وہارا امباکر کی تحاریر

کینسر (79) ۔ مارچ/وہاراامباکر

کینسر صرف جسم پر ہونے والا ٹیومر نہیں۔ یہ بیماری متحرک ہے، ارتقا کرتی ہے، اعضاء پر حملہ آور ہوتی ہے، ٹشو تباہ کرتی ہے اور ادویات کے خلاف مزاحمت کرتی ہے۔ تجربات میں چوہوں پر دو بڑی طاقتور اونکوجین←  مزید پڑھیے

کینسر (78) ۔ تصدیق کی تکمیل/وہاراامباکر

راس جین کی دریافت سے کینسر جینیات کے ماہرین کے لئے ایک چیلنج حل ہو گیا۔ انہوں نے اونکوجین کی میوٹیشن کو کینسر کے خلیے میں تلاش کر لیا تھا۔ لیکن ایک اور چیلنج کھل گیا۔ نڈسن کی ٹو ہٹ←  مزید پڑھیے

کینسر (77) ۔ راس جین/وہاراامباکر

رابرٹ وائن برگ نے کینسر کی پیدائش کا مکینزم ڈھونڈنا تھا اور ان کا پہلا چیلنج تکنیکی تھا۔ کینسر کے خلیے کے ڈی این اے کو نارمل خلیات میں داخل کیسے کیا جائے؟ خوش قسمتی سے یہ وہ تکنیکی مہارت←  مزید پڑھیے

کینسر (76) ۔ پُل کے پار/وہارا امباکر

نیوٹن کی گریویٹی کی شاندار طریقے سے تصدیق اس وقت ہوئے تھی جب ان کی کیلکولیشن کے مطابق ہیلے کا دمدار ستارہ 1758 میں نظر آیا تھا۔ آئن سٹائن کی ریلیٹیویٹی کی تھیوری کی اس وقت جب 1919 کے سورج←  مزید پڑھیے

کینسر (75) ۔ دو قسم کے کینسر جین/وہاراامباکر

جینیات میں جین “دیکھنے” کے دو الگ طریقے ہیں۔ ایک سٹرکچرل۔ جس میں اس کے فزیکل سٹرکچر کو دیکھا جاتا ہے۔ اس میں جین ڈی این اے کے ٹکڑے ہیں جو کروموزوم پر ہیں۔ جبکہ دوسرا فنکشنل۔ جس میں اس←  مزید پڑھیے

کینسر (74) ۔ پہلی تھیوری ۔ اندر کا عفریت/وہاراامباکر

سائنس کو اکثر قدم بہ قدم آگے بڑھنے والا عمل سمجھا جاتا ہے۔ ایک معمے کا حل اور پھر اگلے کا۔ ایک ٹکڑا اور پھر اگلا۔ یوں بڑی تصویر ابھرتی ہے۔ لیکن سائنس میں بڑی وضاحتی طاقت رکھنے والی بڑی←  مزید پڑھیے

کینسر (73) ۔ سارک کا شکار/وہاراامباکر

ٹیمن نے وہ جین تلاش کر لی تھی جو مرغی میں کینسر کا سبب بنتی تھی۔ یہ سارک (src) جین تھی جو کہ ملنے والی پہلی اونکوجین تھی۔ اس سے آگے بڑھے جانا تھا۔ کیا اس کی مدد سے انسانوں←  مزید پڑھیے

کینسر (72) ۔ اونکوجین/وہارا امباکر

کینسر کے وائرس کی تلاش کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔ سپیشل وائرس کینسر پروگرام ایک وائرس بھی تلاش نہیں کر پایا تھا۔ اگر ایسے وائرس موجود نہ تھے تو پھر کینسر کا کوئی پرسرار مکینزم تھا۔ جس طرح پنڈولم کبھی←  مزید پڑھیے

کینسر (71) ۔ وائرل تھیوری؟۔۔وہارا امباکر

ستائیس مئی 1970 کو عالمی کینسر کانگریس میں ٹیمن نے اپنے نتائج بتانا شروع کئے۔ یہ پندرہ منٹ کی تقریر تھی جو بہت خشک بائیوکیمسٹری تھی۔ لیکن جس طرح وہ اس کو بتاتے جا رہے تھے، اس کام کی اہمیت←  مزید پڑھیے

کینسر (70) ۔ ریٹرووائرس/وہاراامباکر

ٹیمن کینسر کو لیبارٹری ڈش میں لے آئے تھے اور اب وہ ایسے تجربات کر سکتے تھے جو جانداروں پر کرنا ناممکن ہوتا۔ 1959 میں ان کے پہلے تجربے نے غیرمتوقع نتیجہ دیا۔ عام طور پر جب وائرس خلیات کو←  مزید پڑھیے

کینسر (69) ۔ تین خیال/وہاراامباکر

آرتھر کورنبرگ نے ایک بار مذاق کرتے ہوئے کہا تھا کہ جدید بائیولوجی ابتدائی دنوں میں اکثر بار ویسے کام کرتی تھی، جیسے کہانی کا ایک شخص جو اپنی چابیاں سٹریٹ لائٹ کے نیچے تیز روشنی میں اس لئے تلاش←  مزید پڑھیے

کینسر (68) ۔ جین کی میوٹیشن/وہاراامباکر

برازیل میں 1872 میں ہلاریو ڈی گوویا ایک ماہرِ چشم تھے۔ وہ ایک لڑکے کا علاج کر رہے تھے جس کی آنکھ میں کینسر تھا۔ ریٹینوبلاسٹوما بہت نایاب کینسر ہے۔ انہوں نے لڑکے کی آنکھ نکال دی۔ لڑکا زندہ رہا۔←  مزید پڑھیے

کینسر (66) ۔ جین/وہاراامباکر

ایک طرف کینسر کے خلیے کی میکانکی سمجھ وائرس اور کروموزوم کے درمیان معلق تھی۔ لیکن دوسری طرف بائیولوجی میں نارمل خلیے کی سمجھ میں انقلاب برپا تھا۔ اس انقلاب کے بیج آسٹریا کی خانقاہ میں گریگور مینڈیل نے بوئے←  مزید پڑھیے

کینسر (65) ۔ تھیوریوں کا مقابلہ/وہاراامباکر

بویری سمندری ارچن کے انڈوں کی سٹڈی کر رہے تھے۔ اٹلی میں نیپلز کے ساحل پر یہ سادہ جاندار تھے۔ زیادہ تر انواع کے انڈوں کی طرح یہ انڈے بھی سختی سے ایک پارٹنر رکھنے کے قائل تھے۔ ایک بار←  مزید پڑھیے

کینسر (64) ۔ لافانی خلیے/وہاراامباکر

“میں نے چند مائیکرولیٹر خون کے سرطان زدہ خلیات اٹھائے اور انہیں خوردبین کے نیچے رکھا۔ یہ خلیے پھولے ہوئے اور بھدی شکل کے ہیں۔ پھیلا ہوا نیوکلئیس اور سائیٹوپلازم کی بہت پتلی سی دیوار۔ یہ ایسے خلیے کا نشان←  مزید پڑھیے

کینسر (63) ۔ فتح یا شکست؟/وہارا امباکر

جان بیلار نے اپنا پہلا مضمون “کینسر کے خلاف ترقی؟” کے عنوان سے 1986 میں لکھا تھا۔ دوسرا مئی 1997 میں پہلے آرٹیکل کے گیارہ سال بعد۔ ان کا مضمون Cancer Undefeated کے عنوان سے تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے مضمون میں←  مزید پڑھیے

کینسر (62) ۔ پیراشوٹ/وہاراامباکر

میگاڈوز ٹرانسپلانٹر میں سب سے مشہور اور کامیاب ورنر بزووڈا تھے جو جنوبی افریقہ سے تھے۔ ہر مہینے درجنوں خواتین پر یہ کیا جا رہا تھا۔ بزووڈا کو میگاڈوز تھراپی سے زبردست کامیابی مل رہی تھی۔ یہ بڑی خبر تھی۔←  مزید پڑھیے

کینسر (61) ۔ میگاڈوز تھراپی/وہاراامباکر

تیس سالہ مریضہ کو چھاتی کا کینسر تھا۔ تمام روایتی علاج ناکام ہو چکے تھے۔ ان کے لئے کوئی تجرباتی دوا بھی نہیں تھی۔ سٹیمپ میں آنے والی وہ پہلی مریضہ تھیں۔ انہوں نے پیٹرز پروٹوکول کے لئے رضامندی ظاہر←  مزید پڑھیے

کینسر (60) ۔ سرخ چھت/وہاراامباکر

سرجری کی تکنیک میں 1980 کی دہائی میں بہت کچھ نیا آ رہا تھا۔ سرجن اب کلسٹر آپریشن کر رہے تھے۔ کینسر کا شکار مریضوں کے اعضا کے کلسٹر کے ٹرانسپلانٹ کئے جا رہے تھے۔ جگر، پتا، آنت کے حصے←  مزید پڑھیے

کینسر (59) ۔ نیا مرض، نئی تحریک/وہاراامباکر

مارچ 1981 میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے آٹھ نیویارک میں انتہائی نایاب قسم کے کینسر کاپوسی سارکوما کے آٹھ کیسز یکے بعد دیگرے دیکھے۔ یہ غیرمعمولی تھا۔ کاپوسی سارکوما نئی بیماری نہیں تھی۔ انیسویں صدی میں ہنگری کے ماہرِ امراضِ←  مزید پڑھیے