معاشرے کو جھنجھوڑتی مدثر عباس کی شاعری۔۔۔صائمہ جعفری

کوئی بھی ادیب، فنکار یا شاعر معاشرتی حالات سے قطع نظر تخلیق نہیں کر سکتا۔ خوشحال معاشرے اور اقوام خوشحال ادیب تخلیق کرتے ہیں جیسے کہ رفائیل کے فن پارے دیکھ لیں۔ مردم کی خوشحالی اور آسودہ حالی کے بغیر ایسے آرٹ کا معرضِ وجود میں آنا ممکن نہیں۔ اسی طرح فرسودہ روایات اور انتشار کا شکار معاشرے ایسا ادب اور آرٹ تراشتے ہیں جو معاشرے کے تضادات کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ جہاں ایک عام فردغربت، افلاس اور لاچاری کی زندگی گزارتا ہے وہاں شاعر جیسی حساس مخلوق ایسا ہی ادب تخلیق کرے گی جو عوام کو جھنجھوڑ دے۔

میں مدثر عباس کی شاعری غالبا دو سال سے آن لائن پڑھ رہی ہوں۔ میں کیونکہ خود فطری طور پر حساس ہوں اس لیے مجھے انسان پر انسان کا ظلم جھنجھوڑ دیتا ہے۔مشعال خان پہ لکھی یہ نظم پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جس ظلم کو ہم محسوس کرتے ہیں مدثر اسے لفظوں کی شکل میں بخوبی پیش کرتا ہے۔

دفعہ 786
ہمیں نہیں معلوم کہ کس نے
خدا کی شراب میں نیند کی گولیاں ملا دیں
اور وہ ہمارے جسم کی طرف بڑھتے ہوئے
اپنے اسلحے سے لیس فرشتوں کو دیکھ نہیں پایا

ہمیں نہیں معلوم کہ یونیورسٹی کا
ایک سمسٹرہماری لاش سے بھی مختصر ہو جائے گا
ہمیں نہیں معلوم کہ کیوں باپ اپنے
بیٹے کی قبر کھودتے وقت
قبر کا سائز یاد نہیں رکھ پاتے

ہمیں نہیں معلوم کہ کیوں
بہار ایسے گھروں کو چھوڑ جاتی ہے
جنہیں تازہ قبر کے لئے پھولوں
کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے

ہمیں نہیں معلوم کہ ایک ماں کے پاس
اپنے مقتول بیٹے کے حصے کے کتنے بوسے
ایسے ہی پڑے پڑے باسی ہو کر مر رہے ہیں

ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کیوں عدالت قاتلوں کو
تعزیرات پاکستان دفعہ 786 اور دفعہ نعرہ تکبیر
کے تحت رہا کر دیتی ہے۔۔

نطشے نے کہیں لکھا ہے کہ فلسفی سب سے بڑے مجرم ہیں۔ فلسفہ اگر آپ کو سوچنے سمجھنے پر مجبور نہ کرے،  تو آپ عقائد کے پجاری بن جاتے ہیں جو کہ ایک تخلیقی ذہن کی موت ہے۔ اس نوجوان شاعر کو میں فلسفیانہ قیود سے آزاد دیکھتی ہوں۔ وہ کھل کے لکھتا ہے وہ بطور فرد اپنی کمزوریوں سے واقف ہےاور ان پر احتجاج بھی کرتا ہے ۔ مدثر کی شاعری کمزور افراد کی شاعری ہے، وہ خود بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لیے لکھتا ہے۔ معاشرے کی تنہائی، تنگ نظری اور خود غرضی وہ بخوبی بیان کرتا ہے۔ جو فکری ہیجان ہمارے معاشرےمیں پایا جاتا ہے مدثر کی نظم اس کی مکمل عکاس ہے۔ مدثر کی شاعری پڑھ کر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی اس کی بے باکی اور کسی اخلاقی قدر کو نہ ماننا اس کو ایک مشکل شخص بنا دیتا ہے ۔ آپ جیسے چاہیں اسے سمجھیں یا نہ بھی سمجھیں تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ لفظوں کا شعبدہ باز ہے، اس کا مقصد واہ واہ وصول کرنا نہیں ،ہائے ہائے وصول کرنا ہے، پابندیوں نے اسے آزاد کر دیا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *