کپاس (51) ۔ سلطنت کا خاتمہ/وہاراامباکر

یورپ کا کاٹن پر راج بڑی خاموشی سے ختم ہو گیا۔ یہ 1963 تھا۔ دسمبر کی سرد اور بارش والی صبح کو لیورپول میں کاٹن ایکسچینج بلڈنگ میں کچھ لوگ جمع تھے۔ یہ اس سلطنت کا ہیڈکوارٹر ہوا کرتا تھا لیکن آج یہ اسے ختم کر دینے آئے تھے۔ پچھلی صدی میں جمع کردہ سامان نیلام کیا جا رہا تھا۔ سو سے زیادہ نوادرات کی بولی لگائی جا رہی تھی۔ “امریکہ کے موسموں کا نقشہ”، “قیمتی لکڑی سے بنا تاجر کا ڈیسک”، “ہوبی کی بنائی گئی کپاس کے پودے کی تصویر”۔ اس عمارت کا اپنا سودا ہو چکا تھا۔ بزنس ہی نہیں رہا تھا۔
اس کی ابتدا 1841 میں ہوئی تھی۔ ایک صدی تک اس ایسوسی ایشن نے عالمی تجارت کو ریگولیٹ کیا تھا۔
کرسی، میز، صوفے، شیلف ۔۔۔ آج خریدار اٹھا لے جا رہے تھے۔ محض سو سال پہلے کسی کے وہم و گمان میں نہ ہوتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ لیورپول دنیا کا امیر ترین شہر تھا۔ امریکاز، افریقہ، ایشیا، یورپ میں کاشتکاروں اور صنعتکاروں کو ملانے والا شہر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یورپ کا تختہ الٹ چکا تھا۔ برطانیہ کا عالمی تجارت میں حصہ اڑھائی فیصد رہ چکا تھا۔ کسی وقت میں برطانوی صنعت میں چھ لاکھ مزدور کام کرتے تھے۔ اب صرف تیس ہزار تھے۔ صنعتی شہر اور قصبے اجڑ چکے تھے۔ نسلوں سے مشینیں چلانے والے بے روزگار تھے۔
زمانہ کس قدر بدل گیا تھا؟ مانچسٹر چیمبر آف کامرس فری ٹریڈ کا چیمپئن ہوا کرتا تھا۔ اس نے اپنا موقف الٹ دیا تھا اور 1958 میں مطالبہ کیا تھا کہ برطانوی صنعت کو حکومت تحفظ دے۔ یہ واضح طور پر شکست تسلیم کر لینے والا بیان تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت آپ نے جو بھی لباس پہنا ہے، خاصا امکان ہے کہ یہ کاٹن کا بنا ہو گا۔ ویسے ہی جیسے آپ کے والدین اور ان کے والدین پہنتے رہے ہیں۔ اور اس کے لئے ہم کاشتکاروں، دھاگہ بنانے والوں، کپڑا بننے والوں، درزیوں، تاجروں کی محنت کے شکرگزار ہیں جو دنیا کے بہت سے حصوں میں پائے جاتے ہیں۔
اگر ایک صدی پہلے نیویارک کی دکان پر ایک قمیض خریدی جاتی تو امکان تھا کہ امریکہ کے جنوب میں اگائی کپاس سے بنی ہو گی جس سے امریکہ کے شمال میں کپڑا بنا ہو گا۔ آج زیادہ امکان ہے کہ یہ کپاس چین، ازبکستان یا سینیگال میں اگی ہو گی۔ دھاگہ اور کپڑا پاکستان، چین یا ترکی میں بنا ہو گا۔ سلائی بنگلہ دیش یا ویت نام میں ہوئی ہو گی۔ ہماری دنیا پچھلی صدی کی دنیا سے یکسر مختلف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی وقت میں امریکہ کپاس کی پیداوار میں اول نمبر پر تھا۔ آج امریکہ میں صرف پچیس ہزار لوگ کپاس کی کاشت سے وابستہ ہیں۔ اور یہ اس قدر مہنگی ہے کہ حکومت کی طرف سے ملنے والے بھاری سبسڈی کے بغیر یہ بھی دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ (امریکہ اب برآمدات کا صرف چودہ فیصد پیدا کرتا ہے۔ کسی وقت میں اس کی برآمدات پر مونوپولی ہوا کرتی تھی)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یورپ اور امریکہ کی معیشت میں کسی وقت میں کاٹن مل کلیدی حیثیت رکھتی تھیں۔ آج تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ ان کی عمارتیں گرائی جا چکی ہیں۔ وہاں شاپنگ مال، اپارٹمنٹ اور میوزیم بن چکے ہیں۔ مانچسٹر، لوول، میسی چیوسٹس میں پرانے محفوظ کارخانے صرف وہ سیاح دیکھنے آتے ہیں جو تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ڈیڑھ سو برس تک دنیا کو اور عالمی کیپٹلزم کو شکل دینے والی یہ عمارتیں فیملی کی تفریح بن چکی ہیں، جہاں گائیڈ پرانے فوٹوگراف اور مشینیں دکھا کر بچوں کو اس وقت کا بتاتے ہیں۔
کپاس کے کھیتوں کو بھی سیاحوں کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ جو کبھی عالمی غلامی کا مرکز تھے۔
(جاری ہے)
ساتھ لگی تصویر کپاس کی سلطنت کے کھنڈرات کی ہے۔ یہ 2013 میں کھینچی تھی۔ سپین کا یہ علاقہ کال روسال ہے جو اس یورپی کپاس کی سلطنت کا ایک مرکز تھا اور اب کھنڈر بن چکا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply