مکالمہ پہلی نظر میں

مکالمہ پہلی نظر میں
مجید راجپوت

پہلی نظر میں پیار ہوتا سنا ہے لیکن میں اس کی بجائے خوب اچھی طرح تاڑ کر پیار کا قائل ہوں ، ایک روزمکالمہ کی فیس بک پر مٹرگشت کرتے ہوئے مکالمہ کی پوسٹ سامنے آگئی ، پڑھی تو مزید چھان پھٹک کی اور یوں دلچسپی بڑھنے لگی،پھر انعام رانا کی ایک تحریر پڑھنے میں آئی تو پہلی نظر سے پیار کے چنگل میں نا پھنسنے والا رانا کی پہلی سطر سے اس کی دام الفت میں گرفتار ہوگیا، لیکن یقین جانیں کہ اس میں نا تو رانا کی وجاہت، نا چمکدار آنکھوں یا اشتہا انگیز گالوں (خٹک یہ جملہ نہ پڑھے تو بہتر ہے) کا اور نا ہی اسکی چمکدار چندیا کا کمال ہے کہ بچپن سے سنا ہے کہ گنج پن دولت شہرت کی نشانی ہے، بس ہمیں اس کی باتوں نے یوں مارا کہ لاتوں سے بھی زیادہ مضروب کیا۔
بہر حال پھر ان بکس بات ہوئی اور خفیہ محبت پروان چڑھتی رہی ،پھر لاہور مکالمہ ہوا ، جاتو نا سکے لیکن دیکھا پڑھا اور کراچی میں کچھ کرنے کا اسرار بھی کیا، اچانک کراچی مکالمہ کا اعلان ہوا تو ہم نے حیدرآباد سے اپنی شرکت کرنے کا اعلان و ارادہ کیا، 24 دسمبر کو نہایت قریبی دوست کے ہاں شادی میں شرکت کرنا تھی ،ان سے منتیں کرکے 25 کی معذرت کی اور یوں قریبا ً3 گھنٹوں کو نکال کر 12 گھنٹے سفر کرکے کراچی پہنچے کہ اس دوران مکالمہ کے وینئو کا مسئلہ بلکہ مسئلے پیدا ہوئے اور پھر مناسب جگہ مل گئی ، ہم نے رانا کو میسیج اور فیس بک پر کہہ دیا تھا کہ ہم آپ کے نیک جذبے کے لئے سڑک تھلے پر بیٹھ کر بھی ساتھ نبھائیں گے کہ یہ ہماری تربیت اور عادت بن چکی ہے، جو کرنا ہے تو کرنا ہے۔
بہر حال کانفرنس کا حال تو بہت سے صاحبان قلم اور علم کر چکے ہیں ،میں چیدہ چیدہ باتیں اور چنیدہ احباب کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرونگا اور امید کرتا ہوں کہ پہلی نظر کی بناء پر میرے تاثرات کا برا نا منایا جائے کیونکہ پہلی نظر میں کچھ غلط یا غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے۔
کانفرنس میں اچھی باتیں ہوئیں ہمیں سننے سنانے کے انداز سے آگہی ہوئی، کئی دوستوں سے ملاقات کی خواہش تھی جو پوری ہوئی، فیس بک کے کچھ دوست جب ملے تو ان کو تصور سے ہٹ کر بھی پایا ، مکالمہ اچھی کاوش ہے اور ہم ہر ایسے کام کرنے والے کی قدر کرتے ہیں اور ان کی تقلید اور معاونت اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں، غیور بھائی المعروف علی بابا نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ مکالمہ کے زیادہ لوگوں سے واقف نہیں ،البتہ جن جن سے واقف ہیں ان سے تعارف کروائیں گے لیکن وقت کی کمی اور علی بھائی کی مصروفیت کی وجہ سے سب سے تعارف نا ہوسکا، ویسے بھی ہم پہلی بات اور ملاقات کے معاملے میں کاہل بلکہ نا اہل ہیں ، سو سب احباب سے گذارش ہے کہ آئندہ موقع ملے تو پہل آپ کیجئے پھر باقی کام ہم پر ۔
کچھ دوستوں کے بارے میں مختصر ایک ایک جملہ اپنی رائے سے لکھ رہا ہوں پیشگی معذرت کہ پہلی نظر کی وجہ سے کچھ نامانوس بات لگے تو معافی دیجئے گا۔
صدر محفل سید انور محمود، کی شفقت نا بھلا نے والی تھی۔ ہم ان سے زیادہ مستفید نا ہوسکے، انشاءاللہ کسی اور ملاقات میں ضرور استفادہ کریں گے۔
مبشر علی زیدی ۔۔ انہیں جیسا سوچا تھا ان سے زیادہ ہی بہتر پایا، ان کے خیالات بھی سچ اور حق کو لئے ہوئے تھے۔
علی بابا۔۔ تصور سے زیادہ دل نشیں حسیں مسکراہٹ اوڑہے اور دھیمے لہجے والے، یقین جانیں پیار اور بڑھ گیا۔
تقی بھائی۔۔ سچے مخلص اور نام و نمود سے کوسوں دور، بہت محبت ان کے لئے۔
ذیشان۔۔ بہت توانائی بھرا میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح۔
عامر بھائی ۔۔ بہت مخلص اور سلجھی شخصیت والے۔۔
انعام رانا۔۔ میرے خیالات کی تعبیر کی مانند، ویسے یہ جانا کہ بھائی بھی میری طرح لنڈورے ہوگئے ہیں (میری زوجہ کا پچھلے اکتوبر میں انتقال ہوگیا تھا) تو دکھ بھی ہوا اور ایک امید کہ شاید لندن جاکر ہم ایک ہوسکیں پاکستان میں تو ابھی ممکن نہیں ۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *