بچے ہمارے عہد کے

بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس دنیا کی سب سے خوبصورت تخلیق بچہ ہے۔جتنا چھوٹا ہو اتنا ہی پیارا ہوتا ہے ۔بقول شاعر
بچے جیہا پھل نہ ڈٹھا
جنا کچا اونا مٹھا
ہمارے خیال میں بچہ اس جاندار کو کہتے ہیں جو ابھی بچا ہوا ہو، زمانے کی دستبرد سے ۔ کیا خوب مخلوق ہیں صاحب، ایسی ایسی بات کرتے ہیں کہ بندہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ کیا بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ ان کی فرمائشیں بھی عجیب ہوتی ہیں، پچھلی رات اٹھ کے رونا شروع کر دیں گے کہ شکر قندی کھانی ہے۔ آپ لاکھ سمجھائیں کہ اس وقت یا اس موسم میں شکر قندی ؟ لیکن بچہ اور بیگم اگر منطق سمجھ لیں تو اور چاہیے ہی کیا ہے ۔ جو بچے کچھ معاملہ فہم ہونگے وہ شکر قندی والی ڈیمانڈ واپس لیکر ہولے سے کہہ دیں گے اچھا ماما پھر سٹہ ہی بھون دو۔ بچوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت جلد بڑے ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ تو چھوٹے ہوتے ہی بڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ایسے بچوں کی پہچان یہ ہے کہ کلاس میں اگر مس ان کا بوسہ لے توانکے کان لال ہو جاتے ہیں ۔اور اگر نہ لے تو خود لال اور پیلے ۔
ایسے بچوں کو جب کوئی بڑا “معصوم بچہ” کہہ کر مخاطب کرے تو یہ زیرِلب مسکرا کر سوچتے ہیں “معصوم بڑے “۔ اکثر وبیشتر بچے شادی کے بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ کچھ مگر شادی سے پہلے بھی ہوسکتے ہیں ۔ اب میں یہاں جائز وناجائز کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا ،کیونکہ مجھے نہیں پتہ کہ گھر میں کتا یا بلی پالنا جائز ہے کہ نہیں ۔ ہاں البتہ بھینس یا بکری کے بچے آپکی شادی سے پہلے ہوں یا بعد جائز ہیں ۔ آپ کے بچے البتہ اگر شادی کے بعد ہوں تو زیادہ بہتر ہے۔ بچے کب اورکیوں پیدا ہوتے ہیں، کیسے اور کہاں پیدا ہوتے ہیں اس کے متعلق بچوں کے علاوہ سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ اوربچوں کے علاوہ جو نہیں جانتے وہ یا جاہل ہیں یا کاہل ۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میرے متعلق بھی ایسی رائے رکھیں تو میں آپ کو بتا دیتا ہوں ۔
دراصل جس گھر میں بچہ پیدا ہونا ضروری ہو جاتا ہے ۔اس گھر میں اچھے سے پیدائش کا ماحول بنا دیا جاتا ہے ۔ کسی ایک مناسب سی خاتون کو پکڑ کر اس کے سر پر دوپٹے کا پٹکا باندھ دیا جاتا ہے ۔ گھر کے کسی ایک کمرے میں خوبصورت بچوں کی تصاویر آویزاں کر دی جاتی ہیں ۔ عجیب سی مختلف قسم کی خدمت گذار عورتوں کو گھروں میں آنے دیا جاتا ہے ۔ عجیب وغریب خوشبوؤں اور رنگوں والے من ناپسند پکوان پکنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بالائے صوت مشین کی رپورٹ کے مطابق گلابی یا پیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے کپڑوں کی خریداری بھی کر لی جاتی ہے ۔ پھر ایک رات جب سب سوئے ہوتے ہیں تو ایک لمبی گردن والا بڑا سا سفید پرندہ دروازے پر ایک ٹوکری میں خوبصورت سا چھوٹا سا بچہ رکھ کر چلا جاتا ہے ۔ اس مناسب سی خاتون کا سرکو مذکورہ پٹکے سے آزاد کر کے بچہ اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور صبح ہوتے ہی سب کو اطلاع کر دی جاتی ہے کہ فلاں عورت کے ہاں بچہ ہوا ہے ۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ بچہ پہلے تین سال میں اپنی پوری زندگی کا آدھا علم حاصل کر لیتا ہے ۔اور ہم پوری احتیاط سے دھیان رکھتے ہیں کہ اس عرصہ میں اس کو کوئی کام کی بات پتہ نہ چلے۔ جب ہم بچے تھے تب پانچ سال تک مائیں بچے کو خود سے چمٹا کر رکھتی تھیں۔ آج کل تین سال کا بچہ انٹرنیٹ سے چپکا ہوتا ہے۔ ویسے اس ٹیکنالوجی نے بچوں کو بہت ذی علم کردیا ہے ۔ایسے ہی چار سالہ ایک بچے کے سکول داخلہ فارم کے لئے تصاویر کی غرض سے اس کو فوٹوسٹوڈیو لے جایا گیا ۔ تصویر کے لیے مطلوبہ نشست پر بٹھانے اور بچے کی سر اور گردن وردن سیدھی کرنے کے بعد عمر رسیدہ فوٹوگرافرکیمرے کے پیچھے گیا اور حسبِ عادت بولا بیٹے کیمرہ کی طرف غور سے دیکھو ،اس میں سے چڑیا نکلے گی۔ بچہ بولا انکل ایک تو آپ نے چار سال پرانا ڈی-500 ،کیمرہ رکھا ہوا ہے جو صرف دس میگا پکسل ہے، اور اوپر سے آپ اس میں سے چڑیا نکال رہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اس کی حساسیت 400 پر کرکے 1/250 سپیڈ پر 3.5 اپرچر کے ساتھ سانس روک کر تصویر اتاریں تاکہ ٹھیک آئے۔ سنا ہے آج کل وہ بزرگ فارغ اوقات میں اس بچے سے فوٹوگرافی سیکھ رہے ہیں ۔
بچوں کے کیلیے تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے ۔ تعلیم کیلیے تو خیر سکولوں میں کچھ نہ کچھ انتظام ہوجاتا ہے ۔ کچھ بچے برضا ورغبت سکول جاتے ہیں مگر کچھ روتے دھوتے شور مچاتے ۔ہمارا تجربہ ہے ایسے بچے بڑے ہوکر ڈاکٹر ضرور بنتے ہیں۔ امریکہ میں تو بچوں کو کھیل کھیل میں ہی تعلیم دے دی جاتی ہے ۔ لیکن ہم نے تعلیم کو ہی کھیل بنا رکھا ہے ۔ صرف تیس چالیس فیصد بچوں کو رسائی ہے۔ ذرا سوچیں جو دو کروڑ بچے آج تعلیم سے محروم رہ رہے ہیں جب وہ 2040 یا 2050 میں عملی زندگی میں انگوٹھا چھاپ ہونگے دنیا اس وقت کہاں ہوگی ۔
ہاں مگر تربیت کو لیکر اکثر بچے والدین سے نالاں ہی رہتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ والدین ہمیں اس عمر میں ملے ہیں جب انکی عادتیں اتنی پختہ ہو چکی ہیں کہ ہم ان کی خاطر خواہ تربیت نہیں کر سکتے ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے بچوں کے لیے کارٹون بننا شروع ہوئے ۔ یہ ان کو بہت بھاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جو بچے بچپن میں بہت زیادہ کارٹون دیکھتے ہیں وہ بڑے ہو کر خود کارٹون بننے کی کوشش کرتے ہیں۔اور بیشتر اس کوشش میں کامیاب ہو کر فیشن ڈیزائنر اور اداکار وغیرہ بن جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں والدین سے گذارش ہے کہ کارٹونوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور اگر ناگزیر ہو تو پہلے ان کی خوب ذہن سازی کریں پھر اپنے بچوں سے ملنے دیں۔
تقریباً سبھی بچوں کو غبارے بہت پسند ہوتے ہیں ۔کچھ غبارے مگر بچوں کے متعلق جوابی خیر سگالی میں طبعاً خسیس واقع ہوئے ہیں ۔ اسی طرح بچوں کو جانور بہت اچھے لگتے ہیں ۔اور جانوروں کو بچے لیکن اپنے ۔بچوں کی جانوروں سے انسیت کو دیکھتے ہوئے بڑے شہروں میں چڑیا گھر بنائے جاتے ہیں ۔جبکہ چھوٹے شہروں میں بلدیہ والے گلیوں میں ہی کتے بلیاں اور مینڈک وغیرہ پال کربچوں کی تفریح کا سامان کرتے ہیں ۔ یہ چڑیا گھر کو چڑیا گھر پتہ نہیں کیوں کہتے ہیں ۔حالانکہ آج تک ہم نے کسی چڑیا کا گھر نہیں دیکھا ،گھونسلے البتہ بہت سے دیکھے ہیں ۔ اسی طرح بالتحقیق چڑیا گھر میں کبھی چڑیا تو ہوئی نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا نام اس لیے پڑ گیا ہو کہ کوئی بچہ زو (zoo) گیا ہو اور واپس آ کر اس نے اپنے ہم جماعتوں کو بتایا ہو کہ میں نے کل ہاتھی دیکھا تو باقی بچوں نے کہا ہو کہ یہ ہاتھی کس چڑیا کا نام ہے۔
بچوں کو بیمار ہونے پر اکثر ٹیکہ لگایا جاتا ہے ۔ جس سے سب بچوں کو نفرت ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں کو ٹیکہ لگانے کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے۔ کہ جس مریض کو یہ ٹیکہ نہیں لگاتے، “ٹیکہ” اصل میں اس کو بھی لگا چکے ہوتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات سے تجزیہ کروانا چاہیے کہ یہ جو بچے بڑے ہو کر بڑے پیمانے پر ملک و قوم کو ٹیکے لگاتے ہیں یہ کہیں لاشعوری طور پر انہیں ٹیکوں کا ردِ عمل تو نہیں جو بچپن میں ڈاکٹرحضرات ان کو لگاتے رہے ہیں ۔ بچے ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں ۔ یہ فصل ہے ہمارے سنہرے سپنوں کی، آسودگی کی ،آس کی، امیدوں کی،اس کو جتنی محبت، توجہ اور علم وتربیت کی کھاد آج ڈالیں گے اتنا ہی کل آپکو ایمانداری، خوشحالی بھائی چارے اور خدمت کا پھل مل جائیگا ۔

ابن فاضل
ابن فاضل
معاشرتی رویوں میں جاری انحطاط پر بند باندھنے کا خواہش مندایک انجینئر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *