گڑھی خدا بخش سے “بے صدا “اعلان

گڑھی خدا بخش سے “بے صدا “اعلان
طاہر یاسین طاہر
امید بڑی ظالم شے ہے،سامراجی رویوں کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اپنے شکار کو “امید” بڑی دلاتے ہیں۔ فتح کی امید، زندہ رہنے کی امید،معاش بہتر ہونے کی امید،حالات بدل جانے کی امید۔امید البتہ بری شے نہیں۔مایوسی کے مقابل اس کا وجود نعمت ہے۔ہمارا موضوع البتہ ان کا تقابل قطعی نہیں۔جو مایوس ہیں وہ بھی ویسے ہی ہیں جیسے پر امید۔ایک سے دکھ کا شکار،فرق اتنا ہے کہ امید والا کل کی امید پہ اپنے آج کو مایوسی کی کھائی میں نہیں گراتا، جبکہ مایوس آدمی اپنے ہر لمحے کو اپنے ہاتھوں قتل کر کے بے کار ہو جاتا ہے۔
اخبار نویس کی کئی مشکلات ہیں،گاہے بیچارے کو موضوع کی تلاش میں دفتر دیکھنے پڑتے ہیں، تو گاہے موضوعات ساون کی گھٹاوں کی طرح ذہن کے افق پہ طلوع ہوتے ہیں۔موضوع نہ ہو تو مشکل،موضوعات کی رم جھم ہو تو بھی مشکل۔کس پہ لکھا جائے کسے چھوڑا جائے۔ریاضت کیش لکھاری مگر ذہنی بانجھ کا شکار نہیں ہوتا۔مطالعہ،غور و فکر اور مشاہدہ لکھنے والے کو ہنر مند کر دیتے ہیں۔کئی ایک موضوعات سامنے ہیں۔
ابھی ابھی مکالمہ کے لیے” تھر “کے بچوں کا نوحہ اداریہ کی شکل لکھ کے فراغت پائی تو کئی مضامین کو ایڈٹ کرنے کی چکی میں فکر کو پیستا رہا۔لکھنا مجھے” بوکو حرام ک”ے فکری رویے پہ تھا۔ فتویٰ ساز فیکٹریوں کے اس کھیل کو آشکارکرنا ہے جو جدید تعلیم کے بجائے دہشت گردی کو روا جانتی ہیں۔مگر ہم پاکستانی ایک اور قسم کے جس معاشرتی و سیاسی المیے کا بھی شکار ہیں اسے کیوں چھوڑ دیا جائے؟ سی پیک،پامانہ لیکس ،نیوز لیکس،پی ٹی آئی کی پارلیمان کے بارے حقیقت پسندانہ” تیر” آزمائی،پیپلز پارٹی کے چار مطالبات ۔ورنہ لانگ مارچ اور آخر کار سیاسی مارچ۔بہت سے علاقائی و بین الاقومی ایشوز جو پاکستان پہ اثر انداز ہونے والے ہیں، لیکن ساری باتیں ایک طرف۔روٹی ،کپڑا اور مکان والوں نے عوامی جذبات کے ساتھ جو کھیل رچا رکھا ہے اسے بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔نون لیگ بھی کسی سے کم نہیں،وہ تو ان منصوبوں پہ بھی اپنی تختیاں لگا رہے ہیں جو پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہوئے تھے۔ مثلاً چشمہ پلانٹ۔
کوئی بھی ہوش مند انسان یہ نہیں چاہتا کہ ملک میں سیاسی ہیجان ہو،کوئی صاحبِ فکر یہ خواہش نہیں پالتا کہ الزام تراشیوں کی سیاست رواج پائے۔اس کا سراسر فائدہ حکمران طبقہ کو ہوتا ہے۔ عام آدمی کے مسائل اور حقیقی ایشوز پسِ دیوار لگا دیے جاتے ہیں۔وعدوں کی سیج امید افزا تو ہوتی ہے مگر وصل نصیب نہیں ہوتا۔ہماری سیاسی و معاشرتی تاریخ یہی ہے۔وہ جن کے نزدیک سیاست ایک کھیل سے بڑھ کے کچھ نہیں۔سابق صدر آصف علی زردای کوئی ڈیڑھ سال بیرون ملک قیام کے بعد بہت ہی” ماہر ڈاکٹروں “کی رائے لے کر پاکستان پہنچے تو ان کا ہدف اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کو درست سمت دینا تھا، اپنی تقریر میں انھوں نے کشمیرکا بطور خاص ذکر کیا اور میاں صاحب اور مودی کے تعلقات پر گرفت کی۔کہا کہ ملکی سرحدیں سیکیورٹی اداروں نے محفوظ بنا دی ہیں۔کوئی جارحیت نہ دکھائی۔دوسری طرف بلاول بھٹو نے بھی سیاسی گرم بازاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پانامہ لیکس ایشو کو تھاما اور اپنے چار مطالبات نون لیگ کی حکومت کے سامنے رکھ دیے۔ کوئٹہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد تو بلاول بھٹو نے وزیر داخلہ کو نشانے پہ رکھ لیا۔ہدف سیاسی گرم بازاری کو سلگائے رکھنا تھا ۔بلاول بھٹو بر ملا کہہ چکے ہیں کہ اگر 27دسمبر تک ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ان کی پارٹی لانگ مارچ کرے گی۔ اب مگر صرف “سیاسی مارچ”سیاست میں مگر اپنا اور اپنے خاندان کا مفاد دیکھنے والوں کو اس سے کیا غرض کہ مہنگائی کتنی ہے؟روز بھوک سے کتنے بچے تھر سمیت پورے ملک میں مر رہے ہیں؟میٹرو کی ضرورت زیادہ تھی یا تعلیمی نظام اور طبی سہولیات کی؟سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ کی برسی پہ آپ کو خوشخبری سنائی جائے گی، سر پرائز دیں گے۔شاید ان کے مخاطب نون لیگ والے تھے۔
کیا خوشخبری سنائی؟ کیاسرپرائز دیا؟ میں اور میرا بیٹا الیکشن لڑیں گے۔اس میں عوامی مفاد کہاں پایا جاتا ہے؟ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک تو سابق صدر اس لیے اسمبلی اآرہے ہیں کہ وہ اپنے اوپر قائم نیب کے مقدمات میں گرفتاری سے بچ سکیں۔ بلاول کو اس لیے لایا جا رہا ہے کہ وہ نئے انتخابات سے پہلے اسمبلی میں تقریر کرنے کی پریکٹس کر لیں،ممکن ہے یہ پیپلز پارٹی کی اگلے انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیوں کی شروعات ہوں۔کئی ایک پہلووں سے اس فیصلے کو دیکھا جا سکتا ہے۔کیا پورے ملک کی توجہ صرف اس لیے حاصل کی گئی کہ باپ بیٹا الیکشن لڑ کر اسمبلی آ رہے ہیں؟گڑھی خدا بخش میں اگر یہ اعلان کیا جاتا کہ ہم نے فلاں فلاں منصوبہ جب شروع کیا تھا تو اس کی تکمیل کی تاریخ یہ تھی، اب و ہ منصوبے مکمل ہو رہے ہیں اور وفاقی حکومت ان پہ اپنی تختیاں لگا کر سیاسی دھوکہ بازی کر رہی ہے۔ اگر وہاں سے اعلان ہوتا کہ پیپلز پارٹی اپنے پرانے ورکرز اور ووٹرز کو فعال بنانے کے لیے یونین کونسلز کی سطح تک مشاورتی کمیٹیاں بنا کر اگلے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے لائحہ عمل طے کرے گی، کاش وہاں سے اعلان ہوتا کہ پارٹی اپنی صٖفوں میں موجود مافیاز کو آئندہ ٹکٹ نہیں دے گی۔کاش کوئی عوام دوست اعلان ہوتا۔کیا وقت نہیں آ گیا کہ پیپلز پارٹی قبروں کا واسطہ دے کر اور روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر ووٹ مانگنے کی روایت کے بر عکس کارکردگی کو معیار بنائے ؟ کیا وقت نہیں آ گیا کہ پیپلز پارٹی اپنی منشور اور نعرے پر نظر ثانی کرے اور اسے جدید عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے؟ایک شخص جو ملک کا صدر رہا ہو ،وہ ایم این اے بننے کے لیے اتنی تڑپ کیوں رکھتا ہے؟آخری تجزیے میں پیپلز پارٹی کی ساری قیادت مل کر بھی گڑھی خدا بخش سے کوئی اعلان نہ کر سکی،سوائے پرانی باتوں کے،جن میں سے نئی بات یہی تھی کہ سابق صدر زرداری بھی ایم این اے بننے کو بے تاب ہیں۔خاندانی جمہوری سیاست کا یہی دردناک المیہ ہے،اس جمہوریت کی نظر ہمیشہ اپنے خاندان اور اپنے رفقا کے مفادات پہ ہوتی ہے۔نظریاتی سیاست کے بجائے ہمارے ہاں ووٹ بینک کی سیاست رواج پکڑ گئی ہے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *