انسان کی زندگی میں قوتِ فیصلہ کا کردار۔۔شاہد محمودایڈووکیٹ

SHOPPING
SHOPPING

زندگی میں کسی مقصد کے تعین و حصول یا زندگی کے کسی معاملے میں درپیش کسی مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس کی نشان دہی، ان کی بابت مہیا ہر ممکن معلومات کا اور حالات و واقعات کا تجزیہ کر کے کوئی فیصلہ کرنا، اس فیصلے پر عمل درآمد کے طریقہ و وسائل و متبادل طریقہ کار کا تعین اور فیصلے پر عمل درآمد کی صورت میں نکلنے والے مطلوب و غیر مطلوب نتائج کا سامنا کرنے کے مجموعی عمل کو “قوت فیصلہ” کہتے ہیں۔

آپ کے مشاہدہ میں ہو گا کہ پاک فوج میں ہر سال متعدد افسر ہی ایم اے کاکول سے پاس آوٹ ہو کر سکینڈ لیفٹیننٹ کے طور پر فوج میں شامل ہوتے ہیں۔ پاک سر زمین کے فوج میں شامل ہونے والے افسران کی بڑی تعداد خدمات سرانجام دے کر میجر کے عہدے یا لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ باقی رہ جانے والے افسران میں سے جو فل کرنل بنتے ہیں ان کی کالر پر ریڈ ٹیپ بھی لگتی ہے اور پھر بریگیڈئر بننے پر اگر پاک فوج کی کسی برگیڈ کی کمانڈ بھی ساتھ ملے تو گاڑی کے آگے سرخ پلیٹ پر ایک ستارہ آر گاڑی کے بونٹ پر ایک جھنڈا بھی لگتا ہے۔ اگلا مرحلہ میجر جنرل جس کی گاڑی کے آگے دو ستارے لگتے ہیں، پھر لیفٹیننٹ جنرل جس کی گاڑی کے آگے تین ستارے لگتے ہیں اور آخر میں فل جنرل جس کی گاڑی کے آگے چار ستارے لگتے ہیں اور فل جنرل جب تک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ نہیں بنا تھا فوج میں ایک ہی ہوتا تھا جو پاک فوج کا سربراہ ہوتا ہے۔ اب یہ ممکن ہے کہ کسی لیفٹننٹ جنرل کو ترقی دے کر فل جنرل بنا کر چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بنا دیا جائے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا چیئرمین فضائیہ یا بحریہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف کہ عام زندگی میں قوت فیصلہ کا کیا کردار ہے۔

انٹرمیڈیٹ کے بعد بہت سے نوجوان فوج میں کمیشن کے لئے اپلائی کرتے ہیں جن میں سے معدودے چند منتخب کر کے آئی ایس ایس بی کے لئے بھیجے جاتے ہیں جہاں سے مزید چھانٹی ہو کر گنتی کے نوجوان ہی ایم اے کاکول ٹریننگ کے لئے پہنچتے ہیں اور اگر وہاں کی ٹریننگ میں کامیاب ہو جائیں تو پاک فوج میں بطور سکینڈ لیفٹیننٹ کمیشن حاصل کر لیتے ہیں ورنہ وہاں سے بھی گھر کی راہ دکھا دی جاتی ہے۔

اب سکینڈ لیفٹیننٹ سے کوئی ایک ہوتا ہے جو جنرل کے عہدے تک پہنچتا ہے۔ اور کوئی مجھ سے پوچھے کہ وہ کون سی بنیادی خصوصیت ہے جو ایک عام سے لڑکے کو پہلے سکینڈ لیفٹیننٹ اور پھر جنرل کے عہدے تک پہچانی ہے تو وہ بنیادی خصوصیت ہے “قوت فیصلہ”۔ آپ سب چونکہ سرد و گرم چشیدہ و جہاندیدہ ہستیاں ہیں اس لئے صرف چند مثالیں پیش کروں گا؛

1۔ قوت فیصلہ کا بروقت استعمال ہی تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح رح نے اپنی ٹی بی جیسی مہلک بیماری کو صیغہ راز میں رکھنے کا ایسا موثر انتظام کیا کہ قیام پاکستان تک یہ راز انگریز پر عیاں نہ ہو سکا اور تقسیم ہند بروقت ممکن ہو پائی۔ انگریز مورخین کی یہ بات صفحہ قرطاس پر موجود ہے کہ انگریز سرکار کو اگر قائد اعظم محمد علی جناح رح کی ٹی بی جیسی مہلک بیماری کا علم ہو جاتا تقسیم ہند موخر کر دی جاتی۔

2۔ پاکستان اور بھارت کی 1965ء میں ہونے والی جنگ میں پاک فوج کے ایک افسر (جو بعد ازاں جنرل بنے اور بعد از ریٹائرمنٹ وزیر داخلہ بھی رہے) لیفٹننٹ کرنل نصیر اللہ بابر نے غلطی سے اپنا ہیلی کاپٹر بھارتی فورسز کے کیمپ کے قریب بھارت کے ایک علاقہ میں لینڈ کر لیا تھا۔ جب انہیں اس بات کا ادراک ہوا تو حواس کھونے کی بجائے انہوں نے اپنی انتہائی حاضر دماغی سے اپنی قوت فیصلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو حکم دیا کہ پاکستانی فوج نے تمہیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے لہٰذا اپنے ہتھیار ڈال دو۔ بھارتی فوج کے جوانوں نے ہتھیار ڈال دئے اور لیفٹننٹ کرنل نصیر اللہ بابر نے 70 بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بنا لیا۔ اس واقعہ سے “قوت فیصلہ” کے فوری و برمحل استعمال کا فائدہ عیاں ہے۔

3۔ پاکستان کی سیاست میں قطع نظر اس کے کہ کون درست اور کون غلط تھا نواز شریف اور جنرل مشرف کی اعصابی جنگ میں جنرل مشرف اپنی قوت فیصلہ کی وجہ سے بازی لے گیا۔

4۔ موجودہ کورونا وائرس کی وباء میں چین اور نیوزی لینڈ کی حکومتوں اور عوام کی قوت فیصلہ ہی کورونا وائرس کو عام ادمی کی زندگی سے شکست دینے میں کامیاب ہوئی۔

5۔ جاپان پر دوسری جنگ عظیم پر دو ایٹم بم گرائے گئے۔ جاپان کی تباہی کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان کی سپر پاور بننے کا سفر جاپانی قوم کی زندگی میں مقصد کے تعین اور قوت فیصلہ کے کردار کی روشن مثال ہے۔

6۔ عام زندگی میں ہر انسان کو بہت سے مواقع پر فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ تعلیم کے معاملات ہوں یا روزگار کے، شادی بیاہ کے معاملات ہوں یا خانگی مسائل کے حل کے ۔۔۔۔ کچھ لوگ تو فیصلہ لے ہی نہیں پاتے اور عام طر پر ایسا ان کی پرورش کے دوران ملنے والے ماحول کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کچھ لوگ جلدبازی میں فیصلہ کرتے ہیں اور کچھ فیصلہ سازی میں انتہائی تاخیر کرتے ہیں۔ متوازن طریقہ یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق دستیاب وسائل اور حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے معاملے سے متعلق لوگوں کی مشاورت سے مناسب وقت میں فیصلہ لے لیا جائے۔ مثال یوں لیجئے کہ ایک انسان تعلیم مکمل کر کے 23 سال کی عمر میں کاروبار یا نوکری میں قدم رکھ چکا ہے اور شادی کے مواقع میسر ہونے پر بروقت فیصلے کے تحت شادی کر لیتا ہے اور اللہ کریم اسے اولاد سے نواز دیتا ہے تو پچاس سال کا ہونے تک اس کی اولاد کی کم از کم تعلیم مکمل ہو چکی ہو گی ورنہ تاخیر سے شادی ہونے پر بندہ قبر میں پاوں لٹکائے ہوتا ہے تو بچے اسکول پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

7۔ اسی طرح تعلیم مکمل ہونے پر یا اپنے حالات و واقعات کے ساتھ تعلیم کے دوران نوکری کر لینے والے بہت اچھے رہتے ہیں۔ مثال اگر کوئی شخص سرکاری نوکری کا رحجان رکھتا ہے اور گزٹڈ افسری نہیں ملتی اور وہ کسی نان گزٹڈ نوکری کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بعدازاں اس کے پاس افسری حاصل کرنے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ ایک تو اسے عمر میں ریلیکسیشن مل جاتی ہے دوسرا اس بندے کو نوکری کے اطوار کا علم ہو چکا ہوتا ہے۔ میرا ایک گریجویشن کا کلاس فیلو جو تعلیم چھوڑ چکا تھا، جب ایک محکمہ میں میری قانون کے شعبہ میں کنٹریکٹ افسر کے طور پر تعیناتی ہوئی تو جب اسٹینو گرافر کی نوکریاں نکلیں تو میں نے اس دوست سے تذکرہ کیا تو اس نے اس نوکری کے لئے درخواست دی اور الحمدللہ اس کی تعیناتی کو گئی شاید 12 یا 14 گریڈ تھا۔ میرے مشورے پر اس نے تعلیم بھی دوبارہ شروع کر دی اور ہماری افسری کے دوران ہی حکومتی پالیسی آئی تو گریڈ 16 تک کے ملازمین کی نوکری ہمارے ہاتھوں میں ہی پکی ہو گئی۔ اور میرے اس دوست کی نوکری بھی پکی ہو گئی۔ بعدازاں میری کنٹریکٹ جاب سپائن انجری کی وجہ سے ختم ہو گئی اور میرا وہ دوست الحمدللہ تعلیم کے میدان میں ماسٹرز اور بعدازاں ایل ایل بی اور پھر ایل ایل ایم بھی کر گیا۔ اور اللہ کریم کا شکر کہ اب وہ گزٹڈ افسر بھی بن چکا ہے الحمدللہ ۔ اس کی قوت فیصلہ نے اس کو آج معاشرے کا ایک اہم افسر بننے کی راہ ہموار کی۔ اور ہاں اس نے بروقت شادی کر لی تھی۔ اس کے بچے بھی ما شاء اللہ اب اچھی تعلیم و تربیت کے حامل ہیں۔

8۔ عام آدمی سے پاکستان کا صدر بننے تک مرحوم غلام اسحاق خان کی زندگی بھی ایک مثال ہے۔

9۔ ادیبوں میں ممتاز مفتی و اشفاق احمد خان نے قوت فیصلہ کے جو ثمرات دیکھے ان سے ہم سب واقف ہیں۔

10۔ عام سپاہی بھرتی ہو کر پاکستان آرمی کے سربراہ کے عہدے تک پہنچنے والے کی زندگی بھی قوت فیصلہ کی روشن مثال ہے اور یہ مثال پاک بحریہ میں بھی موجود ہے۔ ان افسران کے نام اس موضوع و تحریر میں دلچسپی لینے والے معلوم ہوں تو لکھ سکتے ہیں۔ معلوم نہ ہوں تو تلاش کر کے لکھ سکتے ہیں۔

11۔ زمانہ وکالت میں ہمارے ایک منشی / کلرک مطالعہ کے شوقین تھے۔ ہمارے مشورے پر پہلے بی اے پھر وکالت کی تعلیم حاصل کی اور ان کا بروقت فیصلہ ہی تھا کہ وہ آج ایک کامیاب وکیل ہیں۔

SHOPPING

سب احباب کی، خوشیوں، خوشحالی اور کامیابیوں کے لئے دعا گو ۔

SHOPPING

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *