ساس سسر حسنِ سلوک کے کتنے حقدار؟

اولاد ایسا درخت ہے جسے والدین انتہائی محبت سے اپنی خواہشوں اور امنگوں کا پانی دے کر پروان چڑھاتے ہیں اور اسی درخت سے جب پھل حاصل کرنے کا وقت آ تا ہے تب یہ درخت اپنے مالی کو یکسر نظر انداز کرکے دوسروں کو چھاؤں بانٹنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔۔
گو کہ ہم سب ہی انڈین فلمیں دیکھنے پر تحفظات رکھتے ہیں لیکن صرف دوسروں کے سامنے۔۔مجھے اس وقت ایک فلم یاد آرہی ہے”باغبان”۔۔۔آپ میں سے بیشتر لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہو گی۔۔اس فلم کی کہانی ایسے باپ کے گرد گھومتی ہے جو بچوں کو خوشیاں دینے کی خاطر اپنی ہر خواہش قربان کرتا ہے،ان کی ہر جائز ناجائز فرمائشیں پوری کرنے کے لیئے قرض اٹھاتا ہے،بہو کو بیٹی سے بڑھ کر عزت دیتا ہے لیکن جب وقت آتا ہے کہ اسے آرام میسر آئے تب بہو بیٹے اس بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنے ساتھ کون رکھے گا ہماری پرائیویسی متاثر ہوتی ہے۔۔اور آخر میں ماں اور باپ کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا جاتا ہے،ماں ایک بیٹے کے پاس،باپ دوسرے بیٹے کے پاس۔۔جہاں وہ ایک دوست کے اصرار پر آپ بیتی لکھتا ہے۔۔۔اسی دوران ان دونوں کا سہارا بنتا ہے وہ لے پالک بچہ۔۔جسکی پڑھائی کا وہ بچپن سے خرچ اٹھاتے ہیں۔حالات کروٹ بدلتے ہیں،کتاب مشہور ہوتی ہے۔۔۔باپ لکھ پتی بن جاتا ہے۔۔۔اب وہی اولاد جو ان کے اچانک غائب ہوجانے پر شکر ادا کرتی ہے۔۔باپ کے پاس دوبارہ پیسہ دیکھ کر دوڑی چلی آتی ہے۔۔۔اس فلم میں باپ کا کردار امیتابھ بچن نے نبھایا ہے۔۔اور کیا خوب نبھایا ہے۔۔فلم کے اختتام پر ایک تقریب میں باپ کی تقریر وہ درد ہے جو دل میں پل پل کروٹ لیتا ہے،آنکھو ں میں جلن بھرتا ہے لیکن آنسو کی صورت ٹپکنے نہیں پاتا۔۔یا پھرخاموش آنسو بنا لمحہ بہ لمحہ روح تک کو موم کر جاتا ہے۔۔آپ کو موقع ملے تو ایک بار فلم کے وہ آخری مناظر ضرور دیکھیے گا۔۔خود کو بیٹی، بیٹا، بہو، داماد اور پھر بوڑھے ماں باپ کی جگہ رکھ کر!
اس ساری تمہید کا مقصد وہ خبر ہے جو کل ٹی وی پر سنی۔۔۔یقین جانیے دل بہت افسردہ ہوا۔۔اگرچہ یہ خبر ہمارے ہمسائے ملک انڈیا سے متعلق ہے لیکن بستے تو وہاں بھی انسان ہی ہیں،جن کے سینوں میں قدرتِ خدا وندی سے دل بھی ڈھڑکتے ہیں۔۔بالکل آپ اور میرے جیسے۔۔۔۔نیوز کاسٹر کے مطابق خبر کچھ یوں تھی کہ۔۔۔۔۔ جن گھروں میں ساس بہو کا جھگڑا ہوتا ہے وہاں ساسوں کو تعلیم کی ضرورت ہے،جس مقصد کے لیئے انہیں سکول بھیجا جائے گا اور بہو پیچھے گھر سنبھالے گی!
میری اماں نے دنیاو ی تعلیم حاصل نہیں کی،یہ میرے نانا کا بھی قصور ہے اور اس وقت کا بھی۔۔کہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں کیا جاتا تھا،لڑکیوں کو بس گھر داری سکھا کر سمجھا جاتا تھا کہ فرض پورا ہوگیا۔۔خیر اماں کوبات بھولنے کی عادت ہے۔۔جس کی وجہ سے وہ ایک ہی بات کئی بار پوچھتی اور بتاتی ہیں۔۔۔سالوں پہلے اُس روز بھی ایسا ہی ہوا،میں نے چِڑ کر کہا اماں آپ کو نہیں سمجھ آیا تو چھوڑیں یہ بات،میں سبق یاد کر رہی ہوں۔۔۔مجھے محسوس ہوا اماں کچھ لمحے میری طرف دیکھتی رہیں پھر خاموشی سے میرے پاس سے اٹھ گئیں۔۔۔۔سارا دن ایسے گزرا،مجھے احساس ہوا تو اماں سے معافی مانگی۔۔۔ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے تھے،مجھے دیکھ کر پاس کیا اور بولیں۔۔تم سارا دن چڑیاکی طرح چہکتی ہو،کیا میں نے کبھی تمھیں خاموش رہے کا کہا؟کبھی ایسا ہوا تمھیں تمھارے کسی سوال کا جواب نہ ملا ہو؟
کبھی تمھارے باو ا نے تمھیں اس بات پر ڈانٹا کہ اتنے سوال کیوں کرتی ہو؟۔۔۔کبھی بھی نہیں،ہمیشہ اپنا کام چھوڑ کر تمھیں توجہ دی، یہ احسان نہیں ہماری چاہت ہے، چھوٹے ہوتے بھی تم سارا دن سوتی اور آدھی رات تک جاگتی۔۔سوالات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا اور میں،پھر تم تھک کر سو جاتی اور تب تک میری صبح ہو جاتی، کیا کبھی ایسا ہوا کہ تم جاگتی رہی اور ہم سو گئے اور تمھارے سوالوں کے جواب تمھیں مل ہی نہ پائے۔۔؟ایسا کبھی نہیں ہوا بیٹا ۔۔۔یہ کہہ کر اماں پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئیں، لیکن مجھے ساری زندگی کے لیئے یہ ضرور سمجھا دیا کہ انسان جیسے جیسے بڑھاپے کی طرف بڑھتا ہے اصل میں بچپن کے عہد میں قدم رکھ رہا ہوتا ہے۔۔
اب تک کی یہ ساری داستان ماں پاب کے متعلق تھی لیکن انہی الفاظ کو اگر آپ ساس سُسر کے حقوق کے حوالے سے پڑھیں تو بہت سے لوگ خاص طور پر خواتین پہلا ہی اعتراض یہ اٹھا دیں گی کہ اپنے ماں باپ اپنے ہی ہوتے ہیں۔۔ساس سسر ان کی جگہ نہیں لے سکتے۔۔کم از کم میرے نزدیک یہ بات سراسر غلط ہے۔۔دنیا میں انسان کے تین ماں باپ بتائے گئے ہیں،سگے والدین،استاد اور ساس سسر۔۔
جامعہ بنوریہ کراچی کے علماء سے ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا شریعت میں ساس اور سسر کے بہو اور داماد پر کوئی حقوق ہیں؟ساس اپنی بہو کے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے؟مشترکہ خاندانی نظام میں گھر کے بزرگ ہونے کی حیثیت سے کوئی حکم دے سکتی ہے؟شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟
جواب: جس گھر میں ساس بہو کو بیٹی کا درجہ نہ دے،اور بہو ساس سسر کو حقیقی والدین کا درجہ نہ دے وہاں ایسے مسائل جنم لیتے ہیں،بہو پر اپنے ساس سسر کی خدمت ان کے کام فرض نہیں ہیں لیکن اگر وہ یہ سب کرنا چاہے تو دنیا و آخرت میں باعثِ خیر و برکت ہے۔۔
اکثر بہو ؤں کا خیال ہوتا ہے کہ ساس سسر بہت ضدی ہیں،انا پرست ہیں،بس اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔۔۔ہمیں اپنی خواہشوں کا گلا گھوٹنا پڑتا ہے، ان کی ضرورت کے لیئے اپنی ضرورت پسِ پشت ڈالنی پڑتی ہے۔۔
ارشادِ نبویﷺ ہے” تُو اور تیرامال سب تیرے باپ کا ہے “۔۔۔یعنی بیٹا جو کماتا ہے اس پر فرض ہے کہ پہلے اپنی والدین کی ضروریات پوری کرے،ہاں لیکن بیوی اور ماں میں تفریق نہ کرے۔۔میں اس بات سے ہر گز انکاری نہیں کہ کچھ ساسیں بھی بہو ؤں کو تختہء مشق بنا لیتی ہیں۔۔لیکن میرے مشاہدے کے مطابق جو خواتین خود بہو کے روپ میں ایسی مشکلات کا شکار رہی ہوں وہ ساس بننے پر اپنی ناکام حسرتوں کا بدلہ اپنی بہوسے لینا شروع کر دیتی ہیں،حالانکہ یہ سب بے اختیاری اعمال ہوتے ہیں، لیکن بہرحال یہ سب غلط ہے۔دوسری طرف یہ بھی ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ وہ اس عمر میں خود کو تبدیل نہیں کر سکتے نہ عادات نہ طبعیت۔۔آپ کو بدلنا ہوگا اپنا آپ کیوں کہ آپ کے پاس وقت ہے،ان کا وقت ختم ہونے کے قریب ہے۔۔
کبھی اپنے والدین کے پاس بیٹھ کر غور سے انہیں دیکھیے، اور اگر آپ شادی شدہ ہیں تو پھر اس کے بعد بہو اور داماد اپنے ساس سسر کو بھی دیکھیں۔۔آپ پر ضرور انکشاف ہوگا کہ یہ آپ کے والدین جیسے ہی معصوم افراد ہیں،جو ناآسودہ خواہشات کا بوجھ اٹھائے یہاں تک آن پہنچے،یہ بوڑھے لوگ ضدی اور ہٹ دھرم نہیں بلکہ بچپن کی دہلیز پہ ٹھہرے وہ بچے ہیں جو ہر صورت اپنی بات منوانا چاہتے ہیں کبھی لاڈ سے تو کبھی ناراضگی سے۔۔یہ ان کی عمر کا تقاضا ہے،آپ اور میں بھی اس نکمی عمر میں پہنچ کر ایسے ہو جائیں گے،یہ قانونِ قدرت ہے لیکن ابھی ضرورت ہے اپنے رویوں میں برداشت او ررواداری کی، والدین چاہے وہ آپ کے سگے ماں باپ ہوں یا ساس سسر۔۔وہ آپ کے حسنِ سلوک کے مستحق ہیں، ڈریے اس وقت سے جب آپ کے ملک میں بھی ایسا ہی کوئی قانون پاس ہوجائے،آخر آپ کے ساس سسر کسی کے ماں باپ بھی تو ہیں۔
ارشادِ نبویﷺ ہے کہ”اولاد کے حسنِ سلوک کے سب سے زیادہ حقدار اس کے والدین ہیں ” والدین کے بڑھاپے کازمانہ جبکہ وہ اولاد کی خدمت کے محتاج ہوجائیں ان کی زندگی اولاد کے رحم و کرم پر آن پڑے ایسے میں اولاد کی جانب سے پہنچنے والی ٹھیس بوڑھے والدین کے دل کو ریزہ ریزہ کر جاتی ہے۔۔بحیثیت انسان اور بیٹی میرے نزدیک انڈین حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی سنگدلانہ ہے بجائے اس کے کہ اولاد کی ذہنی تربیت کی جاتی الٹا بوڑھے افراد کو ایک اور مشقت میں ڈال دیا گیا ہے۔۔مقامِ افسوس!
اگر آپ چاہتے ہیں کہ کل آپکی اولاد آپ کی عزت کرے تو ساس سسر کی خدمت اور عزت کرکے ایک ایسا بیج بونا ہوگا جسے آپ کی اولاد اپنے نرم رویوں کا پانی دے کر آپ کے لیئے ایک تناور درخت بنائے گی جس کی چھاؤں آپ کے بڑھاپے کو پرسکون کردے گی!!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *