راہوالی کی قلفی

جرنیلی سڑک پر گوجرانوالہ سے ذرا آگے ایک قصبہ ہے۔ راہوالی۔ مشہور ہے کہ جرنیلی سڑک شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی۔ ہمارا خیال ہے کہ دراصل شیر شاہ کو بچپن سے ہی سڑکیں ناپنے کا شوق تھا ۔اب اس زمانے میں سڑکیں زیادہ تو ہوتی نہیں تھیں تو پھر وہ کچھ اور ناپتا رہتا لیکن جونہی وہ بادشاہ بنا تو اپنے شوق کے ہاتھوں مجبورپہلے سڑکیں بناتا اور پھر ان کو ناپتا ۔ ہو سکتا ہے کہ جرنیلی سڑک بھی پہلے پہل اس نے صرف ناپنے کیلئے بنائی ہو اور بعد ازاں لوگوں نے اس پر آنا جانا بھی شروع کر دیا ہو۔ منطقی طور پر اگر یہ راہ شیر شاہ نے بنوائی تھی تو”راہ والی”بھی پھراس کی ہی رہی ہوگی کہ شاہِ ہند ہوتے ہوئے بھی گھروالی (ملکہ)پرایک اورگھروالی لانا باعثِ نقصِ امن ہو سکتا تھا۔
سو عین ممکن ہے کہ “جان بچانا فرض ہے” کے مقولہ پر عمل کرتے بادشاہ سلامت نے اس وقت کے ملک ریاض کو حکم دیا ہوایک محل اس جگہ تعمیر کروا کر ہمیں تحفے میں پیش کرو ۔اور پھر اس وقت کی ایان علی کو بطور “ملکہ راہ والی ” یہاں ٹھہرایا ہو۔جس کی نسبت سے اس علاقے کا نام “ملکہ راہوالی”اور پھر ہوتے ہوتے راہوالی پڑ گیا۔ یہ ہوتا ہوتا ابھی جاری ہے عین ممکن ہے کچھ عرصہ تک یہ صرف “والی” رہ جائے ۔ ہمارے قابل دوست، قابل خرگوشوی کو مگر اس سے اختلاف ہے۔کہتا ہے کہ یہ اُس دور کا “سی پیک” تھا اورشیر شاہ کا وہ “سی پیک “بھی چین کے تعاون سے بنا تھا اور اس کے منتظمِ اعلیٰ نام تھا Rah Wau Lee. اس نے اس جگہ اپنا صدر دفتر بنایا جس کی نسبت سے اس علاقے کا نام راہ وا لی پڑ گیا ہوگا ۔ لیکن عظیم مفکر مایوس دقیانوسی کو ہم دونوں سے اختلاف ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ راہوالی”راہ میں دیدے اور پلکیں اور دل وغیرہ بچھانے والی” کی بگڑی ہوئی شکل ہے ۔
خیر وجہ تسمیہ کچھ بھی رہی ہو راہوالی کی مشہور سوغات ہے قلفی ۔ قلفی ایک مخروطی شکل کی سفید سی ٹھنڈی میٹھی چیز ہے جو کھانے اور کپڑوں پر دھبے لگانے کے کام آتی ہے ۔ قلفی کے موجد نے اس کے نیچے کی طرف ایک تیلا لگا کر اس کو ایجاد کیا تھا جس کی مدد سے اس کو پکڑنے میں آسانی ہوتی ہے۔ نیب والوں کو اس ایجاد سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ قلفی کو قلفی کیوں کہتے ہیں اس بابت قلفی اور تیلا دونوں خاموش ہیں۔ قلفی بیچنے والے سے اگر پوچھیں تو وہ بہرحال فوراً کہے گا “پتہ نہیں”ہو سکتا ہے کہ اس کی اس کی قیف نما شکل کی وجہ سے اس کو قیفی کہتے ہوں جو بعد میں بگڑ کر قلفی بن گیا۔ جس طرح “راہوالی” گھر نہیں لائی جاسکتی اسی طرح قلفی بھی وہیں رک کر کھانی پڑتی ہے۔
راہوالی کے مضافات شروع ہوتے ہی سڑک کے دونوں اطراف درجنوں کی تعداد میں آویزاں قدِ آدم بورڈ دکھائی دینا شروع ہو جاتے ہیں جن پر سفید ریش بزرگوں کی بڑی بڑی تصاویر چسپاں ہیں اور ساتھ ہی لکھا ہے “راہوالی کی اصل حافظ سلمان کی مشہور قلفی”. اتنی تعداد میں پُر نور سفید ریش بزرگوں کی تصاویر دیکھ کر ایک دفعہ تو گمان ہوتا ہے کہ قلفی بنانا اور بیچنا چاند دیکھنے جیسا کوئی بہت بڑا دینی فریضہ ہے ۔ یکایک اپنی نا اہلی اور کم مائیگی کا احساس روح وقلب کو گھیر لیتا ہے کہ کیسے کم نصیب ہیں ساری زندگی یونہی بے مقصد ضائع کی اور رضائے الہیٰ کی خاطر ایک قلفی بھی نہ جما سکے ۔ لیکن جب معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو عین اور مسلّم کاروباری سرگرمی ہے۔ تو حیرتوں کے انگنت مزید در وا ہوجاتے ہیں۔ کہ یہ اگر تشہیری بورڈ ہیں توسارے دیس کی طرح یہاں پری وش حسیناؤں کا راج کیونکرنہیں۔ اور یہ کہ اس علاقے کے سب سفید ریش بزرگوں کا نام سلمان کیوں ہے۔ اوریہ کہ قلفی اگر بورڈ پر تصویر کالی داڑھی یا بغیر داڑھی والے بابا جی کی ہو ۔یا ان کا نام سلیمان نہ ہو تو کیا قلفی احتجاجاً جمتی نہیں ۔ اور یہ کہ اس چھوٹے سے قصبہ میں اتنی بڑی تعداد میں سفید ریش بزرگ مہیا کیسے ہوتے ہوں گے وغیرہ ۔
گمانِ فاضل ہے کہ علاقہ کے سب سفید ریش بزرگ بورڈوں پر کام آچکے ہیں۔جبکہ مزید کئی گھرانے جو وہاں پر قلفیاں بیچنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے ضروری سازوسامان بھی مہیا کیے ہوئے ابھی منتظربیٹھے ہیں کہ کب انکے گھرانے کے بزرگ کی داڑھی سفید ہو اور کب وہ اخبار میں تبدیلی نام کا اشتہار دیکر قلفیاں بیچنا شروع کریں۔ مفکر مایوس دقیانوسی نے مگر بیچ اس معاملے کے یوں ذہن گھمائی اور لب کشا ئی کی ہے۔ “ہمارے عزیزہموطن علم اور اعتماد کی کمی کے باعث بھیڑ چال کا شکار ہیں۔ انہوں نے عمدہ قلفی کے ساتھ سلمان نام اور سفید ریش بزرگ کی شبیہہ ذہن میں اسقدر پختہ کرلی ہے کہ وہ کسی اور تصویر اور نام کیساتھ قلفی خریدنے کو تیار نہیں”۔ اگر “والز”یا “ہوگن داس &”Häagen Dazs والے بھی یہاں آکر ساتھ دکان کھول لیں تو انکو بھی یہی بورڈ آویزاں کرنا پڑیں گے۔ اور بد قسمتی سے یہ معاملہ صرف قلفی کے ساتھ نہیں ہر جگہ پر یہی حال ہے۔
قلفیاں کھاتے کھاتے ہم راہوالی سے کافی آگے نکل آئے۔میں نے قابل خرگوشوی سے پوچھا کیسی لگی راہوالی کی قلفی ۔بولا یہ تو راہوالے کی تھی ۔۔میں نے کہا اچھا “راہوالی”کے راہوالے کی قلفی کیسی تھی۔ کہنے لگا اگر راہوالی چین یا تھائی لینڈ میں ہوتا، ایسی ایسی راہوالیاں قلفیاں پیش کرتیں کہ گھر والی کے ساتھ راہوالی کی قلفی کھانا تقریباً ناممکن ہوتا۔ مایوس دقیا نوسی کا فرمان ہے کہ اگر راہوالی امریکہ میں ہوتا تو قلفی کے اجزاء، اس کے بنانے کے طریقوں اور پیش کرنے کے انداز پر اتنی ریسرچ ہوتی کہ اس کو بیچنے والی کمپنیوں کے کئی پیٹنٹس ہوتے ۔جیسا کہ پیزا ہٹ کے نام انچاس اور میکڈونلڈ کے نام اکاون پیٹنٹس ہیں۔ تب ہماری بھی ساری دنیا میں برانچیں ہوتیں۔ اللہ کرے ہماری قوم میں کبھی اتنا شعور آجائے ۔ میں نے اور قابل خرگوشوی نے باآواز بلند کہا آمین۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *