیے ہو ،اور حب اس اداسی, بے چینی کی وجہ سے روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہونے لگیں ۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے جنوری 2020 کے اعدادوشمار کے مطابق پوری دنیا میں ہر عمر کے 264 ملین سے زیادہ افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔
اس ذہنی بیماری کا شکار ہر عمر کے چھوٹے,بڑے,بچے,بوڑھے افراد ہو سکتے ہیں۔نوجوانوں میں ڈپریشن کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً گھریلو مسائل, بےروزگاری،کسی عزیز کی موت, امتحان میں ناکامی, محبت میں  شکست, بدسلوکی,پرانی بیماری اور بعض دفعہ انسان کسی پرانی باتوں کو سوچتا ہے اور  خود پر حاوی کر لیتا ہے۔یہ ڈپریشن مورثی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس سے بچا کیسے جاۓ ؟ کس طرح اپنے معاشرے کو ڈپریشن  سے نجات دلائی  جاۓ ؟

کیونکہ آج کل نوجوان  اس کے زیادہ   شکار ہو رہے ہیں اور  جس کے نتیجے میں وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔اس لیے چاہیے کہ اپنی زندگی کا ایک معمول بنا لیں صبح جلدی اٹھیں نماز ادا کریں۔پھر اپنے کام میں مشغول ہو جائیں۔نفرت و حقارت سے پرہیز کریں محبت اور تعاون کے ساتھ سب کے ساتھ پیش آئیں ، تا کہ ذہنی سکون حاصل ہو سکے۔

کیونکہ بعض اوقات کچھ چیزیں انسان کی توقعات پر پورا نہیں  اُترتیں، ایسے حالات میں جذبات پر قابو رکھیں۔
اگر امتحان میں ناکامی کا خدشہ ہے تو اس میں  پریشان ہونے   کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہر چیز کو محنت سے زیر کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں والدین اور اپنے دوستوں سے رہنمائی لیں۔
اکثر نوجوان نوکری یا بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیں ذہنی دباؤ  میں آ نے کیساتھ ساتھ  مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ نااُمیدی کفر ہے۔اپنے آپ پر  بروسہ رکھیں اور خدا پر توکل ۔
اور سب سے بڑھ کر جس کی وجہ سے لوگ ڈپریشن  کا شکار ہوتے ہیں بالخصوص نوجوان طبقہ ،محبت اور عاشقی معشوقی ہے۔یہ سب عارضی ہے۔اصل محبت تو خدا تعالیٰ  کی ہے۔دنیاوی محبت پریشانی اور اداسی کے سوا کچھ نہیں دیتی ،اس لیے ایسی چیزوں سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔مانتا ہوں جب کوئی چھوڑ کر جاتا ہے دکھ ہوتا ہے لیکن جیسے پہلے بھی کہا یہ دنیاوی محبت کچھ نہیں ہوتی سواۓ پاک رشتوں کے۔

اپنا رشتہ اللہ سے قائم کریں۔اپنی پریشانیوں بارے والدین سے بات کریں اور دوستو کو حال ِدل سنائیں ۔
جب بھی کوئی سٹریس والی صورت حال ہو اس سے راہ  فرار اختیار کرنی چاہیے اور منصوبہ بندی کرنی چاہیے کس طرح ایسے حالات سے نکلاجاۓ۔ہمیشہ خوش رہیں سب کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آۓ۔اچھے دوستوں کی صحبت میں رہیں اور پوزیٹیو لوگوں سے میل جول رکھیں۔ڈپریشن سے بچنے کے لیے اپنے ماحول کو تبدیل کر کے دیکھے۔کیونکہ یہ ذہنی دباؤ انسانوں کو خاموشی سے مار دیتا ہے۔

محمد شعیب
محمد شعیب
میں صحافت کا طالب علم ہوں. لکھنا ایک دوست کی طرف دیکھ کے شروع کیا.گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصلآباد سے صحافت کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *