ہارمون جسم کے شہر میں کیمیائی پیغام رساں ہیں۔ یہ جسم کے کسی ایک حصے میں پیدا ہوتے ہیں اور کہیں اور جا کر ایکشن کرتے ہیں۔ یہ انواع و اقسام کے ہیں۔ مختلف سائزکے، مختلف کیمسٹری رکھنے والے، مختلف← مزید پڑھیے
ذیابیطس ایک بری بیماری ہے۔ لیکن کسی وقت میں یہ بہت زیادہ بری ہوتی تھی کیونکہ اس کے بارے میں کچھ کیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ اس کی تشخیص کے ایک سال کے اندر مریض کی تکلیف دہ موت← مزید پڑھیے
انتقالِ خون سے ہر سال بہت سی زندگیاں بچتی ہیں۔ خون کو سٹور کرنا مہنگا کام ہے۔ خون زندہ ٹشو ہے۔ ویسے ہی جیسا دل یا پھیپھڑا یا کوئی اور عضو۔ جیسے ہی اس کو جسم سے نکالا جاتا ہے،← مزید پڑھیے
خون کی جدید سمجھ کا آغاز 1900 میں ویانا کے ایک محقق کی اہم دریافت سے ہوا۔ کارل لینڈسٹائنر نے نوٹ کیا کہ اگر الگ لوگوں کے خون کو آپس میں ملایا جائے تو کئی بار اس میں ڈلیاں سے← مزید پڑھیے
بہت طویل عرصے تک یہ معلوم نہیں تھا کہ خون کا مقصد کیا ہے۔ صرف یہی علم تھا کہ یہ زندگی کے لئے ضروری ہے۔ جالینوس کے وقت سے یہ تصور کیا جاتا رہا تھا کہ یہ جگر میں مسلسل← مزید پڑھیے
آپ کے جسم میں کتنا خون ہے؟ اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کتنے بڑے ہیں۔ ایک نوزائیدہ بچے میں تقریباً ایک چوتھائی لٹر خون ہے جبکہ بالغ شخص میں پانچ لٹر۔ لیکن جو بھی ہے، آپ خون← مزید پڑھیے
دل کی صحت کے بارے میں میڈیکل سائنس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ بیسویں صدی کے میڈیکل کی اچھی کامیابیوں میں سے ہے۔ بہت سے ایسے عارضے آج قابلِ علاج ہو چکے ہیں جو پہلے لاعلاج تھے۔ آج ہم← مزید پڑھیے
ایک بڑا خواب دل کا ٹرانسپلانٹ تھا۔ لیکن یہاں پر ایک بظاہر ناقابلِ عبور رکاوٹ حائل تھی۔ ایک شخص کو مردہ صرف اس وقت قرار دیا جاتا تھا جب اس کا دل ایک خاص مدت تک دھڑکنا رک گیا ہو۔← مزید پڑھیے
بیسویں صدی میں میڈیکل میں جتنی تیز رفتار ترقی دل کے بارے میں ہوئی ہے، شاید ہی کسی اور علاقے میں ہوئی ہو۔ اب اس پر ہونے والے آپریشن معمول ہیں۔ اور اس تک پہنچنے میں بہت سے لوگوں کا← مزید پڑھیے
دل کی خرابی کے بہت سے طریقے ہیں۔ یہ درمیان کی کسی دھڑکن کو چھوڑ (skip) سکتا ہے۔ یہ ایکسٹرا دھڑک سکتا ہے جس کی وجہ برقی نبض کا غلط فائر ہو جانا ہے۔ کئی لوگوں میں دن میں ایسی← مزید پڑھیے
دھڑکن کی دو حالتیں ہیں۔ سسٹول، جب دل سکڑ کر خون کو باہر جسم میں دھکیل دیتا ہے اور ڈائسٹول، جب دل پھیل کر بھر جاتا ہے۔ (بلڈ پریشر کی پیمائش کے دو اعداد ان دو حالتوں کے ہیں)۔ جسم← مزید پڑھیے
ہمارے سینے میں دھڑکتا یہ عضو بہت سی غلط فہمیوں کا مرکز رہا ہے۔ آپ اس پوسٹ پر محبت کرنے والا ری ایکٹ کر سکتے ہیں جس میں ایک عدد سرخ دِل بنا ہے۔ لیکن اس کی شکل اس طرح← مزید پڑھیے
ہمارے سینے میں دھڑکتا یہ عضو بہت سی غلط فہمیوں کا مرکز رہا ہے۔ آپ اس پوسٹ پر محبت کرنے والا ری ایکٹ کر سکتے ہیں جس میں ایک عدد سرخ دِل بنا ہے۔ لیکن اس کی شکل اس طرح← مزید پڑھیے
ہم اپنے منہ اور گلے کی مدد سے ایک بڑا ہی زبردست کام کرتے ہیں۔ یہ بامعنی آواز نکالنے کی صلاحیت ہے۔ پیچیدہ آواز کی تخلیق اور اس کو شئیر کر کے اس میں سے معنی اور خیالات کا تبادلہ← مزید پڑھیے
ہمارے منہ میں ذائقے کے دس ہزار ریسپٹر ہیں جبکہ درد محسوس کرنے والے اور دوسرے سوماٹوسینسری ریسپٹر اس سے زیادہ ہیں۔ چونکہ یہ زبان پر ساتھ ساتھ ہی ہیں تو کئی بار ہم انہیں غلط ملط کر دیتے ہیں۔← مزید پڑھیے
زبان ایک muscle ہے لیکن کسی بھی دوسرے پٹھے سے مختلف ہے۔ اس کی ایک بات تو یہ ہے کہ یہ بہت حساس ہے۔ کھاتے وقت آپ کتنی مہارت سے جانچ لیتے ہیں کہ درمیان میں کچھ ایسی شے آ← مزید پڑھیے
منہ ایک گیلی جگہ ہے۔ اور اس کی وجہ اس میں پائے جانے والے بارہ غدود ہیں جو تھوک پیدا کرتے ہیں۔ ایک عام بالغ فرد دن میں ڈیڑھ لٹر پیدا کرتا ہے۔ اور ایک حساب کے مطابق ایک شخص← مزید پڑھیے
آپ دعوت اڑا رہے ہیں۔ کھا رہے ہیں، باتیں کر رہے ہیں، قہقہہ لگا رہے ہیں، سانس لے رہے ہیں، مشروب کی چسکیاں بھر رہے ہیں ۔۔۔ اور آپ کے گلے کے چوکیدار ہر چیز کو ٹھیک جگہ پر پہنچا← مزید پڑھیے
اپنے منہ کے اندر دیکھیں تو بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن کا ہمیں معلوم ہے۔ زبان، دانت، مسوڑھے، عقب میں تاریک سوراخ جس کے اوپر ایک چھوٹا سا فلیپ لٹک رہا ہے جس کو uvula کہا جاتا ہے۔ لیکن← مزید پڑھیے
بہت اونچی آواز سے ہونے والے ضرر سے محفوظ رہنے کے لئے ہمارے پاس صوتی ردِ عمل (acoustic reflex) ہے۔ اس میں مسلز جھٹکے سے کوکلیا سے رابطہ منقطع کر دیتے ہیں۔ یعنی کہ بہت اونچی آواز سرکٹ بریکر آن← مزید پڑھیے