ننانوے خوابوں کا گیت۔ ریسائٹل کی شام99 سالہ بوڑھا سٹیج پر گٹار بجا رہا تھا۔ اس کی 89 سالہ بیوی ایسی قوت سے گا رہی تھی جیسے وہ اٹھارہ سال کی لڑکی ہو۔ طویل قامت ننانوے سالہ بوڑھا بچوں کی← مزید پڑھیے
اسی زمیں پر سفر چلو چھوڑتے ہیں پامال رستوں کاسفر وہی پرانی ڈگر وہی آسمان کا سفر وہی بے قدم سفر وہی لکیر کا سفر وہی بے سوال سفر وہی یقین کا سفر۔ وہی عہد و پیماں کا سفر وہی← مزید پڑھیے
لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں الاؤ سے باہر← مزید پڑھیے
مورتیوں کے حسن کی تپش سے جنس عبادت کی لو میں گھلتی ہے۔ دیویوں کے تن بدن سے، معبد خال و خط ادھار لیتے ہیں۔ مردانہ وجاہت کے سوتے دیوتاؤں کے حسن کے بیان سے پھوٹتے ہیں انگلیاں کاٹنے والیاں← مزید پڑھیے
رخسانہ صبا صاحبہ کو میں نے پہلی بار اس وقت سنا جب میں ادب کی دنیا میں داخل ہورہا تھا اور ڈاکٹر صاحبہ نوجوان شاعروں کی صف میں اپنا مقام بنانے کے راستے پہ گامزن تھیں۔ بزرگ جب اُن نوجوانوں← مزید پڑھیے
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم میرے نزدیک یہ شعر دولتِ تیقن سے محروم کوئی شاعر نہیں کہہ سکتا۔تو ہمارے فیض صاحب دولت ِیقین و امید سے مالامال شاعر← مزید پڑھیے
ضمیر حسن قیس کا تعلق ملتان سے ہے، غزل اور نظم کے شاعر ہیں۔ ان کی ایک منفرد اسلوب کی نظم “یثرب” نے کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ نظم پانچ حصوں پر مشتمل ہے، جو مختلف تاریخی مراحل اور← مزید پڑھیے
فادرفرانسس تنویر اُردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور موسیقار ہونے کے علاوہ ایک خوب صورت آواز کی خُداداد صلاحیت سے بھی بہرہ مند ہیں۔ کہانت اُن کی الٰہی خدمت کا اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے اپنے← مزید پڑھیے
اچانک ایک صبح جب آپ سو کر اٹھ کر دیکھتے ہیں کہ روز روز انتظامیہ کو گالی دے کر اپنے کام کی شروعات پہ جانے والی سڑک بن گی تو ایک ایسی مسرت کا احساس ہوتا ہے جیسے گمشدہ پاسپورٹ← مزید پڑھیے
ہاں، میں مرد ہوں اور ہاں، میں نے قتل کیے مگر اب میرے ہاتھوں کی لکیر بھی چیخ پڑی ہے کہ اور کتنا؟ اور کتنا؟ میں وہی ہوں جس نے صدیوں تک خود کو خدا سمجھا اور جب کوئی سچ← مزید پڑھیے
میرے انتظار کا عذاب اس لا پتہ شہید کی بیوہ سا ہے جو روز متروک ریلوے اسٹیشن کے بینچ پر گھنٹوں بیٹھی اس گاڑی کی راہ تکے جس میں جھنڈے میں لپٹا جسد خاکی آنا ہو سفید چادر سونی کلائیاں← مزید پڑھیے
ہر نئی غزل ہے میرے گناہوں میں اضافہ پاپی اباحی کو رہین منت گناہ ہی رکھنا بار محبت سے ہے میری فروتنی قائم بندہ عاجز کو رہین منت چاہ ہی رکھنا نگاہ ناز سے ہو جاتے ہیں طبق روشن لپکتے← مزید پڑھیے
ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہے کار محبت اور بڑھاؤ، بہت بے قراری ہے اک لمحہ ہجر کبھی، نصیب ہی نہیں ہوا بدن سے مکالمہ میں، زندگی گذاری ہے کمر کی یہ وادیاں، سریں کی وہ گھاٹیاں سینے← مزید پڑھیے
ایک دن فیس بک پر محمد نصیر “زندہ” کی رباعی پڑھی تو دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اگرچہ عصرِ حاضر کے شعرا اور ادیب دن رات اپنی تخلیقات یا دوسروں کے کلام سے صفحات بھرتے ہیں، مگر اس دورِ← مزید پڑھیے
انسانوں کو انسانوں کے زہر سے آلودہ ہونے پر جسم نیلے نہیں ہوتے میلے نہیں ہوتے موت نہیں ہوتی ایک دن میں کچھ نہیں ہوتا یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کس نے کاٹا ہے کب دانت گاڑے ہیں اور کیوں← مزید پڑھیے
انسانوں کو انسانوں کے زہر سے آلودہ ہونے پر جسم نیلے نہیں ہوتے میلے نہیں ہوتے موت نہیں ہوتی ایک دن میں کچھ نہیں ہوتا یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کس نے کاٹا ہے کب دانت گاڑے ہیں اور کیوں← مزید پڑھیے
مدتوں بعد ایک سرگوشی سنی میرے گھر کی چوکھٹ میرے کان میں بولی تیرا “گل دستار ” آیا تھا میں ہذیانی لہجے میں دھاڑی میرا کلیجہ چبانے کے لیے کیا تم رہتی تھیں؟ چوکھٹ مسکا کے گویا ہوئی اے باولی← مزید پڑھیے
نہ جانے کس کس کرب سے گزری ہے یہ انسانیت روز آفرینش سے اب تک کئی بار مرنے اور زندہ ہونے اور پھر زندہ رہنے کی اذیتوں کے بعد شنید ہے اب زندگانی جنگ کی گولیاں پھانک کر سب انسانوں← مزید پڑھیے
جاڑے کی رات شدید سناٹا کُہْرا اداسی اور ہُو کا عالَم میں چوبارے میں اِیستادَہ ہمیشہ کی طرح اَفْروخْتَہ خود سے محو کلام تھی ۔ دل شِکَسْتَگی کے عالم میں یکایک کسی کا بین اور سسکیاں دل چیر گئیں سامنے← مزید پڑھیے
جب بمباری سے آسمان پھٹ گیا جب زمین نے زندہ انسانوں کو نگل لیا جب پناہ گاہوں کے مکیں آگ کی نذر ہو گئے جب شہروں کو ملبہ بنا دیا گیا جب بستیوں کو نیست و نابود کر دیا گیا← مزید پڑھیے