مرو تو لوگ کہیں،کون مر گیا یارو۔۔۔۔روشن ضمیر

عرفان علی خان کا جنم ۷ جنوری ۱۹۶۷ میں ہوا۔۔
انکی والدہ سعیدہ بیگم خان اور مرحوم والد یاسین علی خان کا تعلق کجھوریہ گاؤں سے تھا جو ٹونک ضلعے کے قریب ہے۔ان کے والد محترم کا گاڑیوں کے ٹائروں کا چھوٹا موٹا کاروبار تھا۔

عرفان خان  اور ان کے قریبی دوست ستیش شرما کرکٹ میں مہارت رکھتے تھے . آگے چل کر عرفان خان ck نائیڈو ٹورنامنٹ میں انڈر ٹوینٹی تھری فرسٹ کلاس انڈین کرکٹ میں سلیکٹ بھی ہوئے مگر پیسے کی کمی اور مجبوریوں کے چلتے وہ اس ٹورنامنٹ کا حصہ نہ بن پائے .

عرفان خان صاحب نے جئے پور میں ایم ای کی پڑھائی مکمل کی اور نیشنل  سکول آف ڈرامہ  دہلی میں ایکٹنگ کی کلاسز لینا شروع کی۔۔

عرفان خان نے ۲۳ فروری سن ۱۹۹۵ع نیشنل  سکول آف ڈرامہ سے ہی گریجوایشن کرنے والی ساتھی رائٹر ستپا سکدر سے شادی کی جن سے انہیں دو بیٹے ہوئے۔

نیشنل  سکول آف ڈرامہ سے اداکاری کے تمام جوہر سیکھنے کے بعد عرفان خان صاحب نے مایا نگری ممبئی میں حضرت کی جہاں انہوں نے ٹیلی ویزن سیریس چانکیہ، بھارت ایک کھوج، چندر کانتا،شریکانت، انوگونج میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ٹیلی پلے لال گھاس پر نیلے گودے میں کامریڈ لیلن کا کردار ادا کیا۔۔
جو ایک رشین پلے (Mikhail Shatrow) سے ٹرانسلیٹ کیا تھا، اُدھے پرکاش جی نے ۔۔

اس دوران عرفان خان ڈرامہ سیریل ڈر میں آج کے دور کے زبردست ایکٹر کے کے مینن کے ساتھ اہم کردار نبھا رہے تھے۔
جس میں انہوں نے ایک نفسیاتی قاتل کا کردار بیحد بخوبی سے ادا کیا۔۔اس کے ساتھ ساتھ عرفان خان نے ایک انقلابی مارکسسٹ سیاسی سرگرم اڑدو شاعر مخدود محی الدین کا بھی کردار ادا کیا۔

کافی ڈراموں اور فلموں میں بہترین کارکردگی کرنے والے عرفان خان دن رات محنت کرنے کے باوجود ایک گمنام انسان تھے، ابھی تک بس کچھ لوگوں کو ہو ان کے نام اور کام کے بارے میں علم تھا ، کیونکہ عرفان خان ابھی تک اپنی کوئی خاص پہچان بنانے میں ناکام تھے ۔

بلآخر لندن کے ایک ڈائریکٹر نے تاریخ پر بنی ایک فلمThe Warrorمیں کام کرنے کا موقع فراہم کیا، سن ۲۰۰۱ع میں ہمانچل پردیس اور راجھستان میں اس فلم کی شوٹنگ ختم ہوئی، چونکہ یہ ایک انٹرنیشنل فلم تھی تو آہستہ  آہستہ لوگ عرفان خان کے نام اور کام سے روبرو ہونے لگے ۔

۲۰۰۳ اور ۲۰۰۴ع کے دوران عرفان خان نے اشون کمار کی شارٹ فلمROAD TO LADHAK میں اداکاری کے جوہر دکھائے،اور اسی سال شیکسپیئر کے ناول macbeth سے متاثر “مقبول” کے کردار کو ادا کیا۔

عرفان خان صاحب کے بالی وڈ کیریئر کا سب  سے پہلا لیڈنگ رول کا آغاز فلم روگ سے ہوا ۔۔
جس کے بعد فلم دیکھنے والے لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ عرفان خان کے چہرے سے زیادہ باتیں انکی بڑی آنکھیں کرتی ہیں، اور وہ بات آگے چل کر بالکل درست ثابت ہوئی کیونکہ یہ ان کی آنکھوں کا ہی کمال تھا کہ انہوں  نے جو کردار چنے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

کئی فلموں میں کام کرنے کے بعد انہیں فلم “حاصل” کے لیے” فلم فیئر بیسٹ ولن”کا ایوارڈ ملا، اس فلم کے بعد لوگوں کی نظریں عرفان خان پر تھی کہ آگے چل کر وہ کون سا کردار ادا کریں گے۔
۲۰۰۷ع میں انہیں باکس آفس پر کامیاب ہونے والی فلم میٹرو کے لیے فلم فیئر بیسٹ سپورٹنگ ایوارڈ اور سلم ڈاگ ملینئر فلم کے لیے گلڈ ایوارڈ سے نوازا گیا۔اور پان سنگھ تومار جیسی حقیقی کہانی پر مبنی فلم کے لیے انہوں نے نیشنل فلم فیئر ایوارڈ جیتا۔

نہ صرف بالی ووڈ مگر ۲۰۱۰ ع میں ہالی ووڈ HBO سیریز کے تیسرے سیزن IN TREATMENT, اور ۲۰۱۲ میںTHE AMAZING SPIDER MAN
میں ڈاکٹر رجت راٹھا کا کردار نبھایا اور مشہور فلم لائف آف پاء میں مولیتور پٹیل کی بڑی عمر کا کردار ایسا نبھایا کہ ہر ایک انسان کے دل میں خود ایک اعلیٰ مقام بنا  لیا ۔

۲۰۱۳  میں لنچ باکس جیسی عمدہ فلم کا حصہ رہے۔

عرفان خان نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ہمارے شہر کی سینما میں ہالی وڈ مووی جراسک پارک لگائی گئی تھی، مگر ٹکٹ کے پیسے نہ ہونے کے باعث وہ یہ مووی دیکھنے سے قاصر رہے مگر انہوں نے  اپنے کام کا لوہا منوا کر اتنی شہرت اور کامیابی حاصل کی ، کہ آگے چل کر ۲۰۱۵  میں اسی فلم کے نئے حصے میں ہیرو بنے۔

عرفان خان کی انیک فلموں میں سے بینڈٹ کوئین، سلم ڈاگ ملینئر، لنچ باکس، مداری، ہندی میڈیم پیکو ایسی فلمیں ہیں جنہیں دیکھنے کے بعد اس اعلیٰ ظرف اداکار کو سلام کرنے کو دل کرتا ہے۔عرفان خان ایک سیکولر انسان تھے انہوں نے ایک ٹوئیٹ کیا تھا جس کے مطابق وہ معصوم جانور کی قربانی کے حق میں نہیں تھے جو کہ عید الاضحیٰ کی مناسب سے تھا جس کے بعد وہ مذہبی لوگوں کے چلتے اور اس بیان کو لیکر کافی مشکلات  میں گھرے رہے مگر عرفان خان نہ فقط اپنے بیان پر ثابت قدم رہے مگر پورے  میڈیا اور مذہبی پیشواؤ ں کے سامنے خود کے بیان کو ڈیفینڈ بھی کیا۔۔

۲۰۱۸ میں انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر ہوا ،جس  کے چلتے انہوں نے کافی علاج کروایا اور تھوڑے بہت صحتیابی کے وقت میں انہوں نے اپنی نئی فلم انگریزی میڈیم بھی بنائی۔۔۔ مگر زندگی شاید اتنی مہربان نہ تھی، اس بیماری کے چلتے عظیم اداکار عرفان خان ۵۳ سالوں کی عمر میں ۲۹ اپرل ۲۰۲۰ کو وفات پا گئے۔آرٹسٹ کبھی مرتا نہیں ہے جب تک آرٹ زندہ ہے عرفان بھی زندہ رہیں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *