یوم الحشر من الظالمین۔۔منصور ندیم

مرد بذبان کٹھ ملائیت

(اول منظر )

زلزلہ کی ابتدائی کیفیت اور جھٹکوں سے ہی دہشت زدہ ہو کر دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول گئیں تھیں ، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوگئے، اور صور پھونکنے کی چیخ اور زلزلے کی شدّت دم بدم بڑھتی چلی جارہی تھی، ہر ذی روح پر موت کی کیفیت بڑھنے لگی، حتی کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی جاندار زندہ نہ بچا ، زمین پھٹ گی ، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اُڑتے پھر رہے تھے ، ستارے اور سیارے ٹوٹ کر گر پڑے، سورج کی روشنی فنا ہوگئی تھی، پورا عالَم تیرہ و تار ہو گیا، آسمانوں کے پرخچے اُڑ گئے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی گئی تھی۔ ساری دنیا کی ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھادیا گیا ، اب میکائیل، جبرائیل ، اسرائیل اور آخر کار سب کی روحیں قبض کرنے والا عزرائیل بھی موت کے منہ میں جاچکا تھا۔

(منظر دوئم)

نفخ صور دوبارہ پھونکا جارہا تھا، مرے ہوئے جسم ، اور ہڈیوں پر گوشت چڑھ رہا تھا، جسموں میں پھر روح داخل ہورہی تھی، نفسی نفسی کے شور میں لوگ زندہ ہوکر میدان حشر کی طرف دوڑ رہے تھے،

حشر کا میدان سجایا جارہا تھا ، اعمال ناموں کے میزان رکھے جارہے تھے، خالق کائنات ربِ Zوالجلال مسندِ عدل پر تھا ، ہر ایک کے اعمال کے مطابق بدلہ دینے کا وقت آگیا تھا، کافروں، ظالموں، بدکاروں، گناہ گاروں کو جہنم کا اور متقی، نیکو کاروں کے لئے جنت کی نوید کی صدائیں لگ رہی تھیں،جنتیں بانٹی جارہی تھیں، انعام و اکرام سے نوازا جارہا تھا، موتیوں کے محل، سونے چاندی کے محل، یاقوت و لعل کے محلات ، ہزارہا حوریں، غلمان، شراب طہور، شہد و دودھ کی نہریں، کیا کیا نعمتیں عنایات نہ ہورہی تھیں۔

سرافیم ہر ہر فیصلے پر نرسنگے پھونکتے جارہے تھے، جب کسی کے لئے جنت کی نوید سنائی جاتی تو ایک خوشیوں کی لہر دوڑتی اور واہ واہ کی بلند و بالا صدائیں کچھ دیر تک فضا میں گونجتیں ، اور جب گناہ گاروں کے لئے جہنم کا فیصلہ ہوتا تو اس کی چیخیں  اور آہ  و زاریاں عروج پر ہوتیں، وہ پروردگار اپنی ہر صفات میں موجود تھا، وہ آج قہار اور جبار بھی تھا اور رحیم و رحمان بھی تھا ۔

اچانک وہ مرد جنہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ان تمام جہنمی  مردوں نے عورتوں کی طرف اشارہ کرکے آہ و بکا شروع کردی اور رب ذوالجلال سے کہا ،

اے عظیم رب : اگر یہ قبیح مخلوق نہ بناتا تو ہم کبھی تیری نافرمانی نہ کرتے، یہ وہی مخلوق ہے جس کے مکر کا تو اپنے کلام میں خود ذکر کررہا ہے، یہ زانی زنانیاں ہیں،

ربِ زوالجلال کا رخ اب عورتوں کی طرف تھا،

وہ کانپ رہی تھیں، پسینے سے شرابور تھیں، اور فرشتے گرج کر پوچھ رہے تھے :

تم کتنے مردوں کو بہکاتی رہیں؟ کتنے مردوں کو بے راہ روی کی جانب مائل کیا، کتنوں کو تم نے جہنم میں پہنچا دیا؟ ”

اب عورتوں نے باری باری جواب دینا شروع کیا۔

عورت 1 :

میرا شوہر کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا، وہ مجھ سے بدکاری کرواتا تھا، میں اپنا جسم بیچ بیچ کر نہ صرف روٹی کماتی بلکہ اس ہڈ حرام کے لئے شراب و سگریٹ بھی اسی پیسوں سے آتی تھی ، انہی حرام کے پیسوں سے اولاد کو اپنے ناپاک جسم کی کمائی کھلائی، اپنی  بیٹیوں کو فاحشہ بنایا، ان کے جسموں کی کمائی کھائی، مگر یہ سب کروانے والا یہی ہے جو آج مجھے ہی الزام دے رہا ہے۔ اپنا جسم اپنی مرضی کے مطابق اپنی مرضی کی قیمت پر بیچ سکتی تھی، مگر میں ایسا کبھی نہ کر سکی۔ میں کسی مرد کی بانہوں میں سکون کی نیند نہ سو سکی، میں محبت نہ کر سکی، میں اپنی اولاد کو عزت نہ دے سکی، میں ساری زندگی کم خوراکی اور کم خوابی کا شکار رہی۔ میں ایک آلہ تھی، ہوس کی تکمیل کا آلہ، انسان نہ تھی، کیونکہ انسانوں کی آزاد مرضی ہوتی ہے۔ میں عورت بھی نہ تھی اپنے شوہر کی نظر میں مَیں ادارہ تھی ، میں حیوان بھی نہ تھی، کیونکہ ان کو بھی لوگ وقت پر چارہ ڈالتے ہیں۔ میں بس حسرت اور تکلیف کی ایک تصویر تھی۔

عورت 2:

میں تو پیدا ہی طوائف کے گھر ہوئی، ہمارے محلے کا سب سے بڑا واعظ خود میرے پاس آتا تھا، سردیوں کے جاڑے میں جس کے پاس تن ڈھانپنے کے کپڑے نہ ہوں وہ شرم و حیا کہاں سے لائے گی، جس کو جسم چھپانے کا لباس اور ایک نوالہ روٹی تبھی ملے جب وہ اپنا جسم بیچے وہ شرافت سے کیسے رہ سکتی تھی۔ جہنم کے بعد ایک اور جہنم، ایک جہنم پیچھے گزری تھی اور اب ایک آگے ہے۔

عورت 3:

(جس کا کراہیت زدہ چہرہ تھا ، انتہائی جلا ہوا) کانپتی آواز میں کہنے لگی، وہ دیکھو وہ سامنے کھڑا ہے جو گلی میں گزرتے مجھے زبردستی روکتا تھا، میں نے ایک دن اسے طمانچہ مارا تو اگلے دن اس نے مجھ پر تیزاب انڈیل دیا، اے رب ذولجلال میں کیا کرتی، 2 سال ہسپتال کے بستر پر رہی، پھر میرے غریب باپ نے مجھے ایک 60 سالہ مولوی کے ہاتھ دے دیا، جسے میری صورت سے شدید نفرت تھی، شادی کے پہلے چند سالوں تک تو وہ میرے پاس آتا رہا، میں گھر کے سارے کام کرتی، مگر اسے میرا کیا ہوا کام پسند نہ آتا ، وہ ہر طرح سے مجھے تکلیف دیتا، جب اسے میرے جسم سے راحت کا احساس نہ ہوتا تو وہ اکثر طالب علم بچوں کو میرے بستر پر لے جاتا ۔ میں روز جیتی اور روز مرتی رہی ۔ اے میرے پروردگار ! میں نے زندگی بھی جہنم کی طرح ہی گزاری ہے، آگے بھی تیری رضا سے راضی ہوں۔

عورت 4:

میں عراق کے نواح کے  یزیدی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی، ہمارا گھرانہ بہت خوشحال زندگی گزار رہا تھا، پھر یکایک داعش نامی تنظیم نے ہمارے گاوں پر حملہ کردیا، داعش کے لوگوں نے تمام گاؤں کے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرلیا، پھر میرا باپ میری آنکھوں کے سامنے قتل ہوا، اور جب میری بہن کا چوغہ میری آنکھوں کے سامنے پھاڑ کر اس کو تپتی ریت پر بے آبرو کیا جارہا تھا میں وہ لمحات کبھی نہیں بھلا سکتی، وہ نو سالہ بچی، درد سے چلاتی رہی، مگر مجاہد نہیں رکا۔ پھر تین دن بعد وہ ایک گڑھا کھود کر میری معصوم بہن کی بے کفن لاش کو دفنا رہا تھا۔” اور مجھے بھی اسی مجاہد کے حوالے کردیا گیا، میں کنواری تھی، جس بندے کو مالِ غنیمت کے طور پر دی گئی، وہ مجھے اپنے گھر میں لے گیا۔ دو دن سے بھوکی تھی، مگر اس نے میرا لباس اتارا اور مجھ پر سوار ہو گیا، میں درد سے چلائی اس سے رکنے کی منت کی، مگر وہ نہ رکا، جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوا تو اپنی رانوں کے درمیان خون دیکھ کر میں بے ہوش ہو گئی۔ دوسرے داعشی مجاہد اس سے میری مانگ کرنے لگے، بالآخر چالیس ڈالرز کے بدلے اس نے ایک اور داعشی مجاہد کو میرا استعمال کرنے کی اجازت دی، وہ بھی آیا اور میں درد سے تڑپتی رہی، مگر اب میں چلانا بھی بھول گئی تھی۔ جتنے دن میں وہاں رہی روز نئے نئے مجاہد میرا استعمال کرتے رہے۔ پھر مجھے یاد ہی نہیں کہ میں روز کتنی بار بکتی تھی، اور کتنے مرد مجھے آکر جھنجھوڑتے تھے۔
(وہ انتہائی رقت آمیز لہجے میں بولی) میں ہر روز اپنے باپ، اپنی بہن کو یاد کرتی، رو رو کر میرے آنسو بھی سوکھ گئے۔”

دربار الٰہی میں مکمل طور پر سناٹا چھا گیا تھا۔ اب فرشتوں نے ایک کمسن لڑکی طرف دیکھا اور پوچھا کہ تجھ پر الزام ہے کہ تو نے اپنے شوہر کو اولاد نہ دی۔

کمسن لڑکی 5:

میرا باپ ایک غریب مزدور تھا، وہ مزدوری کے بعد عبادت خانے میں جا کر تیرے نام کی ثنا کرکے وقت گزرا کرتا تھا ،اے رب ذولجلال تو نے اسے کوئی بیٹا نہ دیا، اس کی صرف دو بیٹیاں تھی، جو تو نے اسے ادھیڑ عمری میں تب دیں جب وہ اندھا ہونے کے قریب تھا۔ دوسری بیٹی پیدا ہوئی تو میری ماں چل بسی، مگر میرا باپ صابر تھا کبھی تیرے نام پر کفر نہیں بکا۔ ہمیشہ ثابت قدم رہا، اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہا۔ اس نے کبھی ہمیں حرام نہ کھلایا، اس نے اپنی بیٹیوں کو تیرے دین کی  شریعت پر پابند کیا اور اعلی اخلاق پر پرورش کی ہر ممکن کوشش کی، ایک دن وہ مسجد میں تھا، ایک  ضرورت کے تحت میں مسجد گئی تو وہاں کے واعظ کے پاس میرے بابا کھڑے تھے، واعظ نے مجھے عجیب نظروں سے گھورا، وہ میرے باپ سے بھی عمر میں بڑا تھا، پھر چند دن بعد میرے بابا خاموشی سے مجھے اس کے نکاح میں دے آئے، وہ بوڑھا جس کا تمام شہر عقیدت مند تھا، ایک جنسی بھیڑیا تھا، اس کی 3 بیویاں پہلے بھی موجود تھیں، وہ حکمت بھی کرتا تھا، روز وہ عجیب سی  دوائیاں کھا کر میرے پاس آتا تھا، میں سن بلوغت سے قبل ہی اس کی شہوت کا شکار ہوئی۔ مجھ سے اس نے کبھی محبت نہ کی مجھے اولاد نہ ہوئی میں تو اولاد کی محبت سے بھی محروم رہی، جنسی عمل ہمیشہ میرے لئے تکلیف دہ ہوتا تھا، میں کبھی اس سے لطف اندوز نہیں ہو پائی، ہمیشہ تکلیف ہوتی تھی۔ آخر میرا بڈھا شوہر مر گیا، اب میں سارا سارا دن اس کی دوسری بیویوں کی خدمت کرتی تھی، اور اس کا جوان بیٹا مجھ پر بری نظر رکھتا تھا، وہ مجھ سے زبردستی کرکے اپنی جنسی آسودگی مٹاتا تھا۔

عورت نمبر 6:

میں گاؤں کی رہنے والی ہوں ، میں جوان ہوئی تو اپنے ماموں کے بیٹے کو پسند کرنے لگی، مگر میرا چچا کی نظر میرے باپ کی زمینوں پر تھی، ایک دن میں ماموں کے لڑکے کے ساتھ بات کررہی تھی تو میرے چچا نے دیکھ لیا، انہوں نے میرے ماموں زاد کو قتل کردیا، اور گاؤں کی پنچایت میں کہا کہ یہ اپنے ماموں کے لڑکے کے ساتھ منہ کالا کررہی تھی، گاؤں کے مولوی اور پنچایت نے آخر کار یہ فیصلہ کیا کہ میری شادی میرے چچا کے لڑکے ساتھ کردی جائے اور میرے باپ کی ساری جائیداد بھی اس کے نام کردی جائے، میری شادی کردی گئی، شادی کے بعد انہوں نے گھر کی بھینسوں کے باڑے کی ذمہ داری بھی دے دی، میں سرد و گرم ہر موسم میں سارے گھر کے کام کاج کے علاوہ رات کو میں شوہر کے پاؤں دباتی اور بستر گرم کرتی، میں اپنے شوہر اور اس کے بھائیوں کے بچے پالتی، جانوروں کی دیکھ بھال کرتی، کنوئیں سے پانی کے مشکیزے بھر بھر کر لاتی۔ ایک دن چھت سے گر کر میری ٹانگ ٹوٹ گئی، میں ساری رات گلی میں تڑپتی رہی، فجر ہوئی نمازی گزرتے رہے، مگر مجھے کسی نے نہیں اٹھایا، ظہر کی اذان ہوئی تو کچھ مزدور نے مجھے گھر لے گئے۔ میرا کوئی علاج نہ کروایا گیا، کیونکہ گاؤں کے مولوی کے مطابق عورت کو غیر محرم ڈاکٹر کے پاس لے جانا سخت ترین گناہ تھا، مجھے ایسے ہی گھر میں رہنے دیا، زخم میں زہر پیدا ہو گیا، بالآخر جب حد سے زیادہ تکلیف بڑھی تو سرکاری ہسپتال میں میری ٹانگ کاٹ دی گئی۔ کئی دن بخار میں تڑپتی رہی رب سے موت کی دعا مانگتی رہی، مگر دعا پوری نہ ہوئی، ابھی سزا باقی تھی۔ اس کے بعد ایک ہاتھ میں لکڑی لے کر دن میں بارہ مشکیزے پانی بھرنا میری زندگی کا معمول تھا۔ اگر نہ کر پاتی تو مار پڑتی۔ بوڑھی ہو گئی تھی، مگر خود پر رحم نہیں آتا تھا۔ رحم ان بیٹیوں پر آتا تھا، جو ابھی جوان ہورہی تھیں، جنہوں نے زندگی گزارنی تھی، میری زندگی تو کٹ چکی تھی۔”

فرشتوں کی آنکھیں بھی آبدیدہ ہوگئیں تھیں، اور وہ جہنمی مرد جو ان کے شوہر تھے، ایک بار پھر چلانے لگے،

اے رب ذولجلال : ہمیں اس مخلوق (عورت) نے گمراہ کیا ورنہ ہم تیری شریعت پر چل رہے تھے۔

تمام عورتوں نے بیک زبان کہا :

ہمیں چاہے تو ضرور جہنم میں ڈال دیجیے، مگر اس سے قبل چند الفاظ کہنا چاہتی ہیں” رب نے فرشتوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔
عورتوں  نے کہنا شروع کیا:

اے پاک پروردگار، اے ہمارے، رب ذوالجلال! تو قادر مطلق رب ہے،
اور تو کبھی بھی اپنے سچے فرمانبرداروں سے زیادتی نہیں ہونے دے گا۔
عدل و انصاف کا داعی رب۔
مگر تو نے کیوں ان ظالمین کا ہاتھ نہ روکا،
تو نے کیوں ان پر بجلی نہ گرائی،
ان کی بستیوں کو زلزلوں سے تباہ نہ کیا،
کیوں تو نے آسمان سے کوئی تارا  ان پر نہیں گرایا؟
کیوں تو اے ربِ جلیل خاموش رہا۔
اگر تو بروقت اپنے ہاتھ کو حرکت دیتا تو کیا یہ ظالمین بچ پاتے؟
اگر یہ ظالمین ہم پر ایسے مسلط نہ کئے جاتے تو کیا ہم گناہ کرتیں ۔

رب ذوالجلال کا جلال میں آنا تھا کہ فرشتے کپکپا اٹھے، اور فرشتوں نے آگے بڑھ کر ان ظالمین کی زبانیں کاٹ دیں، اور ان کے غلیظ اور مکروہ جسموں کو جہنم کی جانب گھسیٹنے لگے ، پھر اک جھٹکے سے انہیں جہنم کی جانب اچھال دیا، وہ غلیظ ظالمین جہنم کے گڑھے میں پھینکے جا چکے تھے، ہاں وہ جہنم و ذلت کی گہرائیوں میں گرتے چلے جارہے تھے۔

بے شک پاک پروردگار، رب ذوالجلال روز محشر کسی ظالمین کی نہیں سننے والا۔ بے شک وہ ذات انصاف کرنے والی ہے۔

نوٹ : یہ ان کٹھ ملائیت کی پروردہ رذالت بھری سوچ کے خلاف تحریر ہے، جو عورت کو انسان سمجھنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں، کہ جن کے اپنے وجود کا ہونا بھی عورت کی مرہون منت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *