ناصر عباس نیّر کی تحاریر

استعماریت، نسل پرستی اور دو دنیائیں /ناصر عباس نیّر

قدیم اور عہد وسطیٰ کے حکمران دو دنیائیں تشکیل دیتے آئے ہیں: حکمرانوں، ان کے حلیفوں کی دنیا اور اپنے محکوموں کی دنیا۔ پہلی دنیا اپنے قلعوں ، محلات ،معابد،مقابر کی عظیم الشان عمارات اورباغات اور طرح طرح کے تعیشات←  مزید پڑھیے

آزادی، بزرگی ، تجربے کی تنہائی کا بوجھ/ناصر عباس نیّر

ایرخ فرام نے کوئی اسی برس پہلے لکھا تھا کہ لوگ اپنی ہی آزادی سے فرار حاصل کرتے ہیں۔ وہ آزادی کی آرزو میں مرے جارہے ہوتے ہیں۔پھر آزادی کے لیے لڑتے ہیں۔ بالآخرآزادی حاصل بھی کر لیتے ہیں، مگر←  مزید پڑھیے

شاعرانہ صناعی اور شعری صنعت/ناصر عباس نیّر

اسی مقام پر میر کی صناعی اور صنعت شعری پر چند باتیں عرض کرنی ضروری ہیں۔ تسلیم کرنا چاہیے کہ صنعتِ تضاد سے حسن پیدا کرنا عام سی بات ہے۔ میر نے بھی یہاں، یہی عام طریقہ برتا ہے۔ اکثر←  مزید پڑھیے

کرّہ ارض سے بیگانگی،سرمایہ داریت اور کارونجھر کی نیلامی/ناصر عباس نیّر

اب تک ہم بیگانگی کی تین قسموں سے واقف تھے۔ محنت کش، جب اپنی محنت کا صلہ نہیں پاتا تو محنت کےعمل ہی سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ یہ بیگانگی کا اشتراکی تصور تھا۔ جب کوئی شخص دنیا کو اپنے وجود←  مزید پڑھیے

عالمی ادب یا عالم کا ادب/ناصر عباس نیّر

عالمی ادب کی اصطلاح کثرت سے استعمال ہوتی ہے، مگر یہ کم ہی غور کیا جاتا ہے کہ عالمی ادب ہے کیا؟ کیا اس عالم کی سب (سات ہزار سے زائد) زبانوں کا پورا یا منتخب ادب عالمی کہلاتا ہے←  مزید پڑھیے

ہم نے دشمن کیسے ایجاد کیا؟/ناصر عباس نیّر

آپ کہاں سے ہیں؟ اٹلی سے۔         آپ کے دشمن کون رہے ہیں؟ میں سمجھا نہیں۔ میرا مطلب ہے وہ کون لوگ ہیں، جن کے خلاف صدیوں تک آپ لڑتے رہے ہیں، زمین کی ملکیت، نسلی رقابت،←  مزید پڑھیے

’’خط کے عالمی دن کے اختتام پر، خط کی یاد میں‘‘/ناصر عباس نیّر

پہلا خط کب لکھا تھا ؟ کچھ یا دنہیں۔ یہ بھی یاد نہیں آتا کہ کس کو لکھا تھا۔       یہ کہنا نری شاعری ہوگا کہ پہلا خط اس وقت لکھا تھا ، جب لکھنا سیکھا تھا۔ لکھناسیکھنے←  مزید پڑھیے

کچی، ویران ،خستہ حال مسجد؛ خدا کا گھر؛ خدا اتنے زیادہ گھروں کا کیا کرتا ہے/ناصر عباس نیّر

میں زکریا یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا۔ صبح ناشتے کے بعد ذرا سیر کے لیے نکلا۔ میں بائیں جانب چلتا ہوا، آموں کے باغ کی طرف گیا۔ آگے چلا تو ایک چھوٹی مسجد نظر آئی۔شکستہ، ویران ،←  مزید پڑھیے

بدترین حالت کونسی ہوتی ہے؟/ناصر عباس نیّر

بدترین حالت کیا ہوتی ہے؟ کیا صرف وہی جو بہترین نہ ہو؟ ہم میں سے کتنے ہیں جنھوں نے اپنی عمر عزیز میں واقعی بہترین حالتوں کا تجربہ کیا ہے اور ان سے ان کی یادوں میں شہد کی سی←  مزید پڑھیے

ہم نےدشمن کیسے ایجاد کیا؟-ناصر عباس نیّر

آپ کہاں سے ہیں؟ اٹلی سے۔ آپ کے دشمن کون رہے ہیں؟ میں سمجھا نہیں۔ میرا مطلب ہے وہ کون لوگ ہیں، جن کے خلاف صدیوں تک آپ لڑتے رہے ہیں، زمین کی ملکیت، نسلی رقابت، سرحدی در اندازیوں وغیرہ←  مزید پڑھیے

نثر ،شاعری ، نطشے، نیّر مسعود/ناصر عباس نیّر

نطشے نے اپنی کتابJoyous of Science میں لکھا ہے کہ نثر کے عظیم اساتذہ ،شاعر بھی ہوئے ہیں۔ کچھ نے تو شاعری لکھی بھی ،جب کہ کچھ غیر اعلانیہ شاعر تھے۔ وہ نجی زندگی کے باقی رازوں کی مانند شاعری←  مزید پڑھیے

عالمی ادب یا عالم کا ادب/ناصر عباس نیّر

عالمی ادب کی اصطلاح کثرت سے استعمال ہوتی ہے، مگر یہ کم ہی غور کیا جاتا ہے کہ عالمی ادب ہے کیا ؟ کیا اس عالم کی سب (سات ہزار سے زائد) زبانوں کا پورا یا منتخب ادب عالمی کہلاتا←  مزید پڑھیے

کرہ ارض سے بیگانگی، سرمایہ داریت ، کارونجھر کی نیلامی /ناصر عباس نیّر

اب تک ہم بیگانگی کی تین قسموں سے واقف تھے۔ محنت کش ،جب اپنی محنت کا صلہ نہیں پاتا تو محنت کےعمل ہی سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ یہ بیگانگی کا اشتراکی تصور تھا۔ جب کوئی شخص دنیا کو اپنے وجود←  مزید پڑھیے

’’ ایڈور ڈسعید : تاریخی آغاز ، الوہی ماخذ اور شرق شناسی‘‘/ناصر عباس نیّر

گزشتہ اتوار ڈاکٹر شیر علی نے الحمد یونیورسٹی میں ’‘ایڈورڈ سعید کی شر ق شناسی ‘‘ پر ایک سیمینار منعقد کیا۔ مجھے کلیدی گفتگو کی دعوت دی گئی تھی۔ فتح محمد ملک صاحب کی صدارت تھی۔میں دونوں کا ممنون ہوں۔ملک←  مزید پڑھیے

کچھ مرثیے کے باب میں/ناصر عباس نیّر

داستان گوئی اور مشاعرے ،’زبانی ثقافت ‘ کے اظہار و کارکردگی کے سب سے بڑے میدان تھے۔ مرثیے کی مجلس تیسرا بڑا میدان بنی۔داستان و مشاعرے کی محفلیں اور مرثیے کی مجالس میں کئی باتیں مشترک تھیں مگر ایک بات←  مزید پڑھیے

میلان کنڈیرا: الوداع/ناصر عباس نیر

کسی ادیب کے انتقال کے فوری بعد کچھ لکھنااعصاب سے زیادہ ، موت کو قبول کرنے کی ہماری صلاحیت کا امتحان ہے۔ موت سب سے بڑی اور ہر لمحہ برپا رہنےو الی حقیقت ہے ۔ ہم بڑی مگر ہر لمحہ←  مزید پڑھیے

شاعرانہ صناعی اور شعری صنعتیں/ناصر عباس نیّر

اسی مقام پر میر کی صناعی اور صنعت شعری پر چند باتیں عرض کرنی ضروری ہیں ۔ تسلیم کرنا چاہیے کہ صنعت ِ تضاد سے حسن پیدا کرنا عام سی بات ہے۔میر نے بھی یہاں ، یہی عام طریقہ برتا←  مزید پڑھیے

اوتھیلو، سفید نسل پرستی اور نسائیت/ناصر عباس نیّر

شیکسپیئرکےڈرامے اوتھیلومیں اوتھیلو اگرچہ وینس کی ریاست میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے،مگرایک سیاہ فام ہے۔اس کا اعلیٰ عہدہ بھی اس کی سیاہ فامی کا داغ نہیں دھو سکتا۔وہ ایک سفید فام برابان تیو (ڈیوک آف وینس)کی بیٹی ڈیسڈیمونیا کو←  مزید پڑھیے

کلیم نصوح کاماضی ہے/ناصر عباس نیّر

واضح رہے کہ تعبیرِ خواب کے ذریعے اس الجھن کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،جو خواب دیکھنے والے کے ماضی اور حال میں عدم مطابقت کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہے۔اس کی سب سے اہم مثال تو←  مزید پڑھیے

میلان کنڈیرا کا ’دیوار کے پیچھے، کافکائیت اور طاقت کی الہیات/ناصر عباس نیّر

۱۹۷۹ء میں جب پاکستان میں جنرل ضیا کے مارشل لا کا سورج نصف النہار پر تھا، اعجاز راہی کے مرتبہ افسانوی مجموعے ’’گواہی ‘‘ پر پابندی لگ چکی تھی،جس میں ادب کو اپنے زمانے کے سب سے بڑے گواہ کے←  مزید پڑھیے