قربانی

دین محمد زبردست خرادیہ تھا۔ بڑے کاریگر کی تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ مشکل سے مشکل کام جس کے دستِ ہنر مند سے تکمیل پاتے ہوئے بچوں کا کھیل لگے.اور دین محمد بالکل ایسا ہی کاریگر تھا۔ لوہا تو جیسے اس کے ہاتھ میں جاتے ہی موم ہو جاتا اور وہ جیسے چاہتا اس کو متشکل کرکے مفید پرزوں میں ڈھال دیتا. ناخواندہ ہوتے ہوئے بھی خاصہ ذہین اور اپنے ہنر میں طاق تھا. بہت سے دستی ہنر ہمارے دیس میں باقاعدہ تربیتی اداروں کی کمیابی یا نایابی کے باعث استادوں سے صنعتی اداروں یا ورکشاپوں میں “چھوٹا” بن کر سیکھنا پڑتے ہیں -خراد کا کام بھی انہی کاموں میں سے ایک ہےاوردین محمد کو بھی ماہرخرادیہ بننے کے لیے “چھوٹے” والا ہی راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔ اس سفر کے دوران وہ پہلے دین محمد سے دینو ہوا تھا، تاہم ماہر کی اعزازی سند حاصل کرنے تک وہ “پاء دینا”بن چکا تھا۔

“پاءدینا”لاہور کے مضافاتی صنعتی علاقہ میں ایک سریا بنانے والے بڑے ادارے سے عرصہ بیس سال سے منسلک تھا اور اپنی ہنرمندی اور قابلیت کی بدولت مالکان کا چہیتا کاریگر تھا- جسمانی طور اتنہائی تنومند اور دراز قد “پاءدینا”پچاس کے پیٹے میں تھا,لیکن روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرنے کے باوجوداپنی عمرسے قریب دس سال چھوٹا دکھائی دیتا تھا, چار زیرِ تعلیم بچوں اور باہمت بیوی کے ساتھ فیکٹری سے کچھ فاصلہ پر تین مرلہ کے ذاتی مکان میں رہائش پذیرتھا۔ کسی بھی قسم کی منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث اس علاقہ کی ترتیب کچھ ایسی ہے کہ فیکٹریاں اور گھر آپس میں خلط ملط ہیں. “پاءدینے” کا جس گلی میں گھر ہے اس میں بھی سات فیکٹریاں اور تین گھر ہیں- تین مرلہ کا یہ مکان اور بچوں کی زیرِتکمیل تعلیم اس کی کل جمع پونجی ہے جو اس نے بیس سال شبانہ روز محنت سے پس انداز کی ہے ۔

آج سے تقریباً چھ ماہ قبل تک “پاء دینا “کی زندگی کسی قدر مطمئن ,پر سکون اورایک لگی بندھی ترتیب سے عبارت تھی۔علی الصبح بیدار ہونا, عجلت میں تیاری ناشتہ اور پھر فیکٹری, واپسی رات گئے, پھر کھانا تھوڑا سا ٹی وی اورپھر نیند کی آغوش. پھر اس رات عجیب واقعہ ہوا. سویا تووہ معمول کے مطابق, لیکن اٹھ معمول کےمطابق نہ پایا. زور لگا کر بستر سے اٹھنا چاہا مگر جیسے اس کے ہاتھوں پیروں میں آج جان ہی نہیں, خوفزدہ ہو کر بیوی کو آواز دینا چاہی لیکن یہ کیا اس کی تو آواز بھی ٹھیک سے نکل نہیں پارہی, وہ مزید خوفزدہ ہوگیا,جیسے تیسے غا غو کی صداؤں سے اس نے اپنی بیوی کو اپنی طرف متوجہ کیا. وہ بھی اس کی حالت دیکھ کر ڈر گئی, فوراً اپنے بڑے بیٹے کو جگا کر لائی جو کہ شہر کے ایک سرکاری کالج میں بارہویں جماعت کا طالبعلم ہے۔ دونوں ماں بیٹا نے بمشکل تمام اس کو اٹھایا اور موٹر سائیکل رکشہ پر ڈال کر قریبی سرکاری ہسپتال پہنچایا –

ڈاکٹروں نے سرسری معائنہ کے بعد اعلان کیا کہ  “پاءدینا” کو فالج ہوگیا ہے -اس کا دایاں حصہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا، ہفتہ بھرہسپتال والوں نے داخل رکھا اور پھر ایک نسخہ اس کے ہاتھ میں تھما کر فارغ کر دیا کہ جب تک مکمل افاقہ نہیں ہو جاتا یہ دوائیں کھاتے رہو! ہفتہ بھر میں اس کی حالت صرف اتنی سنبھلی کہ وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بات سمجھانے کے قابل ہوگیا تھا۔ادھر فیکٹری مالکان کو جب “پاءدینا” کی بیماری کا علم ہوا تو وہ بڑے جوش وجذبہ کے ساتھ ہسپتال پہنچے. اس کی خیریت دریافت کی, کچھ رقم دی اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا. لیکن جیسے جیسے دن گذرتے گئے ان کا جذبہ مانند پڑتا گیا. اور بالآخر جب انہوں نے دیکھا کہ ایک ماہ میں بھی اس کی حالت میں خاطرخواہ بہتری نہیں آئی تو انہوں نے اس سے اپنی امیدیں ہٹا دیں. ایک روز ان کا منشی آیا اور چپکے سے ایک خاکی لفالہ اس کو تھما کر چلتا بنا. “پاءدینے”کی بیوی نے اس کو گن کر بتایا کہ اس کی چھ ماہ کی تنخواہ کے برابررقم تھی.گویا اس کی بیس سالہ خدمت کا حق ادا کیا جا چکا تھا-

خراد کا مہا کاریگر “پاءدینا” اب عضوِ معطل بن چکا ہے۔ اس کے روزوشب اب بالکل فراغت میں گذرتے ہیں ,صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر گھر کے درواز کے باہر کرسی ڈال کر بیٹھ جاتا ہےاور شام ڈھلے تک وہیں بیٹھا رہتاہے- میرا جب بھی ادھر کسی کام سے جانا ہوا اس کو ادھر ہی بیٹھے ہوئے پایا. میرا ہمیشہ یہ معمول رہا کہ میں رک کر اس کا حال احوال دریافت کرتا اورمقدور بھر اس کی دلجوئی کرتا -آج کافی دنوں بعد کسی کام سے اس گلی میں موجود ایک فیکٹری میں جانا ہوا.گذرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ “پاء دینے” کی کرسی تو اس کی چوکھٹ پہ دھری ہے مگر وہ نہیں ہے. ساتھ ہی میری توجہ گلی میں موجود قربانی کے جانوروں پر پڑی. ساتوں فیکٹریوں کے باہر ایک سے ایک بڑا اور شاندار بیل بندھا تھا۔ میں نےاندازہ لگایا کہ ان میں سے یقیناً ہرایک کی قیمت لاکھ سے اوپر رہی ہوگی .اور کیوں نہ ہوتی ایک تو سب فیکٹری مالکان انتہائی خوشحال اور دوسرے ظاہر ہے کسی قدر مقابلہ کی فضاء,سو ایک سے ایک بڑھیا جانورکی موجودگی کوئی اچنبھے کی بات نہیں.

مذکورہ فیکٹری میں کچھ وقت گذارنے کے بعد جب میں واپس لوٹا تو”پاءدینا “اپنی کرسی پر موجود تھا. میں نے سلام کے لیے ہاتھ بڑھایا, اس نے بائیں ہاتھ سے دایاں ہاتھ اٹھا کر میرے ہاتھ میں  دیا  اور مصافحہ کے بعد اسی طرح بائیں سے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا.مجھے لگا کہ آج وہ کچھ متفکر سا ہے۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے آج کچھ پریشان لگ رہے ہو .اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا ,کچھ نہیں باؤ جی , میں نے اس کا دل لبھانے کی خاطر کہا, دینے اس عید پر تیری موج ہوگئی۔۔ دیکھ کیسا کیسا جانور کھڑا ہے تیری گلی میں, لگتا ہے اس بار ڈھیروں گوشت آئے گا تیرے گھر. “پاءدینا” کچھ کہنا چاہتا تھا پر الفاظ جیسے اس کے حلق میں پھنس کر رہ گئے. تمامتر کوشش کے باوجود وہ اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو نہ چھپا سکا. میں نے کان لگا کر سنا وہ دھیرے سے کہہ رہا تھا، مجھے کیا لگے لاکھوں کے جانوروں سے صاحب جی اورمیرے کس کام کا عید کا گوشت میرے گھر میں تو دو دن سے فاقہ ہے!

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *