گُل پھینکے ہیں ۔۔۔۔نیلم بشیر احمد

یکایک چاروں طرف سے فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں ،راہ گیر چلتے چلتے منجمند ہوگئے۔سب لوگ پناہ لینے کو اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔سڑک پل بھر میں سنسان ہوگئی۔ہم وطن ایک دوسرے پر گولیاں برسا رہے تھے۔ایک گروپ ان لوگوں کا تھا جو پاکستان میں رہائش رکھنے،پاکستان میں پیدا ہونے،اُس  سے زندگی حاصل کرنے کے باوجود خود کو پاکستانی کہلوانا پسند نہیں کرتے۔دوسرا گروپ اُن لوگوں کا تھا جو چاہتے تھے کہ وہ اپنی اس سوچ کو بدل ڈالیں ،تعصب کے بجائے محبت کا رویہ اختیار کریں ۔اپنی شناخت کے حوالے کو عزت بخشیں ۔

گولی کب جانتی ہے کہ کون کیا چاہتا ہے؟۔۔۔کِس کا موقف کیا ہے۔۔صحیح ہے یا غلط ہے؟۔۔۔اُسے تو بس کھوپڑی میں چھید ڈالنے اور سینہ چیردینے کا ہنر آتا ہے۔کتنے ہی برس گزرے عروس البلاد کی مانگ میں خون کا سندور خشک ہو کر جم چکا ہےاور کوئی اُس کا سہاگ واپس دلانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔اور جو لوگ یہ خونی کھیل کھیلتے چلے جارہے ہیں ،انہیں کون بتائے کہ خون بہانے یا بہنے کی چیز نہیں ہے۔اُسے بہانے لگو تو زمین سے زخموں اور کانٹوں کی فصل پُھوٹ نکلتی ہے۔

اِسے پینے لگو تو تَن مَن میں آگ لگ جاتی ہے۔روح کی پیاس جاری و ساری رہنے والی ایک ابدی پیاس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

گولیوں کی بوچھاڑ سے خوفزدہ راہگیر ایک آڑ میں ہوگیا ،مگر یہ دیکھ کر اُس کا خون خشک ہوگیا کہ نیلے رنگ کی سُوتی یونیفارم پہنے ،کالے بالوں میں سُرخ رِبن کی چوٹیاں گوندھے،گُلاب کا ایک تروتازہ پھول،گلے میں بستہ لٹکائے،سڑک پار کررہا تھا۔اُسے کیا خبر کہ اُس کا ہراُٹھنے والا قدم اُسے کس خار زار کی طرف دھکیل رہا ہے۔

شہر کے پھولوں اور سبزہ کو پانی دینے والے میونسپل کارپوریشن کے ٹرک ڈرائیور نے چاروں طرف تڑ تڑ بستی گولیاں دیکھ کر ایک زور دار بریک لگائی اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اپنی جان بچانے کو کسی کونے کی تلاش میں بھاگ کھڑا ہوا۔اُس نے بریک لگاتے ہوئے سڑک کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔سڑک کے بیچوں بیچ اچانک اُگ آنے والے پھول کے لیے رُکنے کی اُسے ہر گز فرصت نہیں تھی۔وہ اُس وقت اپنی جان بچاتا یا سڑک کی جانب دیکھتا ۔

“راہگیر کی آنکھیں شدتِ غم سے چِر گئیں ،مگر اُن میں پانی نے نہ آنے کی قسم کھالی،اے کاش میں اس بچے کو جاکر دیکھ سکوں ،شاید اس میں سانس کا کوئی سُر باقی ہوابھی۔۔اُس نے ٹرک کے پہیوں کے بیچ کچھ مسلی ہوئی پتیوں کی طرف  دیکھ کر کرب سے سوچا۔۔۔یا اللہ رحم کر !ایک ننھا سا بازو پہیوں کے درمیان سے باہر جھانک رہا تھا۔اوہ خدایا تیرا شکر ہے!۔۔۔”راہگیر نے ایک ٹریفک سپاہی کو تیزی سے اُس مسلے ہوئے پھول کی جانب جاتے دیکھ کر سُکھ کا سانس لیا ۔

چلو شُکر ہے ۔۔کسی میں تو انسانیت کی رمق باقی ہے،شاید رحمت کا یہ فرشتہ اِس بچے کو بچا سکے۔”سوچ کے آزار میں مبتلا راہگیر دعائیں مانگنے لگا ۔۔

سپاہی نے ٹرک کے نیچے گُھس کر جھانکا۔۔پھول بے جان لگتا تھا۔اُس نے باہر جھانکتے ہوئےبازو کو تھاما۔۔ننّھا سا بے جان بازو لڑھک گیا۔سپاہی نے بازو کو جلدی جلدی ٹٹولا اور اِس پر بندھی ننّھی پیاری سی گھڑی اُتار کر جیب میں ڈال لی۔۔

راہگیر کے سینے سے نکلی ہوئی بے آواز چیخ کے شور سے آسمان میں چھید ہوگیا !

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *