قلاباز دل۔۔۔نیلم بشیر احمد

شنید ہے کہ معاشرے کو راست باز اور پاکیزہ تر بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جارہا ہے۔ خبر آئی ہے کہ آنے والے یوم محبت یعنی بد نام زمانہ ویلنٹائن ڈے کو جائز اور حلال بنانے کے لئے ایک یونیورسٹی کے طلبا، اپنی ہم جماعت لڑکیوں کو سرخ گلاب کی جگہ تحفے میں عبائے، برقعے اور دوپٹے عطا کریں گے اور اس کے بعد انہیں بہن کہہ کر پکاریں گے۔ یوں مائل بہ نظارہ بدن شریف ان کی کھوجی نگاہوں سے اوجھل رہ کر انہیں ڈگمگا جانے سے روک لیں گے۔

لڑکیوں کی نفسانی روحانی اور ہر طرح کی خواہشات کا قلع قمع ہوتے ہی ماحول میں طہارت پھیل جائے گی۔ یوں شرافت اور حیا داری کا چلن عام ہو جائے گا۔
ابھی تو میری زبان سے عذرا عباس صاحبہ کی تازہ نظم کا ذائقہ بھی زائل نہیں ہوا تھا کہ یہ فرمان مجھے تو حیران کر گیا وہ نظم آپ میں سے بھی کسی کی نظر سے گزری ہو گی جس میں وہ کہتی ہیں اگر تم مجھے ایک برقع پہنا کر ڈھانپنا چاہو تو کیا میری چھاتیوں کا غرور تم سے چھپ سکے گا۔

یہ بات تو آ پ بھی مانیں گے کہ برقعوں، لبادوں اور غلافوں میں تن چھپتا نہیں بلکہ مزید تن کر جلوہ افروز ہو جاتا ہے۔ یقین نہ ہو تو اس کا خود مشاہدہ کر لیجئے۔ ویسے یہ کہاں کا انصاف ہے کہ لڑکیوں کے جسموں کی کشش کو تو ڈھکنے اور ڈھاپنے کے منصوبے تیار کئے جائیں اور لڑکوں کو سرعام اپنے جسموں کی نمائش کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔ کیا عورتوں کے دل میں جذبے اور خواہشات نہیں ہوتیں۔ ادب، آ رٹ اور فنونِ لطیفہ کی دیگر اصناف کو اٹھا کر دیکھ لیں ان میں مردانہ وجاہت کے ہمیشہ سے ہی قصے سنائے اور گن گائے جاتے ہیں۔ توانا متناسب مردانہ جسم اچھے ڈیل ڈول کا مالک اگر رسیلی نرم رومانی گفتگو کا ہنر بھی جانتا ہو تو عورتیں اس کے قدموں میں اپنا دل رکھنے سے ہچکچاتی  نہیں۔ آج کے انٹرنیٹ کے دور میں کسی کی بھی کسی سے رسائی منٹوں میں ممکن ہے۔ جسموں پر غلاف ڈال لینے سے رضا اور رغبت کے باب بند نہیں کئے جاسکتے یہ ویسے بھی woman on top کا زمانہ ہے. عورتیں تعلیم، ذمہ داری کارکردگی اور دیگر معاملات میں قائدانہ صلاحیتیں دکھا رہی ہیں تو کیا وہ اس ایڈونچر کے کھیل میں خود کو پس پشت ڈال سکیں گی، ہرگز نہیں۔

شام ڈھلتے اور رات کا پلو سرکتے ہی فیس بک اور واٹس ایپ میسنجرز پر بےچین آتماوں کے گشت شروع ہو جاتے ہیں۔ جذبات کے سرد خانوں میں آگ دہکتی ہے، اکتاہٹ اور بوریت کے شکار سیلن زدہ گھریلو زندگیوں میں رونقیں لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ انٹرنیٹ کے چور دروازوں اور کھڑکیوں کے پٹ کھٹکھٹائے جاتے ہیں اور خفیہ سرنگوں میں پناہ گاہیں ڈھونڈنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے عام طور پر چیٹنگ کرنے والے خود کو کافی حد تک محفوظ سمجھتے ہیں کیونکہ مدمقابل اکثر جغرافیائی طور پر مخفی اور فاصلے پر ہوتا ہے یوں دونوں پارٹیاں ہر قسم کی ذمہ داری سے خود کو مستثنیٰ سمجھ کر مزے سے قدم آگے بڑھاتی چلی جاتی ہیں۔
آ ج ہر ایک کے پاس اپنا ایک اسمارٹ فون ہے جس میں وہ آزادی سے اپنی ایک دنیا سجائے بیٹھا ہے۔ سروں پر خوانچے دھرے ہیں۔ آ وازیں لگ رہی ہیں۔ “ہے کوئی جو میری وحشتوں کا ساتھی بن سکے؟”

انجان مرد عورت کی میٹنگ، سائبر ملاقاتیں آج کے معاشرتی ڈھانچے کو تیزی سے تبدیل کرتی چلی جا رہی ہیں۔
انٹرنیٹ سکرین ایک ایسی شکارگاہ بن چکی ہے جہاں محبت اور توجہ کی طالب بھٹکتی پیاسی ہرنیاں خود شکاریوں کے تیر کی امید لیے بگٹٹ دوڑے چلی آتی ہیں۔
ویڈیو کے ذریعے رات گئے اجنبی خواب گاہوں تک رسائی اور پھر آسودگیوں کے سلسلے شروع ہو جاتے ہیں۔ آج کی عورت اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے ۔ جوان، ڈھلتی عمر، شادی شدہ، سنگل اب اس میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں رہی۔ کچھ ایسی بھی ہیں جن کے گھر اور دل اب دونوں خالی ہیں وہ اپنے اونچے اونچے نا آسودہ محلوں میں تنہائی کی زنجیروں میں بندھی خالی ڈبے اور خالی بوتلیں بن چکی ہیں۔

ایسے میں چیٹنگ انہیں ایک ایسی خیالی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں کسی نہ کسی میسر شخص کا ساتھ مل ہی جاتا ہے۔ یہ جز وقتی ٹائم پاس محبتیں فوری تسکین، انسٹنٹ دل کے بہلاوے اور بہکاوے ثابت ہوتی ہیں۔ جھوٹ موٹ کے بہن بھائی بنا کر یا ٹی وی کے کسی ڈرامے میں ہندو لڑکی کی ساڑھی اور بلاؤز کے بیچ سے جھانکتے پیٹ پر دھند اور دھواں چھوڑ کر آج انٹرنیٹ کے رویوں، بدلتے رجحانات اور آزاد پروازوں کو روکنا آسان کام نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *