خونِ خیر الرُسل سے ہے جن کا خمیر۔۔سائرہ خلیل

“پس اللہ چاہتا ہے کہ اے (رسولﷺ کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا مَیل (اور شک و نقص کی گرد تک) دور کردے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کردے” (33:33)
سورت احزاب آیت نمبر 33 میں “الرجس” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے لڑکھڑانا، مَیل یا شک و نقص کی گرد۔
الرجس یا لڑکھڑانا چار قسم کا ہے:
۱۔ طبیعت میں لڑکھڑانا یعنی عادات میں کسی قسم کی خرابی، برائی ، نقص، اخلاقی اعتبار سے کجی کمی یا خصلت میں خرابی
۲۔ عقل و فہم میں لڑکھڑانا یعنی کہ عقیدہ، فکر، سوچ، نظریہ یا ارادے میں کسی قسم کی خرابی
۳۔ عزم و شریعت میں لڑکھڑانا: شرعی اعتبار سے خرابی مثلاً کفر، شرک، گناہ یا کوئی بھی ایسا فعل جو شریعت میں ناگوار ہے۔
۴۔ ان تینوں میں لڑکھڑا جانا یعنی خرابی کے تمام پہلو پائے جائیں۔ وسوسہ ، غلط خیال، شدتِ صوت یعنی ایسی آواز میں بات کرنا جو دوسرے کے کانوں پر گراں گزرے، خیر کا عنصر نہ ہو، شر آجائے، سوچ میں متزلزل ہونا اورتابع نفس ہونے جیسی کیفیات کو بھی رجس کہتے ہیں۔

آیتِ تطہیر کا آخری حصہ جس میں قرآن کا اسلوبِ بیان اچانک تبدیل ہوتا ہے اور ازواجِ مطہرات سے ہٹ کر سیدۂِ کائنات فاطمہ الزہرا اور ان کے گھرانے کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔
سورۃ احزاب کی آیتِ تطہیر میں اللّہ تبارک اتعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ وہ چاہتا ہے ہر قسم کے عیاب و نقائص کو ازواجِ مطہرات اور اہلِ بیتِ اطہار سے دور فرما کر انہیں طہارتِ کاملہ عطا فرمائے۔ طہارت اور پاکیزگی عطا کرنا باری تعالیٰ نے اپنے ذمے لےلیا اور اللّہ جب کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو فرماتا ہے ؛
“کُن”
“فَیَکُون”
اہلِ بیت بشمول سیدۂِ کائنات کی طہارت اور پاکیزگی پر شہادتِ الہیٰ ہے۔ اور اللّہ کا یہ ارادہ ہر وقت اہلِ بیتِ اطہار کا سائبان رہے گا۔ آیتِ تطہیر میں اللّہ رب العزت نے ازواجِ مطہرات کو مکمل نسخہِ تقویٰ و پرہیزگاری عطا کرکے طہارت کو درجہِ کمال تک پہنچانے کا فیصلہ کردیا۔ جبکہ سیدہِ فاطمہ کو یہ پاکیزگی تاجدارِ کائنات ﷺ کے جسم کا ٹکڑا ہونے کی حیثیت سے عطا کی گئی ہے جو طہارتِ محمدی ﷺ کا حصہ ہے۔ لہذا کسی قسم کی برائی آپ رضی اللّہ عنہ کے پاس سے بھی نہیں گزر سکتی کیونکہ اللّہ نے آپ کی شخصیت ایسی کر دی ہے کہ اس کے اندر طہارت رکھ دی ہے۔ اب کسی قسم کے عیب یا نقص کا کوئی شبہ نہیں رہا کیونکہ اللّہ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے۔

جوشِ خطابت میں یا اپنی جلالی طبیعت کی وجہ سے کسی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ازواجِ مطہرات اور خاتونِ جنت میں عیب و نقائص ڈھونڈے۔
ہم سراپا معصیت ہیں۔ اللّہ پاک اہلِ بیت ِ اطہار کے صدقے ہمارے گناہوں کو درگزر فرمائے۔ آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *