• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا پلازما عطیہ کیا جانے سے متعلق سوالات کے جوابات۔۔ڈاکٹر احمد فراز تارڑ

کرونا پلازما عطیہ کیا جانے سے متعلق سوالات کے جوابات۔۔ڈاکٹر احمد فراز تارڑ

یہ آگاہی پوسٹ وائی ڈی اے لاہور جنرل ہسپتال/پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز لاہور کے فورم سے ڈاکٹر احمد فراز تارڑ نے تیار کی ہے جو “کوویڈ۔ 19 کونولیسنٹ پلازما پروجیکٹ پاکستان” سے منسلک ہیں۔

سوال ۱: کون پلاذما عطیہ کر سکتا ہے؟
‏A: ایک ایسا شخص جو (COVID) کورونا وائرس کا شکار ہوا لیکن بعد میں صحتیاب ہوگیا ہو اور اس کا گزشتہ/آخری پی سی آر ٹیسٹ منفی ہو ئے 14 دن ہو گئے ہوں اور اس کی علامات ٹھیک ہو ئے  کم از کم 14 دن گزر چکے ہوں۔

سوال ۲: پلازما عطیہ سے پہلے ڈونر کے کن ٹیسٹوں کا ہونا ضروری ہے؟
ج: ڈونر کو اس کی (COVID) کرونا IgG ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہے اور اگر ڈونر کے خون میں مطلوبہ مقدار میں اینٹی باڈیز ہیں تو وہ عطیہ کرنے کا اہل ہے۔
دوسری بیماریاں جیسے (ہیپ بی ، ہیپ سی ، ایچ آئی وی ، وی ڈی آر ایل ، ایم پی ، آر ایف ٹی ، ایل ایف ٹی) کی اسکریننگ بھی ضروری ہے۔ یہ تمام ٹیسٹ ایک سپیشلائزڈ سنٹر پر کیے جائیں گے جہاں یہ پلازمہ عطیہ کیا جانا ہوگا۔

سوال ۳: کیا ڈونر تمام ٹیسٹوں کے لئے ادائیگی کرے گا؟
جواب : نہیں! جو اسپتال اس پروجیکٹ کو چلارہا ہے وہ ان کے یا وصول کنندہ فریق ان اخراجات کی ادائیگی کرے گا۔ اگر مریض جو کہ وصول کنندہ ہے، وہ اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تو مریض کے تمام ٹیسٹ مفت کیے جائیں گے۔

سوال ۴: پاکستان میں فی الحال کہاں کہاں پلازما عطیہ کیا جارہا ہے؟
جواب: اس کو یو ایچ ایس لاہور، این آئی بی ڈی کراچی، پی ائی ایم ایس اسلام آباد، ار آئی یو راولپنڈی میں ٹرائیل کی حیثیت سے پیش کیا جارہا ہے۔
لہذا ڈونر کو جسمانی طور پر پلازما عطیہ کے لئے ان سنٹرز پرجانا پڑتا ہے۔ اگر کسی کیلئے ان سنٹرز پر پہنچنا مشکل ہو تو انہیں وہاں آنے جانے کی تمام سہولیات مہیا کی جائیں گی۔

سوال ۵: ڈونر کا کتنا خون لیا جائے گا اور کیا یہ عمل ڈونر کیلے محفوظ ہے؟
ج: معمول کے مطابق خون کے عطیہ کی طرح ، 350-500 ملی لیٹر خون نکالا جائے گا۔ اب تک کسی بھی ڈونر میں عطیہ کرتے وقت یا اس کے بعد کوئی پیچیدگی سامنے نہیں آئی

سوال ۶: پلازما منتقلی کے لئے مریض کی شمولیت کا پیمانہ کیا ہے؟
‏A:
1. تصدیق شدہ کوویڈ 19 مریض، جن کی تصدیق آر ٹی پی سی آر لیبارٹری ٹیسٹوں سے ہوئی ہے۔
2.کوویڈ ۱۹کی اعتدال سے شدید یا شدید علامات۔
3. معالج کی طرف سے مریض کے حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاذمہ کی درخواست۔

عموماً درمیانے یا شدید کوویڈ 19 کا ، مندرجہ ذیل خصوصیات میں سے کسی کی موجودگی سے تعین کیا جاتا ہے،
۱- سانس کا اکھڑنا (SOB)
‏ii. سانس لینے کی رفتار ایک منٹ میں 30 مرتبہ سے زیادہ.
‏iii. خون کی آکسیجن ≤93٪ سے کم۔
‏iv. پھیپھڑوں کا 24 سے 48 گھنٹے میں 50 فیصد سے زیادہ متاثر ہونا.

سوال ۷: COVID پلازما منتقلی کے لئے نااہل ہونے والے معیار کیا ہیں؟
‏A:
1. سانس لینے میں ناکامی (Respiratory Failure)
2. بلڈ پریشر کا 90/60 سے کم ہونا
3. ایک سے زیادہ اعضاء کی خرابی (Multi Organ Failure)

‏Q8: وصول کنندہ کی کونسے لیبارٹری ٹیسٹوں کی ضرورت ہے؟
‏A: پلازما منتقلی کی درخواست کے وقت ضروری ٹیسٹ.
1. بلڈ گروپ
2. پروٹرمبن ٹائم (پی ٹی) انٹرنیشنل نارملائزڈ تناسب (INR)
3. (اے پی ٹی ٹی)
‏4. D-dimer
5. فریٹین (S. ferritin)
6. سی ری ایکٹو پروٹین (CRP)
7. خون کی مکمل گنتی (CBC)
8. گردوں کے ٹیسٹ، رینل پروفائل (RFT)
9. دل (کارڈیک) کی حیثیت
10. مریضوں کی موجودہ حالت

اگر آپ کورونا بازیاب شخص ہیں ، تو کوئی بھی مریض اور اس کے اہل خانہ کی حالت آپ سے بہتر نہیں سمجھ سکتا ہے۔ پلازما ڈونر بنیں، زندگی بچائیں۔ اور اس صدقہ جاریہ میں ہمارا ساتھ دیں.

براہ کرم (COVID) کرونہ بازیاب مریضوں کی حوصلہ افزائی کے لئے معلومات پھیلائیں۔

مزید معلومات کے لئے۔
ڈاکٹر ارسلان بٹ 03368076226
فوکل پرسن “کوویڈ۔ 19 کونولیسنٹ پلازما پروجیکٹ پاکستان”

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *