بائیسکوپ کا تماشا ۔۔۔۔نیلم احمد بشیر

آج کل پاکستانی سیاست پر ایک دلچسپ تماشا چل رہا ہے، پردہ کبھی اٹھتا ہے تو کبھی گرتا ہے مناظر تبدیل ہوتے اور ہوتے چلے ہیں۔  گلی گلی میں پھیری لگانے والے آوازہ لگاتے گھوم رہے ہیں پرانے برتن دے کر خوابوں  سے بھرے  ہوئے جادو کے ڈبے لے جاؤ ۔  اور ہم بچارے ووٹرز سر نیہوڑائے ہوئے سوچ رہے ہیں ،جائیں تو جائیں کہاں۔ آخر ووٹ کس کو دیں۔  ڈگڈگی بج رہی ہے اور ارمانوں کی سیج سج رہی ہے ۔الیکشن سر پر ہیں اور ہم بیچارے  ووٹرز  پریشان ہیں ۔ سابقہ حکمران آزمودہ اور ان کا نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔ سرکس جاری ہے۔ پردہ  کبھی اٹھتا کبھی گرتا ہےمگر مناظر تبدیل نہیں ہوتے۔

میں احمد بشیر جیسے  پاکستان کے عاشق  ادیب کی بیٹی انہی کی طرح پاکستان کی محبت میں گرفتار اور فکر مند رہتی ہوں۔الیکشن 1970 کا زمانہ آنکھوں میں گھوم رہا ہے۔ میں اور ابا پوری رات بیٹھ کر نتائج دیکھتے رہے ۔ اس رات پی ٹی وی کی ٹرانسمیشن میں پہلی بار طاہرہ سید ملکہ پکھراج اور ریشماں کو گاتے سنا تو  ہم جھوم جھوم اٹھے۔ بھٹو صاحب آئے اور چھا گئے۔ ان کی محبت میں لوگوں نے شلوار قمیض کے عوامی سوٹ پہن لیے اور  چائنیز کالر والے کوٹ بھی اپنا لیے، کسانوں, طالب علموں, کوچوانوں, محنت کشوں اور مزدوروں کے دل ناچ اٹھے ۔وقت گزرتا گیا ضیاء الحق بھٹو کے پہلو سے اٹھا اور انہیں قتل گاہ تک لے گیا۔ ضیاءالحق کا سیاہ بھوت پورے ملک پر آسیب بن کر چھا گیا مگر بھٹو صاحب نے بھی عوام کے خوابوں کو تعبیر نہ بخشی تھی۔  ضیاء الحق نے ملک کی عنان  سنبھال کر کوڑے برسانے کا نظام متعارف کروایا اور پاکستان کو اک میانہ رو سوفٹ لبرل سے ملک سے متشدد طالبان اسلام کا حامی ملک بنا دیا۔ مشرف, بے نظیر, شریف در شریف آتے چلے گئے مگر عوام کے ہاتھوں کے  تالے بند کے بند رہے ۔۔نہاری, پائے اور کھابے  کھانے  والے دیکھتے دیکھتے اپنے محلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور گندے باتھ روم استعمال کرنے پر مجبور ہوئے ۔بےنظیر کا بدن پرزے پرزے ہوا۔ زرداری کے گھوڑوں نے مہنگے مربے کھائے۔ جی میں آتا ہے بلاول بچے کو کہوں  اس گلی نہ جا طوطیا من موتیا ،تیرے آباء کو کبھی نارمل زندگی یا موت نصیب نہ ہوئی۔  خون کی ہولی کے چھینٹے کہیں خدانخواستہ تیرے دامن تک نہ آپہنچیں۔ وہ بچہ ہے اس لئے مجھے اس کی فکر ہوتی ہے ۔کھیل جاری ہے۔۔۔

سرکس میں ایک نیا رنگ ماسٹر آیا ہے۔  ۔عورت کا جادو اس کے سر پر چڑھ کر بولتا ہے تو کیا ہوا صادق اور امین تو ہے ۔مگر کیا کریں اس کے سر پر رکھی  ہوئی دستار پر طالبانی ٹوپی کا شائبہ ہوتا ہے۔

بائیسکوپ کا تماشا جاری ہے۔ بارہ من کی دھوبن نہ سہی ریحام کی کتاب دیکھو, پنکی جادوگرنی کا فسوں دیکھو, سفید سائپرس والا چیتا دیکھو جو پچھلے الیکشن میں مریم نواز نے لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹا، پر جانبر نہ ہو سکا. بلاول کی گلابی اردو اور اس کی نڈر ماں دیکھو. مستونگ کے مرحومین اور مقتولین دیکھو. آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں پر دو آنکھیں کہاں تک دیکھیں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *