رنگ و بُو کی دنیا ۔ زندگی (14) ۔۔وہاراامباکر

سونگھنے کی بڑی شاندار حس سے راستہ تلاش کرنے کی مثالیں جانداروں میں کئی جگہوں پر نظر آتی ہیں۔ ہر سال سمندروں سے سالمن مچھلی دریا میں مخالف سمت تیرتے ہوئے اپنے پیدائش کی جگہ پر انڈے دینے جاتی ہیں۔ 1939 میں کینیڈین سائنسدان ولبرٹ کلیمنز نے تقریباً ساڑھے چار لاکھ مچھلیوں کو فریزر دریا سے پکڑا۔ نشان لگا کر واپس چھوڑ دیا۔ اور یہ سمندر میں چلی گئیں۔ کئی سالوں بعد انہوں نے نشان لگائی مچھلیوں میں سے 10958 کو پکڑا۔ ان میں سے تمام مچھلیاں دریا کی اسی شاخ سے پکڑی گئیں۔ ایک بھی مچھلی اس دریا کی کسی بھی دوسری شاخ سے نہیں ملی۔ یہ سمندر سے واپس اسی جگہ تک کیسے پہنچتی ہیں۔ یہ برسوں تک معمہ رہا۔

پروفیسر آرتھر ہیسلر نے خیال پیش کیا کہ اس کی وجہ ان کی قوتِ شامہ ہو سکتی ہے۔ اس کا تجربہ کرنے کے لئے وہ اساقا دریا سے سینکڑوں مچھلیاں پکڑ کر انہیں واپس ایک جگہ پر لے آئے جہاں دریا کے دو شاخیں نکلتی تھیں۔ تمام مچھلیوں نے واپس وہی راستہ لیا جہاں سے انہیں پکڑا گیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے ان کے نتھنوں کو روئی سے بند کر کے واپس چھوڑا تو اب یہ دائیں یا بائیں شاخ میں جانے کا فیصلہ نہیں کر سکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سونگھنے کی حس پانی سے زیادہ خشکی پر حیران کن ہو جاتی ہے کیونکہ فضا میں بو کم رہ جاتی ہے اور فضا میں ہونے والی موسمیاتی ٹربولنس کا مطلب یہ ہے کہ بو کے مالیکیول پانی کے نسبت جلد پھیل جاتے ہیں لیکن یہ حس پھر بھی خشکی کے کئی جانداروں کے لئے بہت اہم ہے۔ راستہ ڈھونڈنے، شکار کرنے، شکار ہونے سے بچنے، اپنا پارٹنر تلاش کرنے، خطرے کی گھنٹٰ بجانے، رابطہ کرنے، فزیولوجیکل تبدیلی ٹرگر کرنے کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔

کتے میں بو کے لئے ایپیتھیلیم انسان سے چالیس گنا زیادہ ہیں۔ آپ نے فلموں میں شاید دیکھا ہو کہ ولن کی قمیض سونگھ کر یہ اس کو جنگلوں اور میدانوں سے گزر کر پکڑا دیتے ہیں۔ یہ کہانیاں تک فکشن ہوں لیکن یہ صلاحیت اصل ہے۔ یہ بو کی مدد سے کئی دن پرانے راستے پر پیچھا کر سکتے ہیں۔

بلڈ ہاوٗنڈ کتا نامیاتی کیمیکل کی بہت ہی تھوڑی سی مقدار کا بھی پتا لگا لیتا ہے لیکن جو چیز زیادہ خاص ہے وہ حساسیت نہیں بلکہ تفریق کرنے کی صلاحیت ہے۔ کتوں کو چرس اور کوکین پکڑنے یا کیمیکل دھماکہ خیز مواد کو سونگھ کر پہچان لینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ افراد کی بو میں بھی تمیز کر لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک آئیڈنٹیکل جڑواں کو دوسرے سے بھی الگ کر لیتے ہیں۔ کیسے؟ ہم میں سے اگر ہر ایک بیٹائرک ایسڈ خارج کرتا ہے تو یہ تو ہر ایک میں ایک ہی جیسا ہو گا۔ لیکن ہم میں سے ہر شخص سینکروں نازک اور پیچیدہ نامیاتی مالیکیول خارج کرتا ہے جن کی ایک تناسب سے بنی کاک ٹیل ہر ایک کے لئے ویسی ہی منفرد ہے جیسے ایک شخص کے لئے انگلیوں کے نشان۔ کتا ہماری بو کو ویسے ہی “دیکھ” لیتا ہے جیسے ہم قمیض کا رنگ۔ انیمون مچھلی یا سالمن مچھلی ویسے ہی خوشبو سے اپنے گھر کی شناخت کرلیتے ہیں جیسے ہم بصارت سے اپنے گھر کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن کتا یا سالمن بو پہچاننے کی دنیا کے چیمپئین نہیں۔ ایک بھالو کی حسِ شامہ بلڈہاوٗنڈ سے سات گنا سے زیادہ حساس ہے۔ یہ لاش کو بیس کلومیٹر دور سے سونگھ سکتا ہے۔ ایک پتنگا اپنے ساتھی کو دس کلومیٹر سونگھ لیتا ہے۔ چوہے کی حسِ شامہ سٹیریو ہے (جیسے ہماری بصارت)۔ سانپ زبان سے سونگھتا ہے۔ یہ صلاحیت انہں زندہ رہنے میں مدد کرتی ہے۔

ان کے مقابلے میں انسانی قوتِ شامہ اتنی اچھی نہیں ہے۔ ہم دو ٹانگوں پر چلتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ناک زمین سے دور ہے جس کی وجہ سے بو سے دور ہو ہے جبکہ آنکھ بلندی پر جس کی وجہ سے دور تک دیکھ سکتی ہے۔ ہمارے لئے بصارت اہم حس ہے۔ ہماری جینیاتی پوٹلی میں تین سو جینز اس کے لئے مختص ہیں۔ اگرچہ ہم میلوں دور سے حلوے کی خوشبو نہیں سونگھ سکتے لیکن ہم دس ہزار مختلف بووٗں میں تمیز کر سکتے ہیں۔

حسِ شامہ نے ہماری تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عملی کیمسٹری کا پہلا استعمال عطر بنانے کا تھا۔ قدیم تحریروں میں خوشگوار اور ناگوار بو کا ذکر ملتا ہے۔ عبادت گاہیں اور خانقاہوں میں خوشبووٗں کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ قدیم مصر میں نفرطوم عطر کا دیوتا تھا۔

صحت کا اچھی بو کے ساتھ جبکہ بیماری اور موت کا بری بو کے ساتھ تعلق دیکھ کر کئی بار اس کے رشتے کو الٹ سمجھا جاتا رہا۔ یعنی بدبو بیماری کا سبب ہے۔ جالینوس کے طب میں پڑھایا جاتا تھا کہ بدبودار چادر، گدا یا کمبل جسم کے مادوں کو آلودہ کر دیتا ہے۔ سیوریج، گٹر، مردہ خانے، دلدل سے آنے والی بو کو مہلک بیماریوں کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ قرونِ وسطیٰ میں طبیب سمجھا کرتے تھے کہ خوشبو بیماری کو دور رکھ سکتی ہے۔ طاعون کا مرض دور رکھنے کا طریقہ لوبان، گلاب، مشک، لونگ یا دوسری خوشبودار جڑی بوٹیوں کو جلانا ہے۔ عطر کی صنعت گھروں کو ڈس انفیکٹ کرنے کے لئے تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ہم چکھتے کس سے ہیں؟ صرف زبان سے؟ نہیں، ناک کا اس میں بڑا کردار ہے۔ جب ہم چکھتے ہیں تو زبان اور منہ میں پر ذائقے کے ریسپٹر لعاب میں حل ہونے والے کیمیکل کی شناخت کرتے ہیں۔ یہاں پر پانچ ذائقوں کی شناخت ہوتی ہے۔ لیکن خوراک یا مشروب سے اڑنے والے مالیکیول ناک میں داخل ہوتے ہیں اور گلے میں پچھلی طرف پہنچتے ہیں۔ یہاں سینکڑوں اقسام کے ریسپٹر ہیں۔ یہ ذائقے کے ساتھ ملکر ہزاروں اقسام کے ذائقوں کی وسیع رینج دیتے ہیں۔

اگرچہ ہم کئی دوسرے جانداروں کی طرح کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن پرفیوم کی کامیاب صنعت بتاتی ہے کہ ہماری ساتھی کی تلاش میں یہ حس کتنی اہم ہے۔

تو پھر انسان، ریچھ، سانپ، شارک، سالمن، چوہے مادی دنیا سے پیغام کی شناخت کرتے کیسے ہیں۔ اس رنگ و بو کی دنیا میں ہماری ناک ان سب میں تمیز کرتی کیسے ہے؟

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *