امیر جان حقانی کی تحاریر
امیر جان حقانی
امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

گاہکوچ اور اس کے مضافاتی پکنک پوائنٹس ۔۔۔۔امیرجان حقانی

گاہکوچ ضلع غذر کا سٹی ایریا ہے۔گلگت شہر سے گاہکوچ تک 70کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔سرکار کے تمام مرکزی محکمے گاہکوچ میں ہی ہیں۔گاہکوچ کے دائیں بائیں درجنوں پکنک پوائنٹس ہیں جہاں زندگی کی تمام فطری خوبصورتیاں موجود ہیں۔گاہکوچ سے 17کلومیٹر←  مزید پڑھیے

گلگت بلتستان میں عیدکے رنگ۔۔۔امیر جان حقانی

عید منانے کے رنگ دنیا بھر میں جدا جدا ہیں۔دیس دیس کے رنگ نرالے بھی ہیں اور خوشیوں سے عبارت بھی ہیں۔ گلگت بلتستان پاکستان کا ایک انتہائی حسین وجمیل اور حساس ترین علاقہ ہے۔ اس کی سرحدیں بیک وقت←  مزید پڑھیے

عید کی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شامل کریں ۔امیر جان حقانی

عید کا تصور اتنا ہی پرانا اور قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ قدیم ہے۔ لفظ عید تین حرفی ہے۔ عید عربی زبان کے لفظ عود سے ماخوذ ہے جسے کے معنی لوٹ آنااور بار بار آنے کے ہیں۔ عید چونکہ←  مزید پڑھیے

وادی غذر، یاسین ویلی کا ایک انوکھاسفر۔۔امیر جان حقانی/سفرنامہ

اقسامِ سفر! سفر دو قسم کا ہوتا ہے، ایک وہ جو تفریح کی غرض سے کیا جاتا ہے اور دوسرا وہ جو کسی ضرورت اور مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہم نے یاسین ویلی کا جو سفر کیا وہ←  مزید پڑھیے

جنگ آزادی گلگت بلتستان پر ایک علمی کاوش۔امیر جان حقانی

علم و ادب کے حوالے سے بلتستان کسی تعارف کا محتاج نہیں۔میں نے کئی لوگوں سے بلتستان کو ”چھوٹا لکھنو“ کہتے ہوئے بھی سنا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے اکثر اہل علم و قلم سے میری←  مزید پڑھیے

جنت میں عورتوں کو کیا ملے گا؟امیرجان حقانی

دینی حلقوں کی طرح میری نشستیں جدید تعلیم یافتہ احباب کے ساتھ بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اگر سچ کہوں تو جدید تعلیم یافتہ احباب سخت قسم کے سوالات پوچھتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کا←  مزید پڑھیے

عربی زبان اہمیت اور عشاق العربیہ کی کاوشیں ۔ امیرجان حقانیؔ

عربی زبان عالم اسلام کی مشترکہ علمی و ادبی اور ثقافتی زبان ہونے کے ساتھ فی زمانہ  ابلاغ اور  سفارتی زبان کا درجہ بھی پاچکی ہے۔اگر کسی زبان کے اندر عالمی زبان بننے کی صلاحیت ہے تو وہ فقط عربی←  مزید پڑھیے

بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی سے متعلق تجزیاتی رپورٹ۔امیر جان حقانی

اسلام آباد(تجزیاتی رپورٹ: امیرجان حقانی) بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی کو اقوام عالم نے بین الاقوامی قانون برائے تحفظ انسانیت کا علمبردار قراردیا ہے۔بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی دنیا بھر میں رنگ و مذہب کے بجائے انسانیت کی بنیادوں پر کام کرتی←  مزید پڑھیے

مولویت نہیں دینداری۔امیر جان حقانی

مولویت درس نظامی سے فراغت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذہنیت ہے جو استحصالی ہے۔ مولویت زدہ استحصالی ذہنیت پر مشتمل افراد بہت قلیل ہیں لیکن جو ہیں وہ بااختیار ہیں۔اس بااختیار استحصالی ذہنیت سے ان کی برادری کے←  مزید پڑھیے

عورت۔امیر جان حقانی

صدیوں مردکی نفرت کی پن چکی میں پستی عورت پر قرآن نے فیصلہ سنادیا کہ ”تم (مرد)ان کے (عورت) کے لیے لباس ہو اور وہ تمہارے لیے لباس ہیں“۔میرے آقائے نامدار حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت←  مزید پڑھیے

صدیق ؓ اور حیدرؓ کے متوالو.,خداکے لیے۔۔۔امیر جان حقانی

میرے گزشتہ کالم پر کچھ اپنوں اور غیروں نے ناک بھوں چڑھایا۔چند احباب تو باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروانے لگے۔ ایک صاحب تو نماز کے بعد مسجد کے باہر لتاڑنے لگے۔مجھے اکثر ایسا فیڈ بیک ملتا رہتا ہے مگر اس دفعہ←  مزید پڑھیے

راما فیسٹول،بدنظمی کا شکار۔امیر جان حقانی

راما استور کی مشہور ترین جگہ ہے۔ راما کا میدان سطح سمندر سے تقریبا 3175 میٹر بلند ہے۔راما دراصل راما جھیل کی وجہ سے مشہور ہے۔اور راما جھیل 3500 میٹر بلند ہے۔رام جھیل ٹروٹ مچھلیوں کا مسکن ہے۔ 2011 سے←  مزید پڑھیے

KIU دیامر کیمپس۔۔حقائق وخدشات۔۔۔ امیر جان حقانی

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی دیامر کیمپس کے قیام کے لیے راقم الحروف نے کئی بار لکھابلکہ بعض دفعہ تو بہت ہی سخت لکھا۔یونیورسٹی کے ابتدائی خاکے میں یہ بات طے تھی کہ مختلف اضلاع میں یونیورسٹی کے کیمپس بنائے جائیں گے۔←  مزید پڑھیے

دیوسائی نیشنل پارک کے دامن سے

دیوسائی نیشنل پارک کی سیاحت ایک خواہش تھی۔ اس خواہش کی تکمیل اگست 2017کو ہوئی۔قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے احباب کے ساتھ استور سے دیوسائی کی آخری حدود تک گیا۔انتہائی بلندی پر پھیلا یہ وسیع علاقہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے←  مزید پڑھیے