معرفت، ادراک اور پیر کامل ( حصہ سوئم) ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہ معرفت کی باتیں ہیں۔ ہم آپ جیسے کمی کمین کی تخیلاتی حد نگاہ سے باہر کی باتیں۔ ہماری سوچ لہسن ادرک تک محدود رہتی ہے۔پیر کامل ہیں کہ ادراک کا عملی نمونہ۔ پیر کامل پر وہ تمام حقائق وقت سے پہلے آشکار ہوجایا کرتے ہیں جو روحونیت سے ادنی سا تعلقرکھنے والا شخص اپنی موت تک نہیں جان پاتا۔یہ عام سا فلو ہے۔ پیرِ کامل البتہ موت کے بعد بھی عالم برزخ میں پیغام کا بقیہحصہ پہنچانے پر قادر رہتا ہے۔لوگ اسے عام سا فلو سمجھتے ہیں۔

عام انسان کو کئی حقائق کا ادراک بعد از واقعہ موت عالم برزخ میں ہوا کرتا ہے۔ مثل اطمینان و سکون جس کا ہر فرد زندگی بھرمتلاشی ہے، رہے گا، پیر کامل کو بذریعہ معرفت ادراک حاصل ہوچکا کہ کہاں مل پائے گا۔ پیرِ کامل دہائیوں اس سکون کی تلاش میںاپنے مقلدین کے لیے قائدانہ صلاحیتوں کا اظہار کرتا رہتا ہے تاہم اسمِ اعظم کی طرح اس سکون کو بھی مناسب زمان و مکاں پرظاہر کرتا ہے، پھر مریدین بیشک یہ کیوں نہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ اب تو بہت دیر ہوچکی۔سکون صرف قبر میں ہے۔

پیرانِ کامل کی یہ پیڑھ ہمت کے بلند ترین پہاڑوں کو سر کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ مریدین پھر چاہے کس قدر پست ارادہ کیوںنہ ہوں پیرِ کامل ان کی ڈھارس باندھنے کے لیے ہمہ وقت دستیاب رہتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پیرِ کامل معرفت کے اسدرجے پر فائز ہوا کرتا ہے جہاں مریدین کو ہمت کی ضرورت نہ ہو تو پیرِ کامل حالات کا گولہ گھمانے پر قادر ہوتا ہے۔ حالات کی تندیو تیزی سے گر مریدین ناآشکار ہوں تو پیر حالت بدل دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔ ایک دن ایسا آ کر رہتا ہے جب مرید گھبرااٹھتا ہے۔ اب وقت ہوتا ہے پیرِ کامل کی نصیحت کا۔آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

پیرِ کامل کے جمال پر بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے چراغ لے کر خورشید کی راہنمائی کی جاوے۔ باوجود اس کے کہ عالم پیرِ کامل کےحسن و جمال کا شاہد ہے، اس بابت لب کشائی نہ ہونا زیادتی ہوگی۔ پیرِ کامل حسن کا پیکر، سادگی کا شاہکار ہوتے ہیں۔ پیرِ کاملکاملیت کا کمال ہوتے ہیں۔ جھلک کی زیادتی گر ہونے لگے تو زنانِ مصر کے مصداق چھری سے ہاتھ کاٹنے کا سامان ہوتے ہیں۔جہاں میں جس قدر مخالفین پیدا ہوجاویں، بہرحال بنی نوع انسان ایک نہ ایک دن پیرِ کامل کے کمال کا معترف ہونے پر مجبور ہوجاتیہے۔ہینڈسم تو ہے۔

جہاں ایک جانب پیرِ کامل کا جمال اپنے کمال کا مظہر ہوتا ہے، وہیں صاحبِ موضوع کا جلال بھی قابل دید ہوا کرتا ہے۔  قابل دیدہونے کے باوجود پیرِ کامل اظہار جلال کے وقت بے دید ہونے سے بالکل گریز نہیں کرتے۔ پیر طریقت کا جلال ان کے ترس پرشاذ ہی غالب ہوتا ہے خصوصاً جب معاملہ دور حاضر کے بظاہر شریف نظر آنے والے شیاطین کا ہو۔ پیرِ کامل ایک بار جلال کا عندیہدے دیں تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بشمول ان کی اپنی کے، معتوب کو عتاب سے نہیں بچا سکتی۔میں انہیں نہیں چھوڑوں گا۔

پیرِ کامل انصاف کا استعارہ ہوا کرتا ہے۔ معرفت انہیں یہ ادراک دیتا ہے کہ کب کہاں کون سے معاملے میں مجرم کون ہے۔ یقیناً یہعلم و عرفان ہی پیرِ کامل کو منصفین اعلی سے کہیں بڑھ کر انصاف کرنے والا بناتا ہے۔ ظلم کے خلاف جس لمحے پوری کائناتخاموش سانپ سونگھنے بیٹھی دکھائی دیتی ہے، پیرِ کامل عین اسی لمحے اپنی حق پرستی اور انصاف پسندی کا نعرہ لگا کر خود کو حق سچہونے پر برہان ثابت کرتا ہے۔ پھر بیشک خلقت کو انصاف ہوتا دکھائی نہ دے، پس پردہ انصاف ہوکر رہتا ہے۔ ضرورت فقط اسبات کی ہوا کرتی ہے کہ مریدین اس ان دیکھے انصاف پر ایمان اور یقین محکم رکھیں، پھر چاہے انصاف ہوتا دکھائی دے یا نہ دے۔پیر کامل منصف تھے، ہیں اور رہیں گے۔قطر سے واپسی پر سانحہ ساہیوال کے ملزمان کو کیفرکردار پہنچاؤں گا۔

خداوند پاک اپنے چنیدہ بندوں پہ خصوصی کرم کرتا ہے۔ جس پر اس پاک ذات کی نظر کرم ہو وہ دنیاوی خداؤں کی نظروں میں بھیچنیدہ بن جایا کرتا ہے۔ پیرانِ کامل خداوند پاک کے اسی خصوصی کرم کے باعث کئی معجزات کے حامل بن جایا کرتے ہیں۔ پیرِکامل کی ایک معرفت بھری نظر باہر سے اندر، اندر باہر دیکھنے کی اہلیت حاصل کر لیا کرتی ہیں۔ یہی وہ ادراک ہے جو پیرِ کامل کےذیلی انتخاب کا مظہر ہوا کرتا ہے۔ پیرِ کامل اپنی معرفت کی بنیاد پر کسی بھی دیہاتی کو پوری امارت کی گدی عطا کردیا کرتے ہیں اورکسی بھی امیر کو دیہاتی مجرم بننے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پیرِ کامل اپنی دنیا آپ پیدا کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے انہیںکسی دوائی کسی ٹیکے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن مبادا ایسا کوئی انجیکشن لگ بھی جائے تو پھر پیر کی دنیا اور ہی طرح بدلتی ہے۔انجیکشن کے بعد نرس مجھے حور نظر آنے لگی۔

علم پیرِ کامل کی میراث اور پیرِ کامل علم کا منبع ہوتا ہے۔ علم کے یہ سرچشمے پیرِ کامل کی زبان سے لاشعوری طور پر جاری ہوجایا کرتےہیں۔ اس علم میں کسی ایک قسم کی تفریق نہیں ہوتی بلکہ کل مضامین میں مہارت پیرِ کامل کی عطاء ہوتی ہے۔ ایک پیرِ کامل زندگیکے فلسفے کو جس طرح بیان کر سکتا ہے مہان ترین فلاسفر بھی اس کے عشر عشیر تک نہیں پہنچ پاتے۔ پیرِ کامل وقت کے حسابسے اپنی حکمت عملی وضع کرنے کا اہم ترین سبق عالم انسانی کو سکھانے کے درپے رہتے ہیں۔ اس نیک عمل کے دوران لیےجانے والے فیصلے انسانیت کے لیے مشعل راہ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ پیرِ کامل اپنے علم و عمل سے اپنی مستقل مزاجی کی حجت ہواکرتے ہیں۔یو ٹرن عظیم لیڈر کی نشانی ہوتی ہے۔

علماء میں اس بات پر اختلاف ہے کہ تصوف کی راہ میں معرفت پالینے والا شخص کس حد تک علم غیب کا ادراک رکھتا ہے۔ اسبابت کئی آراء ہیں۔ مستند رائے البتہ اس طبقے کی ہے جو درمیانی راہ نکال لینے کا ماہر ہوا کرتا ہے۔ پیرِ کامل کے معاملے میں اسطبقے کی رائے یہ ہے کہ خداوند پاک پیرِ کامل کے ادراک واسطے لمحہ بہ لمحہ غیب کا علم کھولتا رہتا ہے۔ ایسے میں وسیلہ انتہائی اہمیتحاصل کر لیتا ہے۔ جو علم غیب کسی بھی حکمت کے باعث پیرِ کامل پر غیب سے براہ راست نازل نہیں ہو سکتا، خداوند پاکاس کے لیے ایسا وسیلہ نکالتا ہے کہ خود پیرِ کامل کا ایمان بھی خدا، اس کے علم اور اس کے وسیلے پر مضبوط تر ہوجایا کرتا ہے۔مجھے ڈالر ریٹ کا ٹی وی سے پتہ چلا۔

معرفت کے کشف پیرِ کامل کے لیے ادراکِ عام کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ تمام تر انسانیت اپنے علم پر ناز کرتی ہے۔ پیرِ کامل کیزبان کی البتہ نحیف سی سرسراہٹ بھی بنی نوع انسان کے تمام تر علم کو جھٹلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ پیرِ کامل کا علم سپریمہوتا ہے۔ پیرِ کامل کی بات حرفِ آخر ہوا کرتی ہے۔ معرفت کی کثرت کے باعث پیرِ کامل بسا اوقات ایسے رموز بھی انسانیت پہآشکار کر دیا کرتے ہیں جنہیں ہضم کرنا انسانیت کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ مریدین کو خبر ہو کہ ایسے میں ان پر خبردار رہنا واجبہے۔ دنیا کچھ بھی کہے، پیرِ کامل کی زبان سے نکلی ایک ایک بات کائناتی حقیقت کا درجہ رکھتی ہے۔ مریدین پر فرض ہے کہ پیرِ کاملکی بیان کردہ حقیقت کے حق میں دلائل ڈھونڈیں۔ بہرحال یہ کام پیرِ کامل کا نہیں ادنی درجے کے مرید کا ہوا کرتا ہے۔حضرتعیسی کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔

پیرِ کامل زمان و مکاں کی قیود سے آزاد ہوا کرتا ہے۔ دنیا اس کے سامنے ایسے ہوتی ہے جیسے ایک عدد ہاتھ کے حجم کا کرہ۔ پیرِ کاملاس کرے کو ہاتھ میں پکڑ کر گھماتا ہے تو جہاں کا اپنے مدار میں ایک ایک چکر پیرِ کامل کو جیسے مذاق سا محسوس ہوتا ہے۔ یہ بڑےکرم کی باتیں ہیں۔ یہ معرفت کی باتیں ہیں۔ عین ممکن ہے آپ انگشت بدنداں ششدر بیٹھے ہوں مگر پیرِ کامل پر آپ کا ایمان راسخہونا چاہئے۔ ایک شدید قسم کے سخت ایمان کے عدم میں آپ تشکیک کے مرتکب ٹھہر سکتے ہیں۔ یاد رہے، تشکیک کسی بھی مرید کیبے راہ و روی کے لیے زہر قاتل ہے۔ پس اے مریدین، آپ پیرِ کامل کے فرامین کی روح تک پہنچیں کہ اس کے بغیر ولی اللہوقت کی معرفت کا اعتراف و ادراک ناممکن ہے۔ یہ دنیا ایک گولا ہے جو پیرِ کامل کی ہتھیلی پر گھوم رہا ہے۔ وہ جس نگاہ سے اسےدیکھ رہا ہے، مریدین کے زیر مشاہدہ زمان و مکان اس پر حجت نہیں رہتے۔جرمنی اور جاپان پڑوسی ہیں۔

کچھ مریدین اس شش و پنج میں مبتلا رہتے ہوئے جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں کہ پیرِ کامل نجیب الطرفین ہیں یا نہیں۔ اےمریدین، یہ بات سن لو اور کان کھول کر سنتے ہوئے پلے اور پلو سے باندھ لو۔۔ پیرِ کامل کا حسب نسب جو بھی ہو، وہ نجیبالطرفین ہی کہلائے جانے کے مستحق رہتے ہیں۔ جہاں یہ ایک حقیقت ہے وہیں اے مریدینِ پیرِ کامل ایک معجزہ بھی سن لو۔۔ پیرِکامل جب چاہیں جہاں چاہیں اپنے حسب نسب میں تغیر پر بھی قادر ہیں۔ اے مریدین، ہمارے پیرِ کامل صحیح معنوں میں ایک کاملپیر ہیں۔ وہ حال میں رہ کر مستقبل کو بدلنے پر قادر ہیں، مستقبل میں پہنچ کر حال تبدیل کرنے پر قادر ہیں، اور وہ حال میں رہ کرماضی کے کسی بھی وقوعے کو الٹ کر دینے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔میں آدھا مہاجر بھی ہوں۔

پیرِ کامل کی معرفت و ادراک کے ذکر پر صفحات کے صفحات سیاہ کیے جا سکتے ہیں مگر ایسا کرنے سے خوف ہے کہ اگلا موقع نہ ملپائے گا۔ ذکر (تذکرے والا) کی یہ محفل آج کے لیے اختتام پذیر ہوتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ مرید قارئین کا ایمان بھی پیرِ کامل کیطرح تر و تازہ ہوچکا ہوگا۔ رہی بات پیرِ کامل کی پہچان سے بہرہ مند نہ ہونے کی، تو خبث کی یہ بوریاں ناصرف نرکھ کا ایندھن بنیں گیبلکہ میرا پیرِ کامل ان خبیثوں کے لیے یہ دنیا ہی نرکھ بنا ڈالے گا۔ انشاءاللہ۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *