کھلے گیٹ سے موٹر سائیکل اندر کرتے ہی گھر کے اندرونی حصے سے آنے والی اماں اور بھابھی کی ملی جلی آوازیں اسے کوڑے کی طرح لگیں، دونوں انتہائ خضوع و خشوع کے ساتھ محکمہ بجلی والوں کو ان کی← مزید پڑھیے
اللہ مرقد کو نور سے بھرے، ہمارے دادا واقعی جلالی شخصیت کے مالک تھے۔ جس جرگے میں بیٹھ کر فیصلہ کرتے، مجال تھی کہ کوئی ان کے فیصلے کے خلاف بولے، بلکہ منہ بنا کر دیکھنے کی جرات بھی نہ← مزید پڑھیے
فادرفرانسس تنویر اُردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور موسیقار ہونے کے علاوہ ایک خوب صورت آواز کی خُداداد صلاحیت سے بھی بہرہ مند ہیں۔ کہانت اُن کی الٰہی خدمت کا اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے اپنے← مزید پڑھیے
داغستان کا کوئی شخص ،زینب کو نہیں بھول سکتا۔ وہ سدا کی گلیوں میں پھرا کرتی ہے۔ جس وقت وہ سدا کی گلیوں میں دکھائی نہیں دیتی ، تب اس کی موجودگی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ،← مزید پڑھیے
داستان ”الف لیلہ و لیلہ“ کے حوالے سے چند معروضات جو اپنے ایک طویل مضمون سے ماخوذ ہیں: 1۔ الف لیلہ کی داستان”ایک ہزار ایک رات“1001راتوں پر مشتمل ضرور ہے مگر 1001داستانیں نہیں۔ اس میں لگ بھگ دو درجن سے← مزید پڑھیے
ناصر عباس نیر کی کتاب “خاک کی مہک” میں ایک افسانہ مرنے کے بعد مسلمان ہوا جا سکتا ہے؟میں بھی ایک ایسی ماں ہے جو ایک ایسے قبیلے یا قوم سے تعلق رکھتی ہے جن کا ہونا ہمیشہ ان کے← مزید پڑھیے
معروف محقق و مصنف محترم محمد انور عباسی صاحب ہمارے دیرینہ کرم فرما ہیں۔ تعلق باغ (آزاد کشمیر) سے ہے اور شہر شاداب اسلام آباد میں قیام فرما ہیں۔ شگفتہ مزاج اور شگفتہ گو آدمی ہیں۔ علالت میں بھی لبوں← مزید پڑھیے
جب تک نام موجود ہیں، چیزوں کو حیات ابدی حاصل ہے۔ جنھیں نام نہیں ملے، وہ فنا کے ایک ہی تیز جھکڑ میں ،تنکے کی مانند معدوم ہوگئیں۔ لیکن ،رسول ، میرے شاعر،ابدیت پانے کے بعد چیزوں پر کیا گزرتی← مزید پڑھیے
”بٹیا۔ تمہیں دیر ہو رہی ہے کام پر۔ اب نکل بھی جاو۔ “ اٹھاون سال کی جمیلہ نے بوسیدہ دیوار پر لگی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ”عاطف بھی اسکول کے لئے نکل چکا ہے۔“ ”پتا نہیں کہاں غائب ہو گئی← مزید پڑھیے
اچانک ایک صبح جب آپ سو کر اٹھ کر دیکھتے ہیں کہ روز روز انتظامیہ کو گالی دے کر اپنے کام کی شروعات پہ جانے والی سڑک بن گی تو ایک ایسی مسرت کا احساس ہوتا ہے جیسے گمشدہ پاسپورٹ← مزید پڑھیے
ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹر عابد نواز کو خط نمبر ۱۵ حضرت عابد نواز و دماغ نواز و دل نواز ! آپ نے جس تفصیل سے شعبہ چشم اور امراض چشم کا ذکر کیا ہے وہ آپ کے علمی تبحر← مزید پڑھیے
سبط حسن کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کا شمار پاکستان کے بائیں بازو کے صف اول کے مفکرین میں ہوتا ہے۔ دانشور اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا وہ کئی← مزید پڑھیے
ہماری بد نصیبی کہ ہم عظیم روحوں سے نصیحت لینے کے بجائے ان کو ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی میں بانٹ لیتے ہیں۔ سروجنی نائیڈو اور علامتی تصویر، فوٹو بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس اور سوشل میڈیا آج ہم جس ہندوستان← مزید پڑھیے
مدیرِ نقاط قاسم یعقوب ہمارے عہد کے اُن ناقدین میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے اردو تنقید کو محض ایک بیانیہ سرگرمی یا شرح و توضیح تک محدود رکھنے کے بجائے اسے فکری بصیرت اور مکالماتی تناظر سے جوڑنے کی← مزید پڑھیے
پروفیسر فیض محمد شہزاد حاجی عبدالکریم کے ہاں بابو محلہ پشین بازار میں 1964 کو پیدا ہوٸے۔ ان کا تعلق توبہ کاکڑی احمد خیل کاکڑ قبیلے سے ہے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سے حاصل کی۔ انھوں نے 1980← مزید پڑھیے
مجھے نیند کم آتی ہے۔ گہری ، مکمل بے خبری کی نیند تو میراسب سے بڑا خواب ہے۔ بڑے خواب کہاں پورا ہواکرتے ہیں۔ تھوڑی بہت نیند جو آتی ہے ،اس میں خیالات کے کئی سلسلے ہوتے ہیں۔ کچھ زنجیر← مزید پڑھیے
کہتے ہیں، ہزاروں برس پہلے بحیرۂ عرب کے کنارے ایک ننھی سی ساحلی بستی آباد تھی۔ وہ بستی دراصل قدرت کی عطا کردہ بندرگاہ تھی، اور یہی اس کے باسیوں کا رزق و روزگار تھی۔ ان کی زندگی کا دارومدار← مزید پڑھیے
لوگ کہتے ہیں: “لکھو!” میں پوچھتا ہوں: “کیا لکھوں؟” جواب آتا ہے: “محبت لکھو!” میں پھر پوچھتا ہوں: “محبت پر کیا لکھوں؟” وہ اپنی بات دہراتے ہیں، “یہی لکھو کہ محبت ہر زمانے میں زندہ رہتی ہے- محبت اپنا روپ← مزید پڑھیے
کتاب، محض صفحات پر بکھرے الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب کا آئینہ، ایک فکر کا دریا، اور سوال کی شکل میں اُبھرتی ہوئی روشنی ہے۔ یہ روشنی جب بھی اندھیروں سے ٹکرائی، جب بھی روایت، طاقت یا مذہبی← مزید پڑھیے
معاشرے کی جدیدیت کے ساتھ معیشت اور طرز زندگی کی تبدیلی کے عمل میں گلگت بلتستان کے دیومالائی کونیاتی دیوتا پہلے ہماری ثقافتی روایات سے ختم ہوتے گئے، پھر لوگوں کی اجتماعی یادداشت سے بھی غائب ہونے لگے ہیں ۔← مزید پڑھیے