دعا،نیکی اور زندگی۔۔شاہد محمود

سمندر میں تیرتی کشتی کے ساتھ سمندر میں کسی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ پرسکون پانیوں میں کسی وقت بھی تلاطم برپا ہو سکتا ہے اور سمندری طوفان میں چلنے والی ہوائیں کشتی کے مسافروں کے اوسان خطا کر دیتی ہیں۔ ایسے میں انسان کا سہارا صرف اور صرف اللہ کریم کی بابرکت ذات ہوتی ہے جسے وہ یکسو ہو کر پکارتا ہے۔ اس پکارنے کو “دعا” کہتے ہیں۔ جتنی تڑپ اور لگن سے دعا مانگی جاتی ہے اتنی ہی جلد وہ شرف قبولیت پاتی ہے۔ انسان کی زندگی بھی ایک سمندر کی طرح ہے جس میں زندگی کا سفر طے کرتے ہوئے کئی مرتبہ مدوجزر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے۔ کبھی خوشی، کبھی غم زندگی کا لازم و ملزوم حصہ ہیں۔ ایسے میں “دعا” ہمارا کائنات کے خالق سے ایک ایسا موثر و فوری رابطے کا ذریعہ ہے جو ہماری پریشانیوں و مشکلات کو دور کرنے کے لئے معجزہ نما تاثیر رکھتا ہے۔ “دعا” میں تاثیر خلوص اور “نیکی” سے پیدا ہوتی ہے۔ جب ہم سکون سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں تو ہمیں مسلسل نیکی کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔ کسی کو راستہ سمجھا دیا، راستے میں پڑے پتھر ہٹا دئیے، کسی کو پانی پلا دیا، کسی کو کھانا کھلا دیا، کسی کو پڑھا دیا، کسی کی فیس کا بندوبست کر دیا، کسی کے علاج میں معاونت کر دی، کسی کو خون عطیہ کر دیا، کسی بیمار کی مزاج پرسی کر لی، کسی غریب کی بچی کی شادی میں معاونت کر دی، پرندوں اور جانوروں کے لئے پانی، دانے دنکے، کھانے کا انتظام کر دیا۔ کسی غریب بستی میں پینے کے صاف پانی کا مستقل انتظام کر دیا، فری ڈسپنسری کھول کر علاج معالجے کی سہولت مہیا کر دی، کسی غریب کے کچے گرتے مکان کی جگہ اسے پکا مکان بنا دیا، ایدھی، حکیم سعید، پروفیسر حمید اللہ، ڈاکٹر رُتھ فاؤ کی طرح اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے وقف کر دیں، کسی کی کیرئیر کونسلنگ کر دی، قرضے کی واپسی میں مہلت دے دی، کسی کو کاروبار شروع کرا دیا، کسی کے مشکل وقت میں اس کی مشکل دور کرنے کی تگ و دو میں شامل ہو گئے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ ایسی “نیکیاں” ہماری “دعاوں” کو زیادہ موثر بناتی ہیں کیونکہ جن کے ساتھ ہم نے کوئی نیکی یا بھلائی کی ہوتی ہے ان کی دعائیں بھی ہمارے شامل حال ہو جاتیں ہیں۔ یاد رکھیں ازل سے بہتے زندگی کے سمندر میں ہمارا سفر بہت مختصر ہے اور اللہ کریم کی رحمت بہت وسیع ہے اور اللہ کریم ہم سے ستر ماوں سے زیادہ پیار بھی کرتا ہے تو جیسے ماں اچھی اور نیک اولاد سے خوش ہوتی ہے تو اللہ کریم بھی اپنے بندوں کے اچھے و نیک کاموں سے خوش ہوتا ہے اور جب بندہ اللہ کریم کی مخلوق کے کاموں میں لگ جاتا ہے تو اس کی دعاوں میں بھی اثر آ جاتا ہے اور اس کے اپنے کام بھی بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ تو زندگی کے سفر میں دعاوں کو موثر بنانے کا طریقہ اللہ کریم کی مخلوق کی بے لوث خدمت ہے۔
سلامتیاں، ڈھیروں پیار اور محبت بھری پرخلوص دعائیں۔
دعا گو، طالب دعا شاہد محمود

شاہد محمود
شاہد محمود
میرج اینڈ لیگل کنسلٹنٹ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *