نیا پاکستان بمقابلہ پرانا پاکستان۔۔سلمان اسلم

عہد حاضر کا بھی کیا ہی عجیب نظام ہے ،اُدھر دل میں کوئی بات آئی اِدھر سیکنڈز کے دورانیے میں پوری دنیا کی مسافت طے ہوجاتی ہے۔ کل میں نے  ڈیوٹی آف کی تو واٹس ایپ آن کر لیا۔ اک کزن نے پاکستان سے میسج بھیجا تھا ، جو کسی نیوز ویب  سائٹ  کا سکرین شاٹ تھا۔ خبر کی سرخی تھی۔۔۔

“9 پائلٹوں نے انکشاف کیا کہ ہماری جگہ امتحان کسی اور نے دیا۔ غلام سرور۔”

جناب اسلم رئیسانی کی بات اب نہ چاہتے ہوئے بھی بہر حال ماننی پڑے گی کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو ہا نقلی۔

میں نے خان صاحب کے اقتدار کے شروع ہونے سے پہلے ہی اک کالم (پرانا پاکستان بمقابلہ نیا پاکستان) میں کچھ بنیادی نقاط کو سامنے رکھ کر یہ واضح کیا تھا کہ خان صاحب ہمیں نئے پاکستان کے مقابلے میں پرانا پاکستان کیوں چاہیے۔ اب نئے پاکستان پہ بات کرنے کے لیے ہمیں پہلے پورے معاملے کو حضرت آدم کی پیدائش کی کہانی سے لے کر اب تک کی انسانی زندگی کو دیکھ کر سمجھناہوگا۔ کیونکہ جیسے انسانی زندگی ابتداء سے جن مراحل، جن تکالیفوں اور ہزیمتوں سے گزری ہے بعین ہی پاکستان کا وجود میں آنا بھی اسی طرح کی  ہزار قربانیوں اور تکالیف  سے گزرا  ہے۔

پاکستان کے وجود پہ اگر نظر ڈالیں تو وطن عزیز برصغیر پاک وہند کا اک جڑا ہوا خط تھا۔ صدیوں سے زندگی آباد تھی وقت کی چکی کے ساتھ دولت اور جمہور عام کی ریل پیل تھی۔ تب اس خطے کو ایسے ملک کے نام اور شان سے (بنام پاکستان) الگ ہونے کا تصور تک ناممکن تھا۔ لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ جمہور پاک وہند کے اپنے کرتوتوں نے اس خطے کو تقسیم کردیا اور تب ہمارے قائد کو ، اس عظیم خطے کو، وطن عزیز کے اس مبارک ٹکڑے کو پاکستان کے نام سے الگ حاصل کرنے کے لیے لامحالہ اور ان گنت قربانیوں، بے شمار مشکلات سے گزرنا پڑا۔

وقت آگے بڑحتا گیا،حالات بدلتے گئے،پھر ماضی قریب پاکستان تحریک انصاف کی اک نئی، انوکھی اور زوردار ہوا  چلی، یوں چند جلسوں میں معلوم ہوا کہ 70 سال پہلے شہیدوں کے خوں سے رنگا ہوا پاکستان پرانا ہوچکا ہے اور اب نئے پاکستان کی تحریک شروع ہوگئی ہے۔ اک طور سے یہ بات تو موزوں لگتی ہے کہ پچھلے 70 سالوں میں ہر پارٹی، ہر سیاست دان نے اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے پاکستان کی  عزت کا سودا کیا۔

خان صاحب کے اس نعرے میں بظاہر کافی دم محسوس ہوتا رہا اور لوگوں کی ٹھیک ٹھاک توجہ بھی حاصل ہوتی رہی ۔ یہ قافلہ بھی نومولود پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کی مانند تھا، وہاں بھی نفوس پھٹے پرانے کپڑوں میں عازم سفر ہوئے تھے اور خان صاحب کے قافلے میں بھی ننگے اور آدھے ادھورے کپڑوں میں مخلوط جمہور شامل ہوتی رہی۔ بس فرق یہ تھا کہ نومولود پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کے دل نور ایمان سے منور تھے اور نئے پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کے دل ساز و سرور سے مست قلندر تھے۔ مگر مقصد دونوں کا بظاہر ایک تھا یعنی نئے وطن کی طرف ہجرت۔ کیونکہ نومولود وطن کی طرف ہجرت کرنے والے برٹش انڈیا سے تنگ آچکے تھے اور پرانے پاکستان میں اب لوگوں کا پرانے نظام حکومت سے دم گھٹنے لگا تھا۔ خان صاحب کے اس نئے پاکستان کی طرف بڑھنے والے قافلے کے امراء اوائل میں کافی مستعد اور متاثرکن دکھائی  دیتے رہے۔ معترضین  نے بہت سارے اعتراض اٹھائے، لیکن خان صاحب آگے بڑھتے رہے اور عوام کندھے سے کندھا ملا کے کھڑی ہوتی رہی۔ مگر خان صاحب کی ٹیم میں نسلی غدار، نسلی نااہل، اور نسلی چور جو پشت درپشت چلے آرہے ہیں، بھی موجود رہے۔ کسی نے کیا خوب صدا لگائی کہ ہمیں نیا پاکستان نہیں وہی پرانا پاکستان چاہیے خان صاحب۔ تب وہ بات نامعقول معلوم ہوئی مگر آج کہتا ہوں وہ صاحب درست تھے ہمیں نیا پاکستان نہیں پرانا پاکستان چاہیے۔ کیوں؟

پرانے پاکستان میں پی آئی  اے کی جو شان تھی وہ پوری دنیا میں اعلی ٰ اور شاندار تھی۔ لیکن کرائے کے ان نئے قاتلوں (پائلٹوں) نے اس عزت کی رہی سہی دھجیاں بھی بکھیر دیں۔
1946 میں اوریئنٹ ائیرلائن برٹش راج میں پہلی مسلم ائیرلائن تھی جو محمد علی جناح کی درخواست پہ محترم مرزا احمد اسپہانی اور آدم جی حاجی داؤد نے بنائی تھی۔ پھر آزادی کے بعد 1955 میں اورئینٹ  ائیرلائن کو پاکستان ائیرلائن میں ضم کردیا گیا۔ پرانے پاکستان میں پی آئی  اے کی شان ملاحظہ تو کریں! پی آئی اے بوئنگ 707 ، 7 مارچ 1960 کو تجارتی خدمات میں شامل کرنے کے ساتھ جیٹ طیارے چلانے والی پہلی ایشین ایئر لائن بن گئی۔ تجارتی ہوائی جہاز کے ذریعے دنیا کی سب سے طویل نان اسٹاپ پرواز مکمل کرنے کے لئے 10 نومبر 2005 کو بوئنگ 777-200LR کا استعمال کیا۔ یہ پرواز ہانگ کانگ اور لندن کے مابین مشرق کے راستے پر 22 گھنٹے 22 منٹ تک جاری رہی۔ اور یہی نہیں پرانے پاکستان میں پی آئی   اے اس پائے کی ائیرلائن تھی کہ عہد حاضر میں دنیا کی بہترین ائیرلائن ایمریٹس ائیرلائن کے  بنانے میں نہ صرف کلیدی کردار ادا کیا بلکہ سٹاف ٹریننگ کے لیے پی آئی  اے کی خدمات بھی لی گئیں ۔ یہ تھی پرانے پاکستان میں پی آئی اے کی شان اور عظمت مگر افسوس صد افسوس اب نئے پاکستان میں پی آئی اے کی عزت کو جعلی ڈگری اور لائنسنسوں والے پائلٹس (کرائے کے قاتلوں) نے پامال کرکے تار تار کر چکے۔
میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ خان صاحب کے ہی دور میں یہ سب ہوا یقینا یہ لوگ پچھلے دور حکومت کی کارستانیاں ہیں۔ جتنا نقصان مشرف، نواز شریف اور زرداری نیاس وطن عزیز کوپہنچایا (اللہ اس سے پاکستان کہ عزت اور مقصد آزادی کی بحالی نیا  پاکستان بنانے میں نہیں بلکہ “خلافت پاکستان” میں مضمر ہے۔ ورنہ خدانخواستہ   وہ دن دور نہیں کہ آپ اپنے ہی نئے پاکستان کے خواب کی  قبر پہ اپنی ٹیم کو فاتحہ پڑھتے دیکھیں گے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *