مری چشم بینا سے پٹّی تو کھولو مجھے دیکھنے دو یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہاں جنگ کی آگ میں جلتے ملکوں سے بھاگے ہوئے مرد و زن، صد ہزاروں سمندر کی بے رحم لہروں میں غرق ِ اجل ہو← مزید پڑھیے
اے مری چادر مِری شرم و حیا کی پاسباں سُندر سہیلی،سُن ذرا تیرے ان چھیدوں کے رَستے میرے سارے کچے خوابوں،کے سجل آنسو ٹپک کر،بہہ گئے کچھ کہہ گئے جسم کے کورے دئیے کی سب لوئیں بُجھ بُجھ کے ہی← مزید پڑھیے
“ریڈکتیو ایڈ ابسرڈم ٭کی تکنیک میں غالب کے دس فارسی اشعار کو میں نے نظموں کا جامہ پہنایا تھا (کہ برہنہ بدن یہ اشعار فارسی میں بدصورت دکھائی دیتے تھے) ان میں سے ایک شعر پر استوار نظم یہ ہے۔← مزید پڑھیے
گھر بنانے میں اسے برسوں لگے تھے سب سے پہلے گھر کی بنیادوں کے پتھر پانچ دریاؤں کے چٹیل ساحلوں سے چُن کے لایا ان پہ اپنا نام کندہ کر کے بنیادیں بنائیں چار دیواری کھڑی کی طاق ، دروازے،← مزید پڑھیے
رندہزارشیوہ را طاعت حق گراں بود لیک صنم بہ سجدہ در ناصیہ مشترک نخواست (غالبؔ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھپ اندھیرا تھا شوالے میں ، مگر ٹھنڈی، ملائم روشنی کا ایک ہالہ دیوتا کی مورتی کو نور سے نہلا رہا تھا مورتی کے← مزید پڑھیے
گزشتہ برس دسمبر میں تحریر کردہ! سردی سخت تھی۔۔۔ سخت تھی سردی اور میں، ایک اکیلا، آنگن میں کرسی پر اکڑ وں بیٹھا اپنی ٹوٹی ٹانگ کا نوحہ دل ہی دل میں دہراتا یہ پوچھ رہا تھا “دھوپ کہاں ہے؟← مزید پڑھیے
میں نے پوچھا ۔ “کون ہے کمرے میں میرے؟ کون ہے جس نے کہا ، ابلیس تھا پہلا موّحد ۔۔۔؟” ایک کونے سے ذرا دھیمی سی اک آواز آئی “میں ہوں اک نا چیز ۔۔۔۔میرا نام ہے احمد غزالی ۰!”← مزید پڑھیے