نیلم احمد بشیر کی تحاریر

بائیسکوپ کا تماشا ۔۔۔۔نیلم احمد بشیر

آج کل پاکستانی سیاست پر ایک دلچسپ تماشا چل رہا ہے، پردہ کبھی اٹھتا ہے تو کبھی گرتا ہے مناظر تبدیل ہوتے اور ہوتے چلے ہیں۔  گلی گلی میں پھیری لگانے والے آوازہ لگاتے گھوم رہے ہیں پرانے برتن دے←  مزید پڑھیے

زور آور۔۔۔۔۔ نیلم احمد بشیر

آج آخری روزہ تھا- افطاری کا وقت ہونے ہی والا تھا، نوری مسجد کے بڑے سے صحن میں قرآن شریف پڑھنے کے لئے آئے ہوئے طالبعلم دھلی ہوئی اینٹوں والے سرخ سرخ فرش پر منظم انداز میں قطاریں بنا کر←  مزید پڑھیے

رقص گر۔۔۔نیلم احمد بشیر/نظم

محبتوں کے ناچ گھر میں ناچتے تھے دو بشر تھام کر ہاتھوں میں ہاتھ پیر اٹھتے تھے ساتھ ساتھ ایک حسینہ پھول سی، اک دیوانہ مست سا زندگی کے والٹز(waltz) کی دھن کیسی تھی مدھر مدھر اڑتے تھے ہرجا گلابی←  مزید پڑھیے

اللہ کی مخلوق ۔نیلم احمد بشیر

  دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کے بیچوں بیچ انہوں نے اپنا خفیہ ٹھکانہ، اپنی پناہ گاہ بنا رکھی تھی۔ وہ  اپنے ہر اس شکار کو یہیں لے کر آتے جسے اغوا کرنے کے بعد انہیں ایک موٹی رقم مل سکتی←  مزید پڑھیے