سوز کیا ہے اور کیوں ضروری ہے ؟/محمد جنید اسماعیل

سوز بنیادی پر ایک چنگاری کا نام ہے جو انسان کو تجسس اور جستجو پر اُکسائے رکھتی ہے ۔سوز ہی انسان کی محنت اور آگے بڑھنے کی خواہش کے پیچھے کارفرما قوت ہے ،سوز ہمیشہ تکالیف اور ناکامیوں سے حاصل ہوتا ہے ۔اگر انسان کچھ خواہشیں پالے اور اُنہیں حاصل نہ کرسکے تو اُس کا نتیجہ سوز کی صورت سامنے آئے گا ،اب انسان پر منحصر ہے کہ وہ سوز کو درد بنالے یا راہنما ،درد فقط رونے دھونے کے کام آئے گا اور سوز آگے بڑھنے کے ۔سوز انسان کے لیے ایسے کام کرتا ہے کہ جیسے راکٹ کے اُوپر اُٹھنے میں اُس میں موجود گیس۔

جیسا میر متقی نے اپنے بیٹے میر تقی میر کو نصیحت کی تھی “بیٹے عشق اختیار کر ۔”
اس طرح میں اپنے طُلباء اور دوستوں کو یہی مشورہ دیتا ہوں “یارو تکالیف برداشت کرو اور ناکامیاں دیکھو ،سوز ملے گا۔ ”

Advertisements
julia rana solicitors

طُلبا سے یہ بے تکلفی اختیار کرنے کی وجہ اُن کو تعلیمی معیار میں کم زور رکھنے کی نہیں بلکہ اِس اعتماد دینے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بچے جن کو سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ سیدھا آکر اپنے معلم سے ساری باتیں کرسکیں اور اُن کا کماحقہ حل لے کر جاسکیں۔میرے تدریسی تجربے کے دوران کئی  ایسے طلباء ملے جنہیں سمجھا نہیں گیا ورنہ وہ مُلک و ملت کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتے تھے ،جب میں نے اُنہیں یہ اختیار دیا کہ وہ اُستاد کو کوئی بھی ذاتی بات بتاسکتے ہیں تو اُن کے اندر اعتماد پیدا ہوا جس نے اُن کی تعلیمی کارکردگی میں بھی بہتری آئی اور وہ کئی مسائل سے بھی بچ گئے ۔ہمارے ہاں بہت سے بچے ایسے مسائل کا شکار ہیں جن کا وہ کسی سے ذکر نہیں کرسکتے اور ہمارے والدین اُنہیں اتنا بے تکلفی کا ماحول فراہم ہی نہیں کرتے کہ وہ ایسے مسائل کسی اشارے کی صورت ہی اُن تک پہنچا سکیں ۔میں ایک عام سی مثال سے یہ بات واضح کروں گا کہ ہمارے طلباء چھوٹی عمر میں محبت اور چاہت جیسے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں جو کہ مکمل طور پر فطری بات ہے لیکن اسے اتنا قابلِ نفرت بنادیا گیا ہے کہ کوئی اس کا ذکر اپنے خاندان میں کر ہی نہیں سکتا ،اساتذہ نے تو ویسے بھی احترام کے نام پر بچوں کو خوفزدہ کیا ہوتا ہے ،ایسے میں پھر بچے ایسے مسائل اپنے کم عمر اور نادان دوستوں کو بتاتے ہیں جو کہ خود نابالغ اور ناسمجھ ہونے کے باعث اُس بچے کی نہ صرف تشفی نہیں کراپاتے بلکہ اکثر اوقات بچے کو غلط مشوروں کے ذریعے مزید بگاڑ دیتے ہیں ۔اس طرح کے کئی مسائل ہیں جن کو لے کر بچے اتنا خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے قریبی اور قابلِ بھروسہ لوگوں سے ذکر کی بجائے نادان مگربظاہر مشفق لوگوں سے کرتے ہیں جس وجہ سے اکثر اوقات اُنہیں غلط مشوروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بچے کو خاندان اور اسکول کی طرف سے یہ تعلیم دی جانی چاہیے کہ اُس کی زندگی کے تجربات ناگزیر ہیں لیکن وہ ان تجربات کے دوران درست راہ اختیار کرے ،سوز اور تجربہ اُس کے لیے ہر موڑ پر اہم ترین ہیں لیکن اُس کے زندگی میں لیے گئے فیصلوں کا اثر اُس کی بقیہ زندگی پر ہمیشہ پڑے گا ،اس وجہ سے کسی بچکانہ فیصلے سے پہلے وہ اپنے خاندان یا انتہائی سطح پر اپنے اساتذہ سے ضرور مشورہ کرے ۔خاندان کے افراد اور اساتذہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچے پر دشنام طرازی اور غصہ کرنے کی بجائے اُس کو اُن احساسات و جذبات کا درست استعمال بتائیں جس سے نہ صرف اُن کی تشفی ہو بلکہ اُن کے یہ قیمتی جذبات بھی درست ڈگر پر استعمال ہوسکیں۔
بچوں کو یہ شعور دیں کہ سُوز اُن کی تیسری آنکھ ہے جو اُن کو مستقبل کی خبر دے گی ،جو حال میں اُن کو درست غلط کی پہچان دے گی اور جو ماضی کی کوتاہیوں پر بجائے وقت ضائع کرنے وہ ایک تجربے کے طور پر لینے کی طاقت فراہم کرے گی ۔بچوں کو اس تیسری آنکھ کا درست استعمال کرنا سکھائیں ،ایسا نہ ہو کہ وہ پہلے سے موجود دو آنکھوں سے بھی درست طور پر نہ دیکھ سکیں ۔بچوں کو دوست بنائیں اور دوست تو بھلائی کا کام کرتا ہے ۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

محمد جنید اسماعیل
میں محمد جنید اسماعیل یونی ورسٹی میں انگلش لٹریچر میں ماسٹر کر رہا ہوں اور مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں کالم اور آرٹیکل لکھ رہا ہوں۔اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ٹیلنٹ مقابلہ جات میں افسانہ نویسی میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کرچکا ہوں،یونیورسٹی کی سطح تک مضمون نویسی کے مقابلہ جات میں تین بار پہلی پوزیشن حاصل کرچکا ہوں۔مستقبل میں سی ایس ایس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔میرے دلچسپی کے موضوعات میں کرنٹ افیئرز ،سیاسی اور فلاسفی سے متعلق مباحث ہیں۔اس کے علاوہ سماجی معاملات پر چند افسانچے بھی لکھ چکا ہوں اور لکھنے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply