ابنِ فاضل کی تحاریر
ابنِ فاضل
ابنِ فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

ادب ،باں ادب۔۔۔ ابن ِ فاضل

جب ہم بچے تھے سمجھتے تھے کہ ادب اس کو کہتے ہیں جو بچے بڑوں کا کرتے ہیں ۔ پھر تھوڑا بڑے ہوئے تو اندازہ ہوا کہ وہ  تو اصل میں بےادبی ہے۔ ادب تو”کسی عام سی بات کو سلیقہ←  مزید پڑھیے

تعلیمِ نابالغاں

وطنِ عزیز میں شرحِ خواندگی الحمدلله پینتالیس فیصد ہے اور شرحِ ناخواندگی تقریباً سو فیصد ۔ پڑھنا نیکی کا کام ہے اور پڑھانا منافع کا۔  یہ جو کچھ نہ کچھ خواندگی ہے وہ استادوں کی محنت سے ہے۔ اور باقی←  مزید پڑھیے

آن لائن قصاب۔۔۔ ابنِ فاضل

عید قربان پر قصائی اتنا ہی اہم ہوتا ہے جتنا نکاح والے دن چھوہارے ۔ جتنا موسم بہارمیں لان کے نئے پرنٹ ۔ جتنا نوجوانوں کیلئے موبائل فون کے نائٹ پیکج ۔ قصائی کے بغیر صبح و دوپہرِ بقرعید اتنی←  مزید پڑھیے

قربانی

دین محمد زبردست خرادیہ تھا۔ بڑے کاریگر کی تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ مشکل سے مشکل کام جس کے دستِ ہنر مند سے تکمیل پاتے ہوئے بچوں کا کھیل لگے.اور دین محمد بالکل ایسا ہی کاریگر تھا۔ لوہا تو←  مزید پڑھیے

چائنہ کے چینی

چین ہمارا برادر “غیراسلامی” ملک ہے۔ جغرافیہ میں ہمارے شمال میں، جذبات کے لحاظ سے ہماری سرآنکھوں پر اورمعاشی طور پر ہمارے کاندھوں پر واقع ہے ۔ رقبے کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک اور آبادی کے لحاظ سے دنیا←  مزید پڑھیے

گوگل خان

گوگل کو گوگل کیوں کہتے ہیں ۔ یہ واحد "گل"ہے جو خود گوگل کو نہیں پتہ ۔ اس کے علاوہ اس کوبوگل سے ٹوگل اور باگل سے چھاگل تک ہرگل پتہ ہے ۔ میرے پلیٹھی کے بیٹے کا ہانی ہے←  مزید پڑھیے

بچے ہمارے عہد کے

بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس دنیا کی سب سے خوبصورت تخلیق بچہ ہے۔جتنا چھوٹا ہو اتنا ہی پیارا ہوتا ہے ۔بقول شاعر بچے جیہا پھل نہ ڈٹھا جنا کچا اونا مٹھا ہمارے خیال میں بچہ اس جاندار کو کہتے←  مزید پڑھیے

بیویات

کہتے ہیں زندگی امتحان ہے اور اس امتحان کا سب سے مشکل اور لازمی سوال بیوی ہے۔ بیویاں دو قسم کی ہوتی ہیں ۔ایک وہ جو بہت خوبصورت، نرم مزاج، خوش گفتار، معاملہ فہم، صبر و شکراور پیار کرنیوالیاں اور←  مزید پڑھیے

پانی کی کہانی

پانی بے رنگ بے بو اور بے ذائقہ سیال ہے۔ اس کے بہت فائدے ہیں۔ جس شے میں ڈالو اسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ دودھ میں ڈالو تو دودھ، دوا دارو میں ملاؤ تو بالترتیب دوا اور←  مزید پڑھیے

راہوالی کی قلفی

جرنیلی سڑک پر گوجرانوالہ سے ذرا آگے ایک قصبہ ہے۔ راہوالی۔ مشہور ہے کہ جرنیلی سڑک شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی۔ ہمارا خیال ہے کہ دراصل شیر شاہ کو بچپن سے ہی سڑکیں ناپنے کا شوق تھا ۔اب اس←  مزید پڑھیے

سڑکات

اس لمبی سی کالی شے کو سڑک کہتے ہیں۔ جو انسانوں کو ادھر ادھر لیجانے کے کام آتی ہے۔ پتھروں کو باقاعدہ کوٹ کر اور ان پر کول تارکی تہہ چڑھا کر موجودہ شکل میں سڑک بنانے کا آغاز بیسویں←  مزید پڑھیے

اب مون سون میں سیلاب نہیں آئیں گے

مون سون کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف گھٹائیں بادل اوربارش ہو گی۔ اردو میں لکھے “مون سون” کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کریں تو لگے گا کہ اسکا مطلب ہے ،”جلدی کا چاند”۔فہم لیکن پیہم مزاحم ہے کہ←  مزید پڑھیے

ہاں بھئی ہاں

یہ جو ہم”ہاں”کہتے ہیں نا،یہ کئی طرح کی ہوتی ہیں۔۔مثال کے طور پر اگر کوئی پوچھے کھانا کھاؤ گے ؟ تو عزیز ہموطنوں کا جواب ہوگا “ہاں”.یہ اثباتی ہاں ہے۔ اسی طور اگر سوال ہو کہ مفتی پوپلزئی صاحب پاکستان←  مزید پڑھیے

دودھ کا دودھ

. بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دودھ مکمل غذا ہے۔ تب دودھ بھینس دیتی تھی، اب گوالا دیتا ہے، سو اب یہ مکمل غذا ہی نہیں مکمل وظیفہ حیات ہے۔۔گوالے کا، اور گوالا وہ مخلوق ہے کہ جس کے←  مزید پڑھیے

اعتراف

اعتراف ابنِ فاضل اگلے روز انتہائی ناگزیروجوہات کی بنا پر بروز جمعہ سفر کرنا پڑا .دوران سفر نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے دور افتادہ قصبہ کی چھوٹی سی مسجد پر گاڑی روکی اور باوضو ہو کر مسجد کے اندرونی حصہ←  مزید پڑھیے

چاند پر چاند ماری

. بیچارے چاند سے چاندماری ابنِ فاضل عید آنے کو ہے اورہمیں بیچارے چاند کی فکر لگی ہے ۔ کیسی کیسی چاندماری اورچاندگردی نہ ہوگی، پھراس کے ساتھ ایک زمانہ تھا چاند کی چاندی تھی کہ بھلاچاند کی دید کو←  مزید پڑھیے

تحقیق پر تحقیق

تحقیق کا مطلب ہے بال کی کھال اتارنا ۔آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیجیے کہ اگر کوئی شخص یہ جاننے کی جستجو کرے کہ پیاز کے عین وسط میں کیا ہے تو یہ تحقیق ہو گی۔ اورمحقق ہر اس شخص←  مزید پڑھیے

اونچی سوسائٹی اور افطار پارٹی

ماں جی کا کتنا شوق تھا کہ ان کا بیٹا” پڑھ لخ” کر کش بن جائے، اچی سوسائٹی میں بیھن کھلون ہو۔بہت قائل کرتیں، کتنی دعائیں مانگیں ۔۔جانے کونسی قبولیت کی گھڑی کا آخری سرا تھا ۔آدھی دعا قبول ہوگئی۔کہ←  مزید پڑھیے

یہ جاٹ ہمارے

بہت پرانی بات ہے۔شاید ہزاروں سال پرانی ۔ہم چھوٹے سے تھے۔غالباً دوسری جماعت میں۔ایک کاندھے پر سکول کا بستہ اور دوسرے ہاتھ میں تختی لیے تقریباً اچھلتے بھاگتے سکول کی جانب رواں تھے۔ حیران مت ہوں۔اس عہدِ خوبصورت میں بچہ←  مزید پڑھیے