ابن الحسن عباسی، کچھ باتیں کچھ یادیں ۔۔ امیرجان حقانی

“اگر تم لوگ دینی مدارس کے فضلاء کے ساتھ ظلم روا نہ رکھتے تو آج مولانا ابن الحسن عباسی کا مرتبہ تمہارے ہاں بہت بلند ہوتا”۔ یہ الفاظ نامور نقاد مشفق خواجہ نے عطاء الحق قاسمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہی تھی۔ مشفق خواجہ مرحوم کے ہاں اہل قلم و ادب کی محفل لگتی تھی۔ وہ عباسی صاحب کی ادبی خدمات کے بڑے مداح تھے۔

استاد محترم کا تعلق کے پی کے سے تھا۔ پٹھان علما میں مولانا سمیع الحق شہید کے بعد استاد محترم ہی سب سے کمال کی اردو لکھتے تھے۔اسلامی ادب میں استاد عباسی کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کا اصل نام مسعود باللہ عباسی تھا مگر وہ اپنے قلمی نام ابن الحسن عباسی کے نام سے معروف تھے۔ 1993 میں جامعہ دارالعلوم کراچی سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد جامعہ فاروقیہ میں تدریس و تحقیق اور تالیف کا کام شروع کیا۔ بہت جلد ترقی کی وہ منازل طے کیں جو نوجوان فضلاء خواب میں دیکھتے ہیں۔ جامعہ میں تدریسی و تحقیقاتی کاموں کیساتھ مدارس کا سب سے بڑا نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ کے ترجمان میگزین ماہنامہ وفاق المدارس کے بانی ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ کشف الباری کی تحقیق و مراجعت کے ساتھ اپنی کتب کی تصنیف کا سلسلہ شروع کیا۔ بائیس سال میں دو درجن سے زائد کتب تصنیف کی۔ خواتین کے لیے حیاء ڈائجسٹ کا اجرا کیا۔ شاہ فیصل کالونی میں تراث الاسلام کی داغ بیل ڈال دی اور وہاں سے النخیل کا اجراء کیا۔ النخیل نے بہت جلد پاکستان اور ہندوستان کے اہل علم و قلم میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ استاد جی کی زندگی میں کچھ مشکلات بھی آئیں مگر وہ ان مشکلات کا مقابلہ کرتے رہے۔وہ بہت نفیس انسان تھے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں بھی بہت احتیاط برتتے تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں گلگت سے جو بھی دیسی چیزیں لے آتا، ان کی تفصیلات پوچھ کر ہی استعمال کرتے۔استاد جی کے لیے گلگت کا کڑوا دیسی گھی لایا تھا۔ اس کے متعلق ایک شاندار قصہ بھی ہے۔جو کافی پہلے کہیں تحریر بھی کیا ہے۔ میری والدہ ماجدہ نے میرے بچپن میں ہی میری شادی کے لیے اون کا دیسی جبہ(شوکا) بنایا جو طالب علمی میں ہی استاد جی کو گفٹ کیا تھا۔ بہت خوش ہوئے تھے۔

tripako tours pakistan

استاد جی سے پہلا تعارف ان کی کتب اور تحریریں تھی۔ استاد جی کی تحریریں روزنامہ اسلام میں شائع ہوتی تھیں ۔ میرا معمول تھا کہ حفظ کے زمانے میں ہی کئی کالم نگاروں کی تحریریں مستقل پڑھتا تھا۔ اخبار کیساتھ یک گونہ لگاؤ تھا مجھے۔ 2003 میں روزنامہ اسلام تک رسائی ہوئی تو استاد محترم کے کالم بھی پڑھنے شروع کیے۔ میں جہاں بھی زیر تعلیم رہا وہاں کے قریبی چائے خانے میں چائے پینے صرف اس لیے چلا جاتا تھا کہ وہاں مختلف اخبار آتے اور مجھے کالم پڑھنے کو ملتے۔وہیں  پر استاد جی کی تحاریر پڑھتا اور استفادہ حاصل کرتا  ۔ پھر 2004میں درجہ ثانیہ میں جامعہ فاروقیہ میں داخلہ لیا تو استاد جی کے ساتھ ربط و تعلق کا سلسلہ شروع ہوا۔مجھے لکھنے کا جنون تب سے تھا۔ میرے قریبی احباب جانتے ہیں کہ میں اخبار کے کالموں میں گھنٹوں سر جھکائے مصروف ہوتا۔یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ روز کئی کالم پڑھتا ہوں۔ درجہ ثانیہ کے سال استاد جی کی اکثر کتب قیلولہ سے پہلے پڑھ چکا تھا۔ روزانہ 25 منٹ دوپہر کے قیلولہ سے پہلے ادبی کتب کا مطالعہ معمول بن گیا تھا۔ درجہ رابعہ میں استاد محترم سے اچھا خاصا تعلق بن چکا تھا۔ عصر کے بعد جامعہ کے دارالتصنیف والتالیف میں ان کے پاس جانا شروع کیا تھا۔ روز جاتا تھا۔ایک سال سالانہ چھٹیوں میں استاد جی نے دارالتصنیف کی صفائی کی ذمہ داری بھی لگائی تھی۔ میرے بھائی منصوراللہ بھی وہاں آتے تھے اکثر۔ ایک دن عرض کیا کہ استاد جی میں بھی کالم لکھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا:”ایک صفحہ لکھ کر لے آؤ دیکھتے ہیں” ۔
اگلے دن کاپی کا پورا صفحہ لکھ کر حاضر خدمت ہوا۔ استاد جی کشف الباری کے کام میں مصروف رہے۔ یوں چالیس دن گذر گئے۔ میں کاپی سمیت روز عصر کے بعد حاضر ہوتا رہا مگر استاد جی کاپی کا اکلوتا صفحہ دیکھتے ہی نہیں۔شاید میرے شوق و جنون کا امتحان لینا چاہتے ہوں۔

میں کافی مایوس ہوا تھا مگر پھر کہا ہاں “امیرجان دکھادو۔” تھوڑا پڑھا اور اپنی بک شیلف سے سید سلیمان ندوی کی کتاب “یاد رفتگاں” عنایت کی اور کہا “اس کو بالاستیعاب پڑھ کر آنا، اس کے مندرجات پربات ہوگی۔” یہ وفیات پر ایک بے نظیر کتاب ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے کبار اہل علم پر اپنے عالمانہ و ادیبانہ تاثرات قلمبند کیے ہیں۔تاثرات کیا علم و ادب کا بحر بے کراں ہے۔ یہ سارے مضامین شاید معارف اعظم گڑھ میں شائع ہوئے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ چوتھے دن، میں اس ضخیم کتاب کو پڑھ کر استاد جی کی خدمت میں حاضرا ہوا تھا۔ اس کتاب کے بہت سارے محاورات، ضرب الامثال، جملے اور کچھ پیراگراف میں نے اپنی مخصوص ڈائری میں نوٹ کیا تھا جو آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔ اس ڈائری میں مشکل الفاظ و تعبیرات لکھ دیا کرتا تھا تاکہ بار بار دھرا کر ازبر کرسکوں۔
استاد جی کو یہ ساری صورت حال بتائی تو بہت خوش ہوئے اور مجھ سے کتاب پر مکالمہ بلکہ مباحثہ شروع کیا۔فرمایا
سب سے اچھا کس پر لکھا ہے۔ عرض کیا استاد جی، مولانا سلیمان ندوی نے اپنے استاد علامہ شبلی نعمانی پر سب سے مفصل اور اچھا لکھا ہے۔ کہا ہاں مگر آپ نے اس مضمون پر زیادہ غور نہیں کیا ہے جو حضرت تھانوی رح پر لکھا ہے۔ پھر کچھ اور شخصیات پر لکھے ہوئے مضامین پر بھی ایسا تبصرہ کیا کہ میں ورطہ حیرت میں رہ گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ آج ہی کتاب مکمل کی ہے۔ عرض کیا استاد جی یہ کتاب آپ نے کب پڑھی ہے؟ فرمایا کافی سال پہلے پڑھی تھی۔ اللہ اکبر کیا غضب کا حافظہ پایا تھا۔
پھر مفتی رفیع عثمانی صاحب کی کتاب تیرے پراسرار بندے عنایت کی۔ یوں بیس کے قریب استاد جی نے مجھ سے ادب اسلامی کی کتب کا مطالعہ کراویا۔اور ان کتب پر مجھ سے مکالمہ کرتے رہے۔بڑوں کے سکھانے اور سمجھانے کے انداز ہی مختلف ہوتے ہیں۔ فرمایا کرتے “امیرجان تھوڑا لکھنے کے لیے زیادہ پڑھنا پڑتا ہے، تم اردو اچھی لکھتے ہو مگر بولتے بہت غلط ہو۔ اپنی تحریر و تقریر میں تذکیر و تانیث کی درستی کیا کریں۔ گلگتی لہجے سے نکل جاؤ”۔ اک دفعہ فرمایا “اکثر گلگتی پھول کا تلفظ ایک جیسا کرتے ہیں یعنی ادائیگی درست نہیں۔ یہ ظلم دیگر بہت سارے الفاظ کے ساتھ بھی کرتے ہیں”۔

درجہ خامسہ اور بی اے کے سال میں نے اخبار میں لکھنا شروع کیا۔ پہلا کالم ہفت روزہ چٹان گلگت میں شائع ہوا تھا۔ اس وقت تحریر کی درستگی استاد حبیب زکریا سے لینا شروع کیا تھا۔اخبار میں چھپا پہلا کالم استاد جی عباسی صاحب کو دکھایا تو بہت خوش ہوئے پھر فرمایا “چونکہ آپ نے صحافت اور کالم نگاری کی دنیا میں قدم رکھا ہی ہے تو دو باتوں کا خیال کرنا۔ جہد مسلسل اور ربط مسلسل۔ فرمایا جہد مسلسل کا مطلب موت تک مطالعہ کرنا ہے۔ مطالعہ کا تسلسل کھبی نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ ربط مسلسل کا مطلب لکھنے لکھانے کی مشق اور اساتذہ سے تعلق اور ذرائع ابلاغ و نشریات سے مسلسل رابطہ میں رہنا۔
ان دو باتوں پر عمل کریں گے تو جلد لکھنے میں کامیابی حاصل ہوگی اور آپ کے خیالات کا ابلاغ بھی ہوجائے گا اور حلقہ قارئین بھی بنے گا”۔
استاد جی کی یہی دو باتوں کو زاد راہ کے طور پر 2006 سے آج تک حرزجاں بنایا ہوا ہے جس کا بے حد فائدہ ہورہا ہے۔شکر ہے چار لفظ جوڑ دیتا ہوں اور لوگ پڑھ کر توصیف و تنقید کرتے ہیں جسے مجھے مزید لکھنے کی تحریک ملتی۔
استاد جی سے میں نے خامسہ میں ہدایہ اول، سابعہ میں تفسیر بیضاوی اور دورہ حدیث میں شمائل ترمذی پڑھی ہے۔

جامعہ فاروقیہ کراچی کی سات سالہ تعلیمی زندگی میں استاد جی مرحوم کے ساتھ اتنی حسین و جمیل باتیں، واقعات اور یادیں وابستہ ہیں جن کا احاطہ کاغذ کے ان چند صفحات میں سمونا ممکن ہی نہیں۔سابعہ کے سال جب یونیورسٹی میں ایم اے ماس کمیونیکشن میں ریگولر داخلہ لیا تو سب سے بڑا اخلاقی سپورٹ استاد عباسی اور استاد ولی خان المظفر نے کیا تھا۔ حوصلہ دلایا تھا۔ کافی سارے احباب اور اساتذہ میرا یونیورسٹی میں پڑھنے کو تحسین کی نگاہ نہیں دیکھتے تھے۔ ایک موقع پر تو ایک صاحب سے کہا کہ مجھے عباسی صاحب نے یونیورسٹی میں صحافت میں داخلہ لینے کا کہا تھا۔ انہوں نے استاد جی سے پوچھا تو ٹال دیا۔ بعد میں مجھے کہا کہ “امیرجان میرے کندھے پر رکھ کر بندوق چلاتے ہو”۔ پھر ان صاحب کے متعلق بتایا۔اور خوب تبسم فرمایا۔
کراچی میں تعلیم سے رسمی فراغت کے بعد ربط و تعلق کا ایک نہ ختم ہونے والا باب شروع ہوا۔
استاد محترم کی جملہ کتب کا دوران طالب علمی میں ہی مطالعہ کیا تھا۔ان میں متاع وقت اور کاروان علم ایک ایسی کتاب ہے جس کا بالاستیعاب مطالعہ کئی بار کیا۔ اس کتاب نے میری زندگی کا رخ بدل دیا  ہے۔ میں آج تک اپنے طلبہ و احباب کو اس کتاب کا خصوصی مطالعہ کرواتا ہوں۔ متاع وقت پر اردو زبان کی سب سے پہلی اور مایہ ناز کتاب ہے۔ اس سے پہلے وقت پر اتنی وقیع کتاب نہیں لکھی گئی یا کم از کم میرے علم میں نہیں۔ کیریئر کونسلنگ میرا خاص موضوع ہے۔ریڈیو پاکستان گلگت، اخبارات اور سیمینارز کے لیے کئی تحریریں لکھیں ہیں اس موضوع پر۔ واللہ ابن الحسن عباسی کی اس کتاب جیسی جامع کتاب اب تک میری نظروں سے نہیں گزری۔ میرے پاس وقت پر درجن سے زائد اردو کتب وتراجم موجود ہیں۔ یہ تمام کتابیں مل کر بھی متاع وقت اور کاروان علم کے گرد تک نہیں پہنچ سکتی۔آپ اس کتاب کو ایک دفعہ ضرور پڑھیے گا۔ یہ کتاب آپ کو بہت کچھ دے گی۔

استاد جی کیساتھ 2006 میں ایک خصوصی تعلق قائم ہوا تھا۔ محبت و احترام کا وہ تعلق 2020 کے اواخر میں اپنے اختتام کو جا پہنچا۔استاد جی وہاں پہنچے جہاں ہم سب نے جانا ہے۔ ان پندرہ سالوں میں استاد جی کیساتھ مسلسل رابطے میں رہا۔ بہت سے اہم امور میں مشاورت کی اور ان سے دعائیں لیں۔میرے کسب معاش پر بھی پہلے دن سے متفکر تھے۔ کراچی رکنے کو کہا تھا مگر میں نہ رک سکا۔ پھر2011 میں اپنے عزیز مولانا اسداللہ عباسی کے پاس بھیجا اور ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے کہا۔ میں اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔استاد جی کے ساتھ ان کے مدرسے میں ملاقات ہوئی پھر استاد جی کراچی چلے گئے۔ اسداللہ صاحب سے کام کے متعلق کچھ معاملات طے بھی ہوئے تھے۔ اُنہی  دنوں میری لیکچررشپ میں تقرری ہوئی اور گلگت لوٹ گیا۔ استادجی کو بتایا تو بہت زیادہ خوش ہوئے۔ پھر کچھ دن بعد فون کرکے خوب حوصلہ دیا۔ فرمایا “کالج میں ڈٹ کر کام کریں۔ لوگ طعنے دیں گے مگر پروا نہ کریں”۔ جامعہ نصرۃ الاسلام گلگت سے سہہ ماہی مجلہ نکالنا شروع کیا تو تمام اساتذہ سے مشاورت کی۔ استاد عباسی نے اپنے اہم تجربات احقر سے شیئر کیے۔مفید مشورے دیے اور میگزین نکالنے کے کئی گُر بھی بتلا دیے۔ 2017 میں حضرت شیخ سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کی جنازہ کے لیے کراچی پہنچا تو اگلے دو تین دن استاد جی کا مہمان بنا۔ ایک دن استاد جی کی معیت میں میں، مولانا شہاب صاحب اور مولانا مقصود، حضرت شیخ صاحب کی مرقد پر گئے اور فاتحہ پڑھی۔ میں تصاویر بنانے  لگا تو فاروقیہ فیز 2 کے استاد مفتی عمرفاروق نے روکنا چاہا۔ استاد جی فرمانے لگے۔ “امیرجان نے کہاں رکنا ہے۔ یہ تصاویر بناکر ہی دم لے گا۔ کچھ کام یہ ضد کرکے کرلیتا ہے، کسی کی نہیں مانتا”۔ پھر اپنے مخصوص انداز میں کھلکھلائے۔ استاد جی قہقہہ  نہیں لگاتے تھے مخصوص تبسم فرماتے تھے۔

واپسی پر اگلے دن جامعہ تراث الاسلام کے متخصصین میں میرا لیکچر رکھا۔ میں نے عرض کیا کہ استاد جی میں اس لائق نہیں، مگر ڈانٹ کر خاموش کرایا اور فرمایا ” اپنے تجربات شیئر کریں اور ان کو یہ بتلائیں کہ سماج کے مختلف حلقوں میں دین کا کام کیسے کیا جاسکتا ہے۔ عصری اداروں میں کیسے جایا جاسکتا ہے۔” یوں تخصص کی کلاس میں احباب کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹہ مذاکرہ رہا۔ بہت سارے موضوعات پر مکالمہ ہوا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مدرسہ کے چند اساتذہ بھی شامل تھے ہمارے مذاکرے میں۔ بہت سارے سوالات ہوئے۔ بہت مزہ آیا۔

چند سال سے میں مدارس و جامعات کے مہتممین کے متعلق بہت سخت رائے رکھتا تھا۔ اس کا سوشل میڈیا اور اخبارات میں شدت سے اظہار بھی کرتا تھا۔ اللہ جزائے خیر دے استاد ابن الحسن عباسی مرحوم اور استاد نورالبشر حفظہ اللہ کو، دونوں بزرگوں نے ڈانٹ ڈپٹ، ناراضگی اور سختی کی بجائے انتہائی محبت سے مجھے سمجھایا۔ اور یہ نکتہ دل میں اتار دیا کہ درجنوں خامیوں کیساتھ مدارس وجامعات کے مہتممین میں کئی اعتبارات سے خیر کا پہلو غالب ہے۔لہذا اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے خیر کی امید رکھنے چاہیے۔ یوں ہی مدارس کا نظم چل رہا ہے۔ اور چلتے رہنا چاہیے۔اس نظم کو کمزور کرنے کے لئے ہمیں کام میں نہیں آنا چاہیے۔
استاد جی کی مرتب کردہ نئی وفاق المدارس کی تاریخ چھپ کر آئی تو مجھے بجھوادی ، اور اس کے کچھ حصوں کا مطالعہ کرکے اپنے خیالات کے اظہار کرنے کا حکم بھی دیا۔ میرا خیال تھا کہ کتاب بالاستیعاب پڑھ کر مفصل اخباری کالم لکھوں مگر افسوس! استاد جی کی زندگی میں یہ بھی نہ ہوسکا۔میں اپنی مصروفیات کی بھول بھلیوں میں گم ہوا۔
استاد جی نے ماہنامہ النخیل کا اجرا کیا تو مجھے بھی لکھنے کا حکم دیا تھا مگر یہ کام بھی نہ کرسکا۔ کیونکہ اس معیار کا لکھنے کے لیے کافی محنت کرنی  پڑتی ہے۔ النخیل کا ہر شمارہ استاد جی مجھے پی ڈی ایف میں بھیجتے  تھے جس سے بھرپور استفادہ کرتا۔ النخیل میں چھپے اہل علم و قلم کی تحاریر کو جب کتابی شکل دیا جارہا تھا تو بھی استاد جی نے بتلایا تھا۔ کتاب چھپنے کے بعد استادجی کی زندگی میں ہی ان کے صاحبزادے برادرم سعود عباسی نے کسی کے ہاتھ کتاب بھجوائی تھی۔ تب استاد جی بیمار تھے۔ یادگار زمانہ اشخاص کا احوال مطالعہ ابھی تک مجھ تک نہ پہنچ سکی۔کسی ساتھی کے پاس امانت ہے پہنچ جائے گی۔ بیماری کے ایام میں استاد جی کے صاحبزادے برادرم سعود عباسی سے خیریت دریافت کرتا رہتا تھا۔ انہوں دنوں میں استاد جی کے لیے گلگت کا مشہور ڈرائی فروٹ کیلاؤ بھی ارسال کیا تھا تاکہ استاد جی کسی نئی سوغات سے لطف اندوز ہوں۔

لیکن پھر استاد جی کی رحلت کی خبر نے اوسان خطا کردیے۔ مغرب کے بعد یہ خبر ملی تھی۔ دسمبر کی طویل رات میں صبح تک نہ سو سکا۔ میرے دوست مفتی نذیر نے ترکی سے استادجی کی رحلت کی خبر کی تصدیق مجھ سے کی اور دھاڑیں  مار کر روتے رہے۔ وہ بھی میری طرح نہ سو سکے۔دور گلگت سے نہ جنازہ میں شامل ہو سکا اور نہ ہی تعزیت کے لیے پہنچ سکا۔ حد تو یہ ہوئی کہ بار بار سوچنے کے باوجود بھی برادرم سعود عباسی سے بھی تعزیت کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ میں خود تعزیت کے قابل تھا تو کیسے استادجی کے گھر والوں سے تعزیت کرتا۔

Advertisements
merkit.pk

اردو ادب کا یہ درخشاں ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سب سے جدا ہوئے۔ ایک دفعہ مجھے کہنے لگے “امیرجان علی میاں کو بالاستیعاب پڑھو۔ میں نے انہیں ڈوب کر پڑھا ہے۔”
استاد جی نے واٹس ایپ کا ایک گروپ “شیخ الہند فتوی کونسل” بنایا تھا۔ اس میں مجھ کم علم کو بھی شامل کیا تھا۔ وہاں پاکستان و انڈیا اور دنیا بھر سے جید علما  کرام و مفتیان عظام موجود تھے۔ کئی دفعہ اہل علم سے الجھتا رہا۔ کچھ بزرگوں نے استاد جی کو شکایت بھی لگائی مگر قربان جاؤں ابن الحسن عباسی پر، خفگی کے بجائے بزرگوں سے فرمایا “مولانا امیرجان حقانی کی رائے ہے۔ اس کو مناسب جواب دیا جائے”۔ اندازہ کیجیے بیسیوں کتابوں کے مصنف اور ہزاروں علما  کا استاد اور ایک صاحب طرز و اسلوب ادیب اپنے ہی ایک کج فہم شاگرد کو مولانا کہہ کر عزت افزائی کرتے ہیں۔ یہی بڑوں کا خاصہ ہوتا ہے ورنہ تو لوگ کسی اور طریقے سے سمجھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ نہ سمجھنے پر تھوک  کے حساب سے گالیاں دیتے ہیں۔پھر اس گروپ میں انتہائی محتاط رہا۔ کہیں بڑوں کی بے ادبی کا مرتکب نہ ہوں۔جن احباب نے میرے خیالات کا بھرپور جواب دیا ان کی بھی استاد جی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ استاد جی کی وفات حسرت آیات نے میری ذاتی زندگی میں ایک خلا پیدا کی ہے۔ سوچتا ہوں کہ اب میری بے راہ رویوں اور شدت پسند رویوں پر محبت سے مجھے کون سمجھائے گا۔  مگر پھر وہی بات کہ اللہ کے فیصلوں کو کون روک سکتا ہے۔ موت کا پیالہ ہر ایک نے پینا ہے اور اس سے کسی کو رستگاری نہیں۔ ہم سب نے بھی وہیں  جانا ہے جہاں استاد محترم مولانا ابن الحسن عباسی نوراللہ مرقدہ چلے گئے ہیں۔ یااللہ! میرے استاد کو کروٹ کروٹ راحت دے اور ہم سب پسماندگان بالخصوص برادرم سعود عباسی و تمام اولاد اور استاد جی  کے خاندان  کو صبر جمیل  دے  ۔ آمین

  • merkit.pk
  • merkit.pk

امیر جان حقانی
امیرجان حقانیؔ نے جامعہ فاروقیہ کراچی سےدرس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیے2010 سے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کے تمام اخبارات و میگزین اور ملک بھر کی کئی آن لائن ویب سائٹس کے باقاعدہ مقالہ نگار ہیں۔سیمینارز اور ورکشاپس میں لیکچر بھی دیتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply