اپنی کتاب “جب دریا خشک ہو جائیں گے” میں فریڈ پئیرس بہت تفصیل سے ذکر کرتے کہ آنے والی برسوں میں تیس ممالک ایسے ہیں جن کو پانی کی بڑے بحران کا سامنا ہو گا۔ ہم اپنے اہم ترین تاریخی← مزید پڑھیے
امریکہ میں آئیوا کی ریاست جنوری 2008 کو ہر جگہ پر خبروں میں تھی۔ اس ریاست سے صدراتی امیدواروں کے چناوٗ کا آغاز ہوتا ہے۔ اور یہاں پر ووٹروں نے آزمودہ سیاستدان ہلیری کلنٹن سے زیادہ ووٹ باراک اوبامہ کو← مزید پڑھیے
یہ دنیا ہمہ وقت بدلتی حالت میں ہے۔ اسی کے ساتھ چلتے معیشت اور تجارت کے نظام بھی۔ جنگی کیپٹلزم نے گلوبلائزیشن کی تعمیر کی تھی۔ اس کا جغرافیائی مرکز لنکاشائر تھا جو اب نہیں رہا۔ غیراہم علاقے جیسا کہ← مزید پڑھیے
امریکہ اور برطانیہ میں کپاس کے علاقوں میں اب بدحالی ہے۔ جبکہ دسیوں لاکھ مزدور پاکستان، انڈیا، چین اور دوسرے ممالک میں ٹیکسٹائل ملوں کا رخ کرتے ہیں۔ دسیوں لاکھ کسان افریقہ، ایشیا اور امریکاز کے کھیتوں کا۔ امریکہ میں← مزید پڑھیے
یورپ کا کاٹن پر راج بڑی خاموشی سے ختم ہو گیا۔ یہ 1963 تھا۔ دسمبر کی سرد اور بارش والی صبح کو لیورپول میں کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں کچھ لوگ جمع تھے۔ یہ اس سلطنت کا ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا← مزید پڑھیے
ہندوستانی، مصری اور چینی صنعتکاروں کو اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ برٹش کالونیل حکومت ان کے مفادات کی حفاظت نہیں کر رہی۔ اس کے لئے ترجیح لنکاشائر کی صنعت ہے۔ یہ طبقہ کالونیل حکمرانی کے خلاف ہونے← مزید پڑھیے
“میں اپنے ملک کو یورپ اور امریکہ کے برابر لانا چاہتا ہوں۔ میں نے جتنی تاریخ اور جغرافیہ پڑھا ہے، اس سے یہ سمجھ آ چکی ہے کہ مغربی دنیا میں دولت، عسکری طاقت، تہذیب اور روشن خیالی کی جڑ← مزید پڑھیے
احمدآباد آج ساٹھ لاکھ کی آبادی کا شہر ہے۔ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے یہاں پرانے ادارے تھے۔ صراف اور مہاجن کاربار پر حاوی تھے۔ اشیا کی جانوروں پر لاد کر کچے راستوں پر دوسرے علاقوں سے تجارت ہوتی← مزید پڑھیے
نومبر 1900 کی طوفان صبح تھی جب نیویارک کی بندرگاہ سے جرمنی کے لئے بحری جہاز دو ہزار مسافر لے کر نکلا۔ اس میں چار مسافر جیمز کولووے، جان رابنسن، ایلن برکس اور شیپرڈ ہیرس تھے۔ یہ چاروں الابامہ کے← مزید پڑھیے
روس کی دوراندیش سرکاری بیوروکریسی نے انیسویں صدی کے آغاز پر “سفید سونے” کی سپلائی محفوظ کرنے کی اہمیت کو بھانپ لیا تھا۔ اور تاجروں اور صنعتکاروں سے ملکر وسطی ایشیا کے خطے کو کپاس کی کاشت کے ذریعے کے← مزید پڑھیے
جاپانی وزارتِ زراعت کے ڈائریکٹر ساکو سونیکی کا تبادلہ 1902 میں چین سے کوریا کر دیا گیا تھا۔ جاپان کپاس کی بھاری مقدار درآمد ہندوستان سے درآمد کرتا تھا۔ ساکو کا کام کوریا میں اس کی پیداوار بڑھانے کے طریقوں← مزید پڑھیے
ہندوستان میں ایک قصبہ خام گاوٗں کے نام سے تھا جو اچھی کپاس کے لئے شہرت رکھتا تھا۔ انگریزوں کی آمد سے دہائیوں قبل سے یہاں سے کپاس کو بیل گاڑیوں پر مرزاپور لے جایا جاتا تھا۔ مرزاپور سے اسے← مزید پڑھیے
جنگ بندی ہو چکی تھی۔ امریکہ سے غلامی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ ایک وقت میں چالیس لاکھ تک غلام تھے، آزاد ہو چکے تھے۔ آزادی کے اس جشن کے ساتھ سوال یہ تھا کہ اب کیا ہو گا۔ 1865← مزید پڑھیے
امریکہ میں خانہ جنگی جاری تھی۔ اس نے کپاس کے نرخ بہت چڑھا دئے تھے۔ یہاں پر عثمانی وائسرائے محمد سعید پاشا نے موقع دیکھا۔ وہ ایک بہت بڑے جاگیردار تھے۔ انہوں نے اپنی زمینیں کپاس پیدا کرنے کے لئے← مزید پڑھیے
امریکی خانہ جنگی جاری تھی جس نے کپاس کا بحران پیدا کر دیا تھا۔ امریکہ اور لیورپول سے ہزاروں میل دور اس سے مقابلہ کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کی جا رہی تھی۔ اس میں ہندوستانی تاجر اور کاشتکار، برطانوی← مزید پڑھیے
اپریل 1861 کو فورٹ سمٹر میں بندوق سے اگلی جانے والی گولیاں امریکی خانہ جنگی کا آغاز تھیں۔ اور اس وقت امریکہ کی برآمدات کا 61 فیصد خام کپاس تھی۔ یورپ کی صنعت اس پر منحصر تھی۔ سستی زمین، غلامی← مزید پڑھیے
تجارتی روابط بنانے میں ذاتی مراسم کی بڑی اہمیت تھی۔ خاندان کے افراد، پرانے دوست، قابلِ اعتبار واقف کار۔ انیسویں صدی کا ایک اہم ترین ٹریڈنگ ہاوس رالی برادران کا تھا۔ دنیا بھر میں پھیلی ان کی سلطنت اناطولیہ کے← مزید پڑھیے
اٹھارہویں صدی میں اور انیسویں صدی کے پہلے نصف میں کپاس کے سودے ایک فزیکل جنس کے طور پر ہوتے تھے۔ تاجر اس کی قیمت ریشے کی لمبائی، رنگ، صفائی اور الاسٹسٹی جیسی چیزوں پر لگاتے تھے۔ جب کاروبار بڑھا← مزید پڑھیے
عالمی تجارت کا دِل لیورپول تھا لیکن یہ عالمی کپاس کی تجارت کا ایک گروپ ہی تھا۔ یہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ گجراتی کسان سے اولڈہیم کی سپننگ مل تک، مانچسٹر کے کارخانے سے استنبول کے بازار تک،← مزید پڑھیے
آج برطانیہ کے شہر لیورپول میں مرسی سائیڈ میوزیم میں اس شہر کے تعارف پر ایک فقرہ لکھا ہوا ہے۔ Liverpool is a city built on cotton یہ درست ہے لیکن کپاس نے اس شہر کو ہی نہیں بنایا۔ انیسویں← مزید پڑھیے