ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں
آج کی کہانی ہمارے ملک میں غیر ہموار سرمایہ داری نظام ہے جس میں اگر آپ اس کا حصہ بن جاتے ہیں تو غریبوں کی جیبوں سے چاہے آپ ڈاکٹر ہوں، وکیل ہوں یا استاد، پیسے اچھل اچھل کر اپ← مزید پڑھیے
کہانی نمبر 1 1982 کی بات ہے جب میں ایران کے شمال میں فیروز کوہ کے ایک خوبصورت پہاڑی قصبہ زیراب کی میڈیکل ایمرجنسی کا سربراہ تعینات تھا۔ ہم میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا۔ خاتون اپنے رویوں میں بہت ”← مزید پڑھیے
مارک زکربرگ نے پہلے ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء اور پھر بتدریج امریکہ کی دوسری یونیورسٹیوں کے طلباء کو تعلق اور ڈیٹنگ کی خاطر جوڑنے کے لیے “دی فیس بک ” کا آغاز کیا تھا۔ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں طلباء کے← مزید پڑھیے
ایک کھیل تو وہ ہوتا ہے جو جیتنے یا ہارنے کی خاطر کھیلا جاتا ہے۔ یہ دراصل کھیل کا مقابلہ ہوتا ہے کہ کون اچھا کھیلتا ہے اور کون کم اچھا۔ ایک کھیل وہ ہوتا ہے جو سٹیج پر کھیلا← مزید پڑھیے
اس کی بیوی سامنے ہی فرش پر بچھے گدے پر لیٹی لحاف کے اندر کسمسا رہی تھی اور وہ کچھ دور پلنگ پر ٹیک لگائے ، ٹیبل لیمپ کی روشنی میں ادق سی کتاب پڑھتے، باوجود اس کی قربت پانے← مزید پڑھیے
چونکہ مستقبل قریب میں میری آپ بیتی کا دوسرا حصہ منظر عام پر آنے کو ہے، دوسرے پینسٹھ برس سے زائد عمر کے ہونے اور کورونا کے سبب ویکسینیشن کے بعد بھی ہجوم میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت← مزید پڑھیے
جوش صاحب بہت بڑے شاعر تھے اسی طرح مجید امجد اور منیر نیازی صاحب بھی البتہ جون ایلیا صاحب کو پچھلے دنوں نوجوانوں کے ایک حلقے نے عوام میں متعارف کروانا شروع کیا ہے۔ حبیب جالب تو ویسے بھی عوامی← مزید پڑھیے
پاکستان کی چند بہت باغی خواتین میں سے کشور ناہید اور عذرا عباس جب بھی ملیں انہوں نے پھر سے نام پوچھا۔ اس میں اچنبھا بھی نہیں کہ میں ملا تو پھر سے سالوں بعد ملا اور ان کے مستقل← مزید پڑھیے
“بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور” محض روحانیت یا فلسفہ نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ لاش کو تو بس ہم لوگ ہی اس شخص کی لاش سمجھتے ہیں جو مر گیا ہو مگر حقیقت میں← مزید پڑھیے
مظاہر پرستی سے بت پرستی تک اور کثیرلالوہیت سے وحدانیت پر ایمان اور اس ضمن میں اپنے اپنے طور پر عبادات آج بھی کروڑوں افراد کرتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پرستش اور عبادات کرنے والے سارے ہی← مزید پڑھیے
ایک معاصر روسی ادیب کا ایک قول نظر سے گذرا جو یوں تھا،” تاریخ کوئی استانی نہیں بلکہ نگران خاتون ہے چنانچہ تاریخ کچھ نہیں پڑھاتی (سکھاتی) البتہ سبق یاد نہ رکھنے پر کڑی سزا ضرور دیتی ہے”۔ ساتھ ہی← مزید پڑھیے
اپنے تمام سیاسی، سماجی اور تہذیبی نقائص کے باوجود اپنا وطن مولد کیوں اچھا لگتا ہے؟ اس کا جواب کوئی یہ کہہ کے دے کہ حب الوطنی کے سبب اور کیا، تو وہ مجھے یا تو معصوم لگے گا یا← مزید پڑھیے
چند برس پہلے میں پاکستان میں جن خاتون کے ہاں مقیم تھا وہ مطلقہ تھیں۔ ان کے گھر کی دونوں خاتون ملازماؤں کو بھی فارغ خطی مل چکی تھی۔ ان کی رفقائے کار خواتین میں سے ایک بیوہ تھی جو← مزید پڑھیے
امریکہ اور یورپی ملکوں کے علاوہ بہت سے دیگر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں میں تعلیم اور صحت سے متعلق نجی ادارے وجود رکھتے ہیں۔ ادارے چاہے نجی ہوں یا سرکاری وہ عمومی معاشرے کے رجحانات کے عکّاس ہوتے← مزید پڑھیے
ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر میں ویجیٹیبل آئل کی ایک بوتل لائی گئی جس پر درج قیمت 1025 روپے تھی لیکن دکاندار نے یہ کہہ کر کہ پرانے سٹاک سے ہے، قیمت بڑھ چکی ہے 1200 روپے میں دی اور← مزید پڑھیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جانب منی مرگ تھا تو دوسری جانب شکمہ ( ش پر زبر کے ساتھ )۔ منی مرگ سرینگر کے نزدیک ہے اور شکمہ لداخ کے دارالحکومت لیہہ کے سے زیادہ دور نہیں۔ گلگت بلتستان میں شامل یہ علاقے← مزید پڑھیے
کراچی میں کئی شاپنگ مالز ہیں ویسے ہی جیسے لاہور میں یا دنیا کے دوسرے بڑے شہروں میں۔ کراچی کا ایک بڑا شاپنگ مال ڈولمن نام کا ہے۔ کل میں اپنے بھتیجے اور اس کی دو بیگمات میں سے ایک← مزید پڑھیے
ناشتے میں جانور کبھی نہیں کھایا، جاندار سبزی ہی لی یا کبھی کبھار دلیہ، کارن فلیکس اور یا تخم مرغ۔ آج جب پاکستان کے تین سو روپے کلو کے حساب سے خریدے کدو کے سالن پر زیرہ چھڑکنے لگا تو← مزید پڑھیے
میں نماز عصر کے لیے ایک مسجد کی پہلی صف میں کھڑا ہوا ( مساجد ہی اتنی زیادہ ہیں کہ اکثر مساجد میں دو ڈھائی صفوں سے زیادہ بنتی ہی نہیں) ساتھ والے نمازی نے مجھے کچھ کہا۔ سمجھ نہ← مزید پڑھیے
چند سال پہلے سویڈن میں پندرہ سال کے افغان تارک وطن لڑکے نے بائیس سالہ سماجی کارکن لڑکی کو چاقو کے کئی وار کرکے قتل کر دیا تھا۔ میں نے جھلا کر کہا تھا “یہ سب سوویت یونین کا قصور← مزید پڑھیے