ذمہ دار کون؟ میں اور آپ۔۔معاذ بن محمود

قدر اور خیال کیجیے اللہ کے ان تحفوں کا۔ یہ معصوم ہیں۔ اپنا خیال خود نہیں رکھ سکتے۔ اور آپ کے علاوہ ان کا کوئی خیال نہیں رکھ سکتا۔ درندے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ وہاں جہاں کا خادم اعلی شوباز شریف ہو اور وہاں بھی جہاں کا امیر شیخ محمد بن راشد المکتوم ہو۔ اللہ نے ایسے ہی اپنے حقوق پہ بندوں کے حقوق کو ترجیح نہیں دی۔ عمرے پہ جانا ہو یا حج پہ، انہیں ساتھ لے کر جائیے۔ اکیلا یا کسی کے آسرے پہ مت چھوڑیے۔ آپ کے بچے آپ کی اور فقط آپ کی ذمہ داری ہیں۔ ان کے بارے میں پہلا سوال آپ ہی سے سوال ہوگا۔ یہ معصوم صرف ماں یا باپ کی راتیں سفید کرتے ہیں، لہذا کوئی چچا، تایا، ماما ان سے وہ محبت رکھ ہی نہیں سکتا جو ماں یا باپ رکھ سکتے ہیں۔ شیطان دنیا میں خدائے بزرگ و برتر کے بندوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ کیوں آپ اس کی طاقت کو ہلکا لیتے ہیں؟

ارد گرد نظر ڈالیے۔ بچوں کے ساتھ جنسی درندگی جب جب اور جہاں جہاں ہوئی وہاں والدین کی لاپرواہی لازمی ثابت ہوگی۔ ایک گھٹن زدہ معاشرہ جہاں جنسی بھوک مٹانے کے حلال یا حرام طریقوں پہ پابندی ہو، جہاں بے زبان جانوروں کا جنسی آسودگی کا شکار ہونا ایک معلوم فعل ہو، جہاں حلال شادی کے لیے لاکھوں روپے درکار ہوں، اور جہاں کی خوراک اور آب و ہوا کی وجہ سے سن بلوغت نسبتاً جلد حاصل ہوتا ہو، وہاں اپنی اولاد کے معاملے میں آپ اپنے سوا کسی پہ کیونکر بھروسہ کریں گے؟

یہ بھی پڑھیں محترم فاروقی صاحب اور اسلامسٹ کا بیانیہ۔۔عامر کاکازئی

ترقی یافتہ ممالک میں جنسی گھٹن اس قدر نہ ہونے کے باوجود جنسی مجرم کی سخت ترین نگرانی کی جاتی ہے۔ اس پہ سیکس ایجوکیشن جو معصوموں کو بھی کسی قدر ذہنی طور پہ تیار کر دیتی ہے کہ چچا یا ماموں اگر گود میں بٹھانے پہ اصرار کرے تو اسے سختی سے منع کیا جائے۔ ہماری طرف تو حالات ہی الٹ ہیں۔ جانے کتنے جنسی درندے معاشرے میں کھلے عام پھر رہے ہیں۔ اس پہ ہمارا اپنے قریبی رشتہ داروں پہ اندھا بھروسہ۔ پھر بچے بھی ڈرا دھمکا کر ایسے بڑے کیے جاتے ہیں کہ فرشتہ صفت خالو کے بارے میں زبان بھی نہ کھول پائے۔ میں حقیقتاً ایک ایسی لڑکی کو جانتا ہوں جس سے اس کا سگا خالو منگیتر سے گپ شپ کے بہانے جنسیت سے بھرپور بکواس کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا، اور لڑکی خالو کے شریف النفس مشہور ہونے کے باعث تمام بکواس سننے اور سہنے پہ مجبور تھی۔ ایک باپ ہوتے ہوئے میں ببانگ دہل کہتا ہوں: ایسے تمام واقعات کی اولین ذمہ داری والدین پہ ہے۔

ریاستی نمائندگان سے نفرت کا رواج ہے، فیشن ہے لہذا یہ نفرت تو ہم ختم نہیں کروا سکتے۔ نفرت کرنے والے کی سزا ویسے بھی اپنی ہی آگ میں جلنا ہے سو جلتے رہیں لیکن دلائل کی بنیاد پہ بات کرنا ضروری کے کہ ریاست اس تمام مسئلے میں کہاں تک ذمہ دار ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے عوام کا تحفظ لیکن کئی وجوہات کی بنا یہ تحفظ کوئی بھی ریاست سو فیصد یقینی نہیں بنا سکتی۔ پاکستان ترقی پذیر ممالک میں سے ایک ہے۔ ٹیکس چور عوام بیشک امیدیں جتنی بھی رکھے یہ بات طے ہے کہ حکومتی وسائل اتنے نہیں کہ ہر گلہ ہر محلے میں سی سی ٹی وی کیمرے لگا کر مانیٹر کیا جائے۔ دوسری بات یہ کہ حفاظتی فرائض وہاں ختم ہوجاتے ہیں جہاں سے آپ کی پرائیویسی شروع ہوتی ہے۔ لکشمی چوک عوامی گذرگاہ ہے۔ یہاں کوئی شخص کسی بچے کا ریپ نہیں کر سکتا۔ ایسا کرنے کے کیے اسے پرائیویسی والی جگہ چاہیے۔ حکومت آپ کے بیڈ روم میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔ حکومت آپ کو گائڈ کر سکتی ہے کہ بچوں کے معاملے میں سگے رشتہ داروں پہ بھی بھروسہ نہ کریں۔ زینب کی ویڈیو دیکھ لیں۔ جس سکون کے ساتھ ملزم کا ہاتھ پکڑے جارہی ہے ہو نہیں سکتا کہ کوئی اجنبی ہو۔

ابو ظہبی میں قاری حنیف ڈار صاحب کے ایک شاگرد کو چند ماہ پہلے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ مجرم بچے کا ماموں۔ ریاست آپ کی جانب سے دیے گئے ٹرسٹ کے آگے بے بس ہے۔ ہاں جرم ہونے کے بعد جب آپ کا سر گھومتا ہے تب ریاست آپ کے ساتھ مل کر تفتیش کرتی ہے اور مجرم ڈھونڈ نکالتی ہے۔ پولیس سے آپ کیا امید رکھتے ہیں؟ ایسا کوئی بدقسمت واقعہ ہونے کے بعد کل نہیں تو پرسوں پولیس ایسے درندے کو پکڑ تو لے گی لیکن کس قیمت پر؟ ایک معصوم کی موت اور اس پہ نام نہاد سیاسی احتجاج؟ حکومت نے کہا تھا بچی گھر چھوڑ کر عمرہ کرنے جاؤ؟ اس پہ دو اور اموات، پھر لاشوں پہ سیاست، پھر میڈیا کے چسکے، اور ان سب کی آڑ میں اپنے سیاسی خداؤں کی حمد و ثناء اور دوسروں کے سیاسی شیاطین پر تبرا؟ بھیا کس سمت گامزن ہیں آپ؟ والدین غیر ذمہ دار، معاشرہ بے حس، میڈیا چسکے باز اور ریاست نااہل؟ مجھے یہ بھاشن مت دیجیے گا کہ کڑی سزائیں دے کر جرم پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔ سعودیہ اور ایران سے زیادہ کڑی سزائیں کون دیتا ہے؟ یہ جرائم وہاں بھی ہوتے ہیں۔ کم کیونکہ وہاں کے والدین ہماری طرح اندھا اعتقاد نہیں کرتے۔

میں نے اس معاملے میں سیاست نہیں کرنی۔ خون آشام بے حس موجود ہیں میری ٹائم لائن پہ جو یہاں بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ اس معاملے میں سیاست یا ضد کرنا نیچ ترین حرکت ہے۔ میرے بھی دو بچے ہیں۔ ساڑھے آٹھ سال اور ساڑھے چھے سال کے۔ میں نے آپ کو اپنے احساسات سے آگاہ کیا۔ آپ کی مرضی ہے بین کریں یا اپنی اصلاح کریں۔ اور اگر آپ نے سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہی کرنی ہے تو تیسرا آپشن مجھ پہ لعنت ملامت کا بھی موجود ہے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *