• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • استعماریت، نسل پرستی اور دو دنیائیں /ناصر عباس نیّر

استعماریت، نسل پرستی اور دو دنیائیں /ناصر عباس نیّر

قدیم اور عہد وسطیٰ کے حکمران دو دنیائیں تشکیل دیتے آئے ہیں: حکمرانوں، ان کے حلیفوں کی دنیا اور اپنے محکوموں کی دنیا۔

پہلی دنیا اپنے قلعوں ، محلات ،معابد،مقابر کی عظیم الشان عمارات اورباغات اور طرح طرح کے تعیشات سے پہچانی جاتی ہے۔ اس دنیا کی جگہ اور آبادی مختصر ہوتی ہے مگر زیر نگیں کے وسیع رقبے کے چپے چپے پر اسی دنیا کا حکم اور سکہ چلتا ہے۔ یہی زیر نگیں دنیا دوسری دنیا ہوتی ہے۔ان دونوں دنیاؤں میں فاصلہ بھی موجود ہوا کرتا تھا،اور یہی فاصلہ دراصل محفوظ حکمرانی کوممکن بناتا تھا۔
یورپی استعمار نے بھی دو دنیائیں تشکیل دیں۔ یورپی استعمار ہر معاملے میں اختراع سے کام لیتا تھا۔ دو دنیاؤں کی تشکیل میں بھی اس نے کئی اختراعات کیں۔ان میں سب سے اہم اختراع نسل کو اپنے سیاسی تصور سے لے کر علمی ، ادبی ،ثقافتی، سائنسی و فلسفیانہ تصورات تک میں بروے کار لانا تھا۔ واضح رہے کہ نسل پر تفاخر اور نسل کی بنیاد پر امتیاز ، یورپی استعمار کی اختراع نہیں تھے، انھیں باقاعدہ آئیڈیالوجی کا درجہ دینا اور اپنے علم واقدار کی بنیادمیں شامل کرنا اختراع تھا۔

دوسرے، مختلف اور اجنبی لوگوں کے لیے ناپسندیدگی کے جذبات انسان قدیم سے محسوس کرتا آیا ہے۔ اپنے خاندان سے باہر لوگ، آدمی کے لیے دوسرے، مختلف اور اجنبی رہے ہیں۔ خاندان توسیع پاکر قبیلہ بنا ہے۔ تاہم خاندان اور قبیلے میں ایک بنیادی فرق ہے۔ خاندان کو خون کا رشتہ یکجا رکھتا ہے، جب کہ قبیلے کی یکجائی کا انحصار ان کہانیوں،روایتوں اور قدروں پر ہوتا ہے ، جن کی پاسداری کا ایک غیر تحریری حلف قبیلے کے سب افراد اٹھاتے ہیں۔

خاندان یا قبیلے کے دوسرے، مختلف اور اجنبی لوگوں کے لیے ناپسند یدگی کے جذبات کی نوعیت دفاعی ہوتی ہے۔ آدمی کے لیے اپنی ہی نوع سب سے زیادہ معما رہی ہے۔ جانوروں کے ہر عمل کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے، آدمی کے عمل کی نہیں۔ چناں چہ قدیم زمانے میں خود سے مختلف آدمیوں سے ، لوگ خوفزدہ ہوا کرتے تھے ، اور انھیں ناپسند کرتے تھے اور ان سے دور رہا کرتے تھے۔جب کبھی خود سے مختلف لوگوں سے سامنا ہوتا تو ان کا ٹھٹھا اڑایا جاتا اور انھیں دور بھگایا جاتا۔نئے ،مختلف، اجنبی آدمی کو اپنے قبیلے میں شامل نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ جذبات آج بھی سب انسانوں میں کم یا زیادہ موجود ہیں۔ اجنبی سے خوف اور اس کے لیے ناپسندیدگی ،آج بھی عام انسانی جذبہ ہے۔

نسل پرستی کی بنیاد خود اپنے خاندان ، قبیلے کے ساتھ رہنے اور محفوظ رہنے کی جبلی خواہش تھی۔ البتہ نسل پر تفاخر اوراسے ایک نظریے کی صورت دینے کا سبب جبلی نہیں، سیاسی ہے۔ جبلی جذبہ اپنی خام صورت میں اتنا خطرناک صورت اختیار نہیں کرتا، جس قدر یہ سیاسی صورت اختیار کر کے مہلک ہوجاتا ہے۔

دوسروں کے لیے ناپسندیدگی کے جذبات کا اظہار زمانہ قدیم سے ہوتا رہا ہے۔ مثلاًیونانی، یونانیوں اور بربروں میں فرق کرتے تھے۔ بر بر سے مراد وہ لوگ تھے جویونانی نہیں بول سکتے تھے ، بڑبڑاتے تھے، بربر کرتے تھے۔ گویا یونانیوں کے یہاں لسانی تفاخر تھا۔ یہی تفاخر عربوں کے یہاں بھی تھا جو غیر عرب لوگوں کو عجمی یعنی گونگے کہا کرتے تھے ۔
واضح رہے کہ لسانی تفاخر میں علمی و ادبی تفاخر بھی شامل ہوجایا کرتا ہے۔اسی لیے یونانیوں کے نزدیک وہ سب لوگ بربر تھے ، جنھوں نے مدنیت کے آدرش (politikos) کو قبول نہیں کیا تھا اور مطلق العنان طرز حکمرانی کو ترجیح دی تھی۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ یونانی نسل پرستانہ خیالا ت سے یکسر خالی تھے۔ رنگ کی بنیاد پر دوسروں کی شناخت کی ابتدائی مثالوں میں ایک مثال یونانیوں کے یہاں ملتی ہے۔ ایتھوپیا کا لفظ یونانی ہے،جس کا مفہوم ’جلے ہوئے چہرے والا‘ ہے۔

ایک دل چسپ مماثلت یہ ہے کہ عبرانی کا حام ch’mسے ماخوذ ہے۔یہ لفظ بھی سیاہ اور جلے ہوئے کا مفہوم رکھتا ہے۔ حام ، کنعان کا بیٹا تھا ، جسے نوح نے بد دعا دی تھی کہ وہ آخر دم تک غلام رہے گا۔ بعد میں بائبل کے اس نظریے کو افریقی غلاموں کی غلامی کے لیے بہ طور دلیل استعمال کیا گیا ہے۔

اگرچہ رومیوں نے ایک سیاہ فام سپٹیموس سیوروس (Emperor Septmus Severus…۱۹۳۔۔۔۲۱۱ ء) کو اپنا بادشاہ بنایا تاتھا، مگر وہ مشرقیوں اور دوسری قوموں کو کمتر خیال کرتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے اکثر بڑے فاتحین ، نسلی برتری کے زعم میں مبتلا رہے ہیں۔
مثلاً’’ چنگیز اور ہلاکو نے جب ایران اور بغداد کو تاراج کیا توتوسیع پسندی کے ان عزائم کے ساتھ ساتھ نسلی برتری کا مغالطہ بھی کارفرما تھا۔دجلہ وفرات کے سواروں نے جب آج سے پانچ ہزار برس پہلے دریاے نیل کے کناروں کو روند ڈالا،اس وقت بھی ان کا یہی خیال تھا کہ وہ مصریوں سے برتر قوم ہیں ۔مغل،ترک اور ایرانی اپنے کو ایک دوسرے سے ہمیشہ برتر سمجھتے رہے ۔رومیوں نے سارے یورپ پر اپنا سکہ جمایا۔ سسرو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اپنے غلام بھی انگلستان سے حاصل نہ کروکیوں کہ انگریز اس قابل ہی نہیں کہ وہ غلام بن سکیں‘۔

یونانی اور رومی یقین رکھتے تھے کہ لوگوں کے جسمانی اور ذہنی خدوخال،ان کی آب وہوا اور جغرافیے کی پیداوار ہیں۔ جسم کی ساخت، جسمانی کمزوری یا طاقت، کردار کی سختی یا نرمی، ذہانت کی تیزی یا غبی پن،ذہن کی آزادی یا محکومانہ رویے، آ ب و ہوا اور جغرافیے سے وابستہ ہیں۔اسی سے یہ فرق بھی پیدا ہوا کہ پہاڑوں پر رہنےو الے ان گھڑ اور غیر سماجی رویوں کے حامل ہوتے ہیں ،جب کہ میدانی علاقوں میں رہنے والے شہری اور متمدن ہوتے ہیں۔

اس طرح کے خیالات ، سیاست اور علم کے رشتے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ سیاسی طاقت، مغلوب عوام اور کمزور ہمسائیوں سے متعلق ایسے بہت سے دعوے کرتی ہے، جنھیں مستند ومعتبر باور کرانے کے لیے اپنے زمانے کی علمی زبان میں پیش کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ وہ حقیقی علمی بنیادوں سے محروم ہوتے ہیں۔ ان دعووں کے منطقی تجزیوں ،میں ان دعووں کے تضادات فی الفور نظر آنے لگتے ہیں۔ مثلاً یہی دیکھیے، یونان وروم کے سب شہری ذہانت کی تیزی کے حامل نہیں تھے،حالاں کہ وہ ایک ہی قسم کی آب و ہوا میں پیدا ہوتے اور بڑے ہوتے تھے۔ وہاں غلام بھی تھے اور عورتیں بھی ،جن کے بارے میں وہاں کے فلسفیوں کے خیالات آج مضحکہ خیز محسوس ہوتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

افلاطون جیسا فلسفی (وقت پر اپنے مکالمے میں )کہتا ہے کہ مرددوں کو خود دیوتاؤں نے پیدا کیا ہے اور انھیں روح عطا کی ہے۔ راست باز مرد زمین پر اپنی زندگی مکمل کرکے ستاروں کی دنیا میں پرواز کر جاتے ہیں، جب کہ بزدل اور گمراہ مرد اگلے جنم میں عورتیں بن جاتے ہیں۔ گویا عورت ہونا ،عظمت ورفعت سے معزولی ہے ،اور ایک سزا ہے۔
(مابعد نوآبادیات :اردو کے تناظر میں کے زیر اشاعت دوسرے ایڈیشن میں شامل نئے نسل پرستی اور سفید فام جمالیات پر شامل سے اقتباس )

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply