نگارشات    ( صفحہ نمبر 7 )

ہمارے بچے تنہا ہیں ؛ڈگریوں کے شور میں دبتی سسکیاں /شاہد محمود

‎‎حال ہی میں پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے طالب علم کی خودسوزی کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ایسی خبریں سن کر، پڑھ کر شاید←  مزید پڑھیے

نیا سال مبارک ہو /علی عباس کاظمی

نیا سال آتے ہی کیلنڈر بدل جاتا ہے مگر ریاستی مزاج نہیں بدلتا۔ تاریخ کی تختی پر ہندسہ نیا لکھ دیا جاتا ہے مگر اقتدار کے طریقے فیصلوں کی سمت اور عوام کے حصے میں آنے والی مشکلات وہی رہتی←  مزید پڑھیے

علی گڑھ سے خدائی خدمتگار تک: قوم سازی کے مختلف ماڈل/عمران مسعود

سر سید احمد خان نے انگریز سے نجات کے لیے انگریزی تعلیم شروع کی لیکن نتیجہ بابو کلچر اور ایک مستقل غلام قوم کی صورت میں نکلا. یہ سچ ہے کہ تاریخ اور وقت ثابت کرتا ہے کہ کون کہاں←  مزید پڑھیے

نیت، مصلحت اور قانون: ہیلمٹ سے استثنیٰ کا سوال/ عبدالرؤف خٹک

انسانی زندگی میں اکثر فیصلے نیتوں کے تابع ہوتے ہیں۔ انسان اپنی جگہ نیک نیتی سے کسی خیر کا ارادہ کرتا ہے، لیکن دانائی کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے کی بنیاد محض جذبات پر نہیں بلکہ ٹھوس زمینی حقائق←  مزید پڑھیے

والدین؛رحمت کا سایہ/اُمِ عباد

ابو کے آپریشن کی جونہی اطلاع ملی ، دل پریشان سا ہو گیا۔ کسی صورت قرار ہی نہیں آرہا تھا۔ آنکھوں میں نمی اور دل میں اداسی سی تھی۔ لبوں پہ تسبیح اور بس صحت و عافیت کی دعا تھی۔←  مزید پڑھیے

سال بدل رہا ہے، ہم کیوں نہیں؟۔ علی عباس کاظمی

سال کے آخری دن ہمیشہ ایک خاص کیفیت لے کر آتے ہیں۔ یہ دن صرف کیلنڈر کے چند خانے نہیں ہوتے بلکہ یہ پورے سال کی تھکن، خوشیوں، دکھوں، کامیابیوں اور ناکامیوں کا خلاصہ ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے سال ختم←  مزید پڑھیے

راہو – کیتو یا ماضی -مستقبل /ندااسحاق

مورگن ہائوزل کی کتاب ”سیم ایز ایور“ (Same As Ever) میں ایک باب میں وہ لکھتے ہیں کہ آئیزک نیوٹن (Issac Newton) کی وفات کے بعد ان کے کمرے سے تقریباً ایک ملین الفاظ پر مشتمل مواد برآمد ہوا جو←  مزید پڑھیے

دسمبر کی آخری رات / سراجی تھلوی

آج بھی یاد ہے وہ لاشعوری کا زمانہ جہاں غم کا تصور نہ تھا ۔دُکھ کے الفاظ ایجاد نہیں ہوئے تھے۔بے خیالی تھی ،لاپرواہی تھی۔خواب ہوتے گلیوں میں زندگی کی سانسیں تھیں۔ڈھلتی شام گھروں کو لوٹنے کی جلدی تھی۔مائیں دروازوں←  مزید پڑھیے

کیا ذہن کبھی ریٹائرڈ ہوتا ہے؟ اور شعور پنشن پر گزارہ کرتا ہے؟-وحید مراد

فکر کی حرکیات : اصول ، سوال اور تشکیل نوء بعض مقامی اہل فکر کا موقف ہے کہ “ہر علمی گفتگو، ہر فکری سراغ کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اصول کی پیروی میں رواں ہوتا ہے، اور اصول←  مزید پڑھیے

عمران خان کا جنازہ: مستقبل کی ایک پیشین گوئی/مصور خان

اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کے سائے میں ہر شخصیت کا اثر اور مقام اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں چند شخصیات ایسی ہیں جو اپنے وقت اور اثر کی وجہ سے سب کی نگاہوں میں آ جاتی ہیں، اور←  مزید پڑھیے

“سردیوں کی شادیاں اور جدیدیت کے تقاضے” عبدالرؤف خٹک

عجیب اتفاق ہے یا لوگوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ لڑکے بالے کی شادی ہوگی تو سردی میں ورنہ نہیں ہوگی۔ کیا یہ سردیاں صرف شادیوں کے لیے رہ گئی ہیں؟ ہر دوسرے دن ایک شادی کارڈ گھر پر←  مزید پڑھیے

پاکستانی سیاست کے عظیم دماغ/ محمد امین اسد

کہتے ہیں تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں تاریخ سے زیادہ بے رحم اس پر تبصرہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہاں واقعہ مکمل ہو یا ادھورا، نیت نیک ہو یا بدنیت، نتیجہ اچھا ہو یا برا، ایک←  مزید پڑھیے

فلاح اور فلاحی کام/ڈاکٹر اظہر وحید

انسان کی فلاح فلاحی کاموں میں ہے …. بشرطیکہ نیت پاک ہو، بے غرض ہو اور اس کام سے خود کوئی ضمنی فائدہ اٹھانے کا خیال پیشِ نظر نہ ہو۔ فلاحی تنظیمیں بنتی ہیں، بگڑتی ہیں اور پھر ٹوٹ جاتی←  مزید پڑھیے

دسمبر کی رخصتی سے پہلے ڈاکٹر /شاہد ایم شاہد

زندگی خدا کی ودیعت ہے۔ قدرت کاملہ کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ ہر انسان کے پاس ایک امانت کے طور پر ہے جو اسے مخصوص وقت کے لیے دی جاتی ہے اور وقت پورا ہونے پر پھر واپس لے لی←  مزید پڑھیے

قلانچ کی شاعری/آغر ندیم سحرؔ

ریاست علی راحت کی شاعری کے بارے ڈاکٹر اثر الاسلام سید لکھتے ہیں:’’ریاست علی راحت ایک ایسی نازک اور گہری آواز کے ساتھ ابھر رہے ہیں جو دلوں پر نقش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے،ان کے اشعار بالکل ایسے جیسے←  مزید پڑھیے

دلیل کی فتح اور مسلک کی ہار/ عبدالرؤف خٹک

مذہبی بحث مباحثے اور مناظرے بہت سنے اور دیکھے، لیکن ان کا فائدہ یا افاقہ کہیں نظر نہیں آیا۔ مناظروں اور بحث مباحثوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ اور مدِ مقابل کو بولنے کا موقع نہ←  مزید پڑھیے

پہلی نظر میں محبت/سلیم زمان خان

سمیر اور زرنش کی ملاقات فیس بک کے ایک عام سے کمنٹس سیکشن میں ہوئی، جہاں ایک جملے کی کاٹ اور دوسرے کی ذہانت نے دونوں کو ایک دوسرے کا اسیر بنا لیا۔ ابتدا میں یہ سب ایک معصوم سے←  مزید پڑھیے

تین گاؤں اور کئی کہانیاں/صنوبر ناظر

کراچی سے سکھر پہنچنے تک ہوا کی خنکی ٹھنڈ کی لہر بن کر رگ و پے میں سرایت کر چکی تھی۔ روہڑی اور سکھر کے سنگم پر قائم دونوں پلوں کے نیچے سندھو دریا اپنی ازلی متانت کے ساتھ بہتا←  مزید پڑھیے

پی آئی اے: ابوالحسن اصفہانی سے عارف حبیب تک کا سفر/شیر علی انجم

تاریخ اس بات کا شاہد ہے کہ جب کسی ملک کے اثاثہ جات فروخت ہونا شروع ہو جائے سمجھ جائیں اور ملک کے حکمران نااہل ہیں اور کرپشن نظام کا حصہ گیا ہے، بدقسمتی یہی حال اس وقت پاکستان کا←  مزید پڑھیے

توانائی شعبے میں مسابقتی نظام کا فیصلہ/مہوش عابد

حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں بجلی کے شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ریاست کی جانب سے بجلی کی براہ راست خریداری (State-led power purchases) کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ←  مزید پڑھیے