یومِ علی، قائدِ اعظم اور تکفیری علما۔۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

اکیس رمضان کو برِصغیر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کی مناسبت سے یومِ علی کے طور پر سوگ کا دن سمجھا جاتا ہے۔ 1944ء میں مہاتما گاندھی قائدِ اعظم سے مذاکرات کرنے بمبئی آئے  تو قائد نے 7 ستمبر کو حضرت علی کے یومِ شہادت کی وجہ سے ملاقات سے معذرت کی اور مذاکرات 9 ستمبر سے شروع ہوئے۔ اس بات پر لکھنؤ میں مجلسِ احرار کے ایک رہنما مولانا ظفر الملک بھڑک اٹھے اور قائدِ اعظم کو کھلا خط لکھ کر کہا:

“مسلمانوں کا 21 رمضان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ خالص شیعہ دن ہے۔ اسلام کسی قسم کے سوگ کی اجازت نہیں دیتا۔ درحقیقت اسلام کی روح اس قسم کے یہودی تصورات کے بالکل خلاف ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ خوجہ شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن آپ کو مسلمانوں پر ایک شیعہ عقیدہ تھوپنے کا کوئی حق نہیں”[1]۔

قائدِ اعظم نے اس خط کے جواب میں لکھا:

“یہ شیعہ عقیدے کی بات نہیں۔ حضرت علی ؑچوتھے خلیفہ بھی تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ حقیقت میں 21 رمضان کا دن اکثر مسلمان، شیعہ سنی اختلاف سے بالاتر ہوکر، مناتے ہیں۔ مجھے آپ کے رویے پر تعجب ہوا ہے”[1]۔

اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیکولر قومیت کے نام پر کانگریس کو بے وقوف بنانے والے یہ علما  اندر سے کس حد تک متعصب تھے۔ یہ لوگ قائدِ اعظم کے غم و خوشی کے ذاتی جذبات اور مذہبی وابستگی پر حملہ آور ہو رہے تھے۔ البتہ ان علما  کو عوام میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ فرنگی محل لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے اہلِ سنت نے قائدِ اعظم کو خط لکھ کر مولانا ظفر الملک کی اس حرکت کی مذمت کی اور آپ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا [2]۔ ان دنوں مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر سامنے آ رہی تھی، اور کانگریس نے اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کر کے معاہدہ لکھنؤ جیسی کسی مفاہمت کی طرف جانے کے بجائے سیاسی یتیم اور درپردہ انگریز سے ملے ہوئے علما کا سہارا لے کر مسلم لیگ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ ان علما نے اپنے تعصب اور تنگ نظری کی وجہ سے کانگریس کو مسلمانوں میں مزید بیگانہ بنا دیا۔

قائدِ اعظم، ابوالحسن اصفہانی اور راجہ صاحب محمود آباد جیسے رہنماؤں کے شیعہ ہونے کی وجہ سے مجلسِ احرار اور جمعیت علمائے ہند نے مسلم لیگ کے خلاف فرقہ وارانہ تعصب کی مہم چلائی حالانکہ مسلم لیگ میں اکثریت سنی رہنماؤں کی تھی۔ قائدِ اعظم کی مرحومہ زوجہ رتی جناح، جنھوں نے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور جن کی وفات کے بعد ان کو شیعہ طریقے سے بمبئی کے خوجہ اثنا عشری قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، کو ان کی وفات کے کئی سال بعد جمعیت علمائے ہند نے غیر مسلم کہنا شروع کیا۔ حالانکہ اگر وہ اپنے آبائی مذہب پر ہوتیں تو تدفین کے بجائے ان کی آخری رسومات پارسی مذہب کے مطابق ادا کی گئی ہوتیں۔ مولانا حسین احمد مدنی نے “سول میرج اور لیگ” کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں قائدِ اعظم پر الزام لگایا کہ انھوں نے سول میرج ایکٹ کے مطابق ایک غیر مسلم عورت سے شادی کی تھی اور اس وجہ سے وہ مسلمانوں کی قیادت کے قابل نہ رہے تھے۔ [3] مولانا حسین احمد مدنی نے خالص تکفیری مولوی کی طرح اشتعال دلاتے ہوئے کہا:

“مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ اور کیا وہ اپنی اور اسلام کی اسی حالت میں، ایسی جماعت میں، آبیاری کر رہے ہیں، یا اسلام کی کشتی کو ڈبونے کی تیاری کرتے ہوئے اس کے سامان بہم پہنچا رہے ہیں۔ ہم اس کا فیصلہ مسلمانوں کی دیانت اور غیرت پر چھوڑتے ہیں”۔ [3]

ان علما  کی یہ حرکتیں نا صرف اخلاقی لحاظ سے پست تھیں بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی ان کو ایک بالشتیہ ثابت کرتی تھیں۔ عوام جتنے بھی سادہ ہوں، ان کی چھٹی حس انھیں ایسے لوگوں کو رہنما بنانے سے روکتی ہے جو ان کے اصلی مسائل پر بات کرنے کے بجائے اس قسم کی گھٹیا حرکتیں کرتے ہوں۔ بہرحال اس کے جواب میں مسلم لیگ نے محترمہ رتی جناح ؒکے قبولِ اسلام  کے ثبوت شائع کیے اور وہ نکاح نامہ پیش کیا جس میں ان کا مذہب اثنا عشری مسلمان ظاہر کیا گیا تھا۔ یہ سب ایسے ماحول میں ہو رہا تھا جب خود کانگریس اور جمعیت  کے کئی مسلم ممبران نے ہندو خواتین سے شادیاں کر رکھی تھیں۔ مثال کے طور پر جمعیت علمائے ہند کے رکن بیرسٹر آصف علی نے بنگالی ہندو خاتون، محترمہ ارونا، سے سول میرج ایکٹ کے تحت شادی کر رکھی تھی جو کبھی مسلمان نہ ہوئیں۔ باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے ایک انگریز خاتون، جو علیٰ الاعلان غیر مسلم تھیں،  سے شادی کر رکھی تھی اور ان کی بیٹی نے ایک سکھ لڑکے سے سول میرج ایکٹ کے تحت  شادی کی تھی۔ [4]

جماعتِ اسلامی کی نشریات میں قائدِ اعظم کو رجلِ فاجر، پاکستان کو جنت الحمقاء اور مسلمانوں کی کافرانہ حکومت قرار دیا گیا۔ [5]
یہاں پر تاریخ کے طالب علموں کے لیے یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ کانگریس کے مسلمان عوام میں مقبولیت حاصل نہ کرنے اور مسلم لیگ کے تقسیمِ ہند کے سوا کسی اور آپشن کو قبول نہ کرنے میں ان علما کا کیا کردار ہے؟ یہ علماء نہ صرف کانگریس کی بدنامی کا باعث بنے بلکہ انھوں نے مسلم لیگ کی سیاست کو بھی متاثر کیا اور کانگریس کے کندھے کو استعمال کرتے ہوئے برِصغیر میں شیعہ مخالف تشدد کی بنیاد مستحکم کی۔

حوالہ جات:

[1]  Liaqat H. Merchant, “Jinnah: A Judicial Verdict”, East and West Publishing Company, Karachi 1990.

[2]Jinnah Papers, second series, volume XI (1 August 1944-31 July 1945); page 174.

[3] مولانا حسین احمد مدنی، “سول میرج اور لیگ”، دفتر جمیعت علمائے ہند، ولی پرنٹنگ ورکس، دہلی (1946)

[4] Khawaja Razi Haider, “Ruttie Jinnah”, Ch. 7, Oxford University Press, (2011).

[5]مولانا مودودی، “مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش”، 1943

ترجمان القرآن فروری 1946 ص -154-153

یہ بھی پڑھیے:

https://www.mukaalma.com/50585

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *