بھولی بھالی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

فون پر ڈاکٹر وزیر آغا (مرحوم) سے لگ بھگ روزانہ ہی بات ہوا کرتی تھی گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں کوئی نہ کوئی مسئلہ زیر بحث آ جاتا جس کا نپٹارا کئی دنوں کی بات چیت کے بعد ممکن ہوتا۔ ایک بار یہ بات زیر بحث آئی کہ کیا وجہ ہے اردو میں بچوں کے بارے میں بھولی بھالی نظمیں نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو ’لونڈوں‘‘ کے بارےمیں ، تمیز سے ماورا ، نظمیں ہیں۔ اب میں کیا جواب دیتا؟ تب آغا صاحب نے ایک فرمائش کی۔ کہنے لگے، ’’ڈاکٹر صاحب، آپ اس سلسلے میں پیش قدمی کریں اور جیسے اور کئی موضوعات کی صراط مستقیم پر ، اپنے پیچھے آنے والوں کو ، چل کر دکھایا ہے۔ یہ کام بھی آپ ہی کریں۔۔۔۔ تو صاحبو، یہ چار نظمیں آنے والے دو تین ماہ میں لکھی گئیں۔ ان میں سے ایک یا دو پہلے انگریزی میں خلق ہوئیں اور میں نے بعد میں انہیں اردو کا جامہ پہنایا۔ستیہ پال آنند

(ایک)
ایک برس کی سپناؔ بیٹی
خود بلا حرکت زمیں پر ایستادہ ہیں، مگر یہ
سیڑھیاں کیسے چڑھی جاتی ہیں اوپر، اور اوپر
آسماں تک؟

موم بتّی کی یہ لو کتنی ملائم لگ رہی ہے
پھر بھلا کیوں اس کے چھونے سے مری انگلی میں
چھالا پڑ گیا تھا؟

شام کو کیوں گھر سے باہر جھاڑیوں میں اُڑتی اُڑتی
جلتی بجھتی روشنی کے کچھ شرارے ’’آ مجھے چھُو
کھیلتے ہیں؟

جب ہوا چلتی ہے تو پیڑوں کی شاخیں
سر جھٹک کر کیا کہا کرتی ہیں خود سے
یا ہوا سے ، یا پڑوسی ڈالیوں سے؟

تتلیاں جب اُڑتے اُڑتے بیٹھ جاتی ہیں سنہرے پھول پر، تو
پھول ان کو کیا بتاتا ہے جو ہنس پڑتی ہیں ساری
کھکھلا کر؟

سینکڑوں ایسی تعجب خیز باتیں اُس کے دل میں
روز اُٹھتی ہیں، مگر وہ کیسے پوچھے
اک برس کی ہے ابھی تو سپنا ؔ بیٹی
اور سیکھا ہی نہیں ہے
بولنا اس کی زباں نے
(۱۹۸۸)

(۲) بالک بانی

جو بند آنکھیں تھیں،سو رہی تھیں
جو نیم وا لب تھے، جاگتے تھے
جو خوشبوئیں تھیں، وہ آدھی سوئی تھیں
آدھی جاگی ہوئی تھیں شاید
کہیں دُھلی چاندنی میں اک خواب کا دریچہ کھلا ہوا تھا
وہ اپنے تتلی پروں پہ اُڑتا ہوا دریچے کے پاس پہنچا
جو خواب بادل کی پرت جیسا، روئی کے گالے سا اُڑ رہا تھا
اسے پکڑنے کو ننھے بازو بڑھائے،لیکن
لگا اُسے، جیسے ماں کی خوشبو بلا رہی ہو
پلٹ کے دیکھا تو ماں پنگھوڑے کی ڈوری تھامے
کھڑی تھی ۔۔۔۔ ’’آ، میرے لال، چل اب ذرا نہا لے
وہ ہنس دیا، جیسے ریز گاری
ہو ڈھیر سی، فرش پر بکھرتی ہی جا رہی ہو
سبو کی قلقل ہو، ساز سا کوئی بج اُٹھا ہو

پھر اپنی جھوٹی اکڑ دکھائی
ذرا شرارت سے منہ بنایا ۔۔۔۔ لبوں کو بھینچا
خموش غصے سے دونوں مٹھیاں کسیں ۔۔۔۔ کہا کچھ
عجیب بولی تھی ۔۔۔ پنچھیوں کی زبان جیسی
جو میرے کانوں کے واسطے میرے ننھے بچے کی غوں غواں تھی
مگر جسے اس کی ماں سمجھتی تھی
ہنس پڑی،بولی، ’’چل مرے لال
پانی ٹھنڈا نہیں ہے، مت ڈر
‘‘اب آ، نہا لے‘‘

(۳) توتلے لفظوں کی باز گشت

کہیں گہرائیوں سے لوٹ کر آئی ہوئی
اک باز گشت ِ خود کلامی ، جو
کسی اک اجنبی بچے کی سی آواز ہے، شاید
مرے ہمزاد کی، اس دوسرے آنند کی ، جو۔۔۔۔
ذہن کی گہرائیوں میں آج تک زندہ رہا ہے
یہ کیسی خود کلامی ہے جو اپنے
توتلے لفظوں میں ، رُک رُک کر
ہمیشہ مجھ سے کہتی ہے ۔۔۔۔’’چلے آؤ

چلے آؤ
کہ تم اب تک تو اپنے ذہن کے دریا میں طوفانی
ہواؤں کے تھپیڑے سہہ رہے تھے
۔۔۔۔نیچے اترو
خندقوں، گہرائیوں میں ڈوب جاؤ
اس تہہ ِ آبِ شعور و فکر دنیا میں جیو ــــــــــ اب
زندگی کے آخری سورج کے ُاگنے تک

وہ تارے، جو
کبھی ننھی سی مٹھّی میں دبائے، تم
شعور و فکر کی دنیا میں لے کر کھیلنے نکلے۔۔۔

جوانی کے گذرنے تک
کہیں گم ہو گئے تھے۔۔۔اب
انہیں اک بار پھر ڈھونڈو
کہ ان گہرائیوں میں تارے اُگتے ہیں
چمکتے موتیوں کی کھیتیاں ہیں۔۔۔۔میں
تمہارا گم شدہ بچپن ہوں، آؤ
میں تمہاری واپسی کا منتظر ہوں!

(۴) سفر زادہ

وہ بچہ جس کو خود میں نے
بڑی شفقت سے پالا تھا
نہ جانے، کب،کہاں، مجھ سے بچھڑ کر
کھو گیا ہے ان غموں کی بھیڑ میں
جو پہرے داروں کی طرح برسوں سے میرے گھر کو گھیرے
ایستادہ ہیں

اسے پھولوں سے رغبت تھی
وہ رنگیں تتلیوں سے پیار کرتا تھا
کبھی تھالی کے پانی میں
جھلکتے چاند کو یوں دیکھ کر ہنستا تھا جیسے
تھرتھراتا عکس اس کے اپنے چہرے کا ہو
روشن چاند جیسا

غموں کی بھیڑ کو شاید
خود اپنے گھر کے دروازے پہ آنے کی
اجازت میں نے ہی دی تھی
انہیں بچپن کے سب اپنے خزانے بانٹ ڈالے تھے
کھلونے، دور کے ملکوں کے سکّے، ڈاک کی ٹکٹیں
گروپ فوٹو کھلندڑے دوستوں ے، یادگاریں

اُن سہانی، سرمئی شاموں کی ، جن میں میچ جیتے تھے
کرکٹ کے بیَٹ، فٹ بالوں کے کہنہ خول
جن پر دوستوں کے دستخط تھے، شوخ فقرے تھے
وہ لمحہ جس میں پہلی بار دو الفت بھرے
ہاتھوں نے میرے بال سہلائے تھے ۔۔۔ رُقعے
جن میں اُن ہاتھوں کی خوشبوئوں کا اک گلشن مہکتا تھا
خزانے بے بہا
سب دشمنوں کو بانٹ ڈالے تھے

غموں کی بھیڑ میں کھوئے ہوئے معصوم بچے کو
بُلا کر دیکھتا ہوں ۔۔۔۔ اغلباً وہ لوٹ آئے گا
اسے انگلی پکڑ کر ساتھ لے لوں گا
غموں کی بھیڑ کے نرغے سے بچ کر ۔۔۔۔
دونوں ساتھی دور جائیں گے
کوئی رستہ تو ہوگا۔۔۔۔اس نئے گھر کا
جہاں بچپن کی تصویریں ہوں، جیتی جاگتی
لمحوں کے چہروں پر لڑکپن کھیلتا ہو!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *