• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انسانی بقاء اور حفاظتی ترجیحات پر کورونا کا سوالیہ نشان۔۔۔۔غلام سرور

انسانی بقاء اور حفاظتی ترجیحات پر کورونا کا سوالیہ نشان۔۔۔۔غلام سرور

دنیا میں موجود سارا فلسفہ انسانی بقاء اور اس کے بچاؤ کی تدابیر کےساتھ طور طریقے بھی بتاتا ہے ۔ گورباچوف روس کا واحد صدر ہے جس کو امن کا نوبل پرائز دیا گیا کیونکہ اس کی پالیسی پُرامن ڈپلومیسی تھی اور اس پالیسی کے  ذریعےہی کولڈ وار کا بھی  پُرامن اختتام ہوا۔ ۱۹۶۸ میں اس وقت کے طاقت و ر ممالک کے درمیان ایک این پی ٹی ٹریٹی طے پائی جس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی پر بندش اور فروخت روکنے کے ساتھ ساتھ ممالک کے آپسی مسائل کو پُرامن طریقوں کے  ذریعے حل کرنا تھا۔ اور انسانی بقا کو امن کے  ذریعے لازم بنانا تھا۔

انسانی بقا کی جنگ تب سے جاری  ہے جب سے چند افراد نے قبیلوں کی، خاندان کی اور شہروں کی بنیار رکھنا شروع کی تھی۔ ۲۰۰۰ء تک افراد کا ماننا تھا کہ انسانی حفاظت اور سکیورٹی کے لئے جنگی سازوسامان اور فوج  کو  بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ سکیوریٹی ایک پیچیدہ اور لامحدود مضمون ہے، اس سے مُراد اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچنا اور ریاست کا  عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔

جدیدیت پسندی اور ٹیکنالوجی میں بے مشال ترقی نے انسانی بقا کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے لوگوں کی توجہ ایٹمی ہتھیاروں سے ہٹا کر دوسرے حفاظتی عوامل کی طرف مرکوز کروائی ہے۔ جس میں سب سے بڑا مسئلہ انرجی اور ٹیکنالوجی کی جنگ جیتنا تھا۔

بیری بُزان نے ۱۹۸۳ میں ریجنل سکیوریٹی کمپلیکس تھیوری میں پہلے سے موجود سکیوریٹی کی تعریف جس میں انسانی بقا کو جنگ و معرکہ کے  ذریعے حصول  ،کو مسترد کرتے ہوئے بیان کیا کہ سکیوریٹی ایک لامحدود اور گہرا مطالعہ ہے، جو کہ افواج سے سیاست ، معیشت، سماجی، معاشرتی اور ماحولیاتی عناصر پر منتقل ہو چکا ہے۔ جنگ اور فوج انسانی بقا کے لیے صرف ایک عنصر کی اہمیت رکھتے ہیں ۔ بیری بزان کی سکیورٹی تھیوری نے انسانی بقا کے نئے خطرات کی طرف آگاہی دی۔ جس میں ایک مسئلہ ماحولیاتی تبدیلی کا بھی ہے۔ جس کو موجودہ کورونا وائرس کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ کورونا وائرس انسانی بقا و بچاؤ کی تدابیر پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ چکا ہے ۔ انسانی بقا کی سوچ کے ایٹمی ہتھیاروں اور فوج کے  ذریعے مسائل پر قابو پانا ناکام ہو چکا ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں موجودہ انسانی خاتمے  کے  لیے بنائے ایٹم بم ناکام ہو چکے ہیں ۔ اس موزی وائرس کے بعدانسان کو اپنے بچاؤ کے لیے  اپنائی  گئی تدابیر اور اقدامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ معاش کی جنگ، سُپر پاور کی جنگ،آئیڈیالوجی کی جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں کی جنگ سے نکل کر نئے سرے سے عوام اور ساری دنیا کے انسانوں کے بچاؤ اور بقا کے لئے نئی پالیسی اور تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔

ممالک کوچاہیے کہ عسکری پالیسی کو ایک  طرف رکھ کر جنگی سازوسامان میں سے دس سے پندرہ فیصد کٹوتی کر کے بجٹ کا وہ حصہ آنے والے وقت میں موزی امراض سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی اور سائنس پرلگایا جائے۔ اپنے بجٹ کو تعلیمی سرگرمیوں اور نئی ایجادات پر صَرف کیا جائے اور انسانی فلاح، بقا  اور بچاؤکے لئے کھل کر اقدامات کرنے چاہئیں ۔ کیونکہ ممالک  کے آپسی تعلقات پُر امن طریقے سے طے  ہو سکتے ہیں، جس طرح گورباچوف نے بہت پہلے کر کے ثابت کر دکھایا۔اور بیری بزان نے اس کو مزید واضح الفاظ میں بتایا کہ جنگوں کے  ذریعے انسانی بقا کو خطرہ ہے، اگر عوام اس طرف لگی رہی تو وہ موجودہ جدیدیت پسندی اور معاش کی جنگ ہار جائے گی، اس لیے جنگوں سے نکل کر امن کی راہ اپنا کر انسانی بقا کو لازم  بنایا  جا سکتا۔ وگر نہ آدمی کو آدمی سے خطرہ ہی رہے گا۔

Ghulam Sarwar
Ghulam Sarwar
پنجاب یونورسٹی میں ڈاکٹریت کر رہا بین الاقوامی تعلقات میں اور پیثہ کے لحاظ سے ایس ایس ٹی ہوں سرکاری سکول میں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *