الحاد اور اس سے خوف۔۔۔۔ثاقب الرحمان

الحاد مذہب کا متضاد ہے ۔۔ مذہب خدا کا اقرار اور اسے مالک کل اور مختار کل ماننا ہے!

اس کے برعکس الحاد خدا کے وجود سے انکاری ہونا ہے۔۔ یہاں یہ بات زہن میں رکھیں کہ الحاد دراصل ہماری تہذیب کا مسئلہ ہےہی نہیں بلکہ یہ مغربی تہذیب سے درآمد شدہ ہے۔

اس کی وجہ دیکھیں:

الحاد کی ایک خصوصیت ہے کہ یہ اپنے اصل سے ٹکراؤ رکھتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ملحد جو اپنا عیسائی پس منظر رکھتا ہو اسکا الحاد عیسائیت پر چوٹ لگاتا ہے۔ عمومی طور پر اسکا ہدف عیسائی خدا، مسیح، پادری اور کلیسا ہوتے ہیں !

 کلیسا سے ٹکراؤ کیوں:

عیسائیت سے الحاد ابھرنے کی وجہ پوپ ہےاور پوپ کا اپنے مفادات کے لئے کلیسا کا استعمال ہے۔ مذہب کے نام پہ پوپ پادری نے ہمیشہ عوام کو لوٹا اور ان کی عزت اور جان و مال کا استحصال خود پر حلال ہی نہیں بلکہ فرض عین سمجھا ۔

دوسری بڑی وجہ سائنس سے ٹکراؤ ہے،جب گلیلیو نے کہا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے تو پوپ نے اسے مرتد قرار دے دیا اور نظر بند کر دیا پوپ کے ریمارکس پر نظر کیحئے :

” گلیلو عیسائیت کے عقائد پر انگلی اٹھاتا ہے اور اسلاف صالح کے مذہب میں نئی چیز ایجاد کرتا ہے۔”

سائنس چونکہ اپنے دامن کو ثبوت سے مزین رکھتی ہے چنانچہ عوام کو ثبوت دکھائے گئے اور نتیجتاََ عوام پوپ کے ساتھ ساتھ کلیسا سے بھی متنفر ہو گئی ۔ یہی نفرت عیسائیت میں الحاد کا نقطہ آغاز تھا ۔

اس کے برعکس اسلام کا معاملہ ہی اور ہے!!

اسلامی دنیا سے جو الحاد نکلتاہے اس کی پہلی وجہ مولوی کی غلط کامیاں اور شدت پسندی ہیں ۔ وہی کچھ جو عیسائیت میں پادری نے کیا، وہی یہاں مولوی کا روپ دھارنے والے چند بند ذہن کرتے رہے (یاد رکھیں، پانچوں انگلیاں برابر نہیں ) ۔یہاں فرقہ پرستی کا عفریت مسلمان کو ملحد بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا۔ شدت اور انتہا پسندانہ روئیے الحاد کی بھٹی کو وافر مقدار میں ایندھن پہنچاتے ہیں

ہمارے ہاں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ سائنس ملحد پیدا کرے ۔کیوں کہ ہمارے دین اسلام نے ہمیں تحقیقات سے نہیں روکا ۔ نہ مادے اور کائنات پر غور و فکر سے روکا ہے ۔قران خود تفکر پر ابھارتا ہے اور علم حاصل کرنے کو سراہتا ہے.

البتہ ہمارے ہاں ملحد بننے کی دوسری بڑی وجہ مغربی چکاچوند سے پیدا ہونے والی مغرب پرستی اور تعیش پسندی ہے!

تعیش پسندی اور نفس پرستی بھی الحاد کو جنم دیتی ہے

 ان ملحدین کو مذہب یہی لگا کہ گویا انکو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات اس دائرہ میں پوری کر ہی نہیں سکتے

ایسے میں انہوں نے خود کو ہر پابندی سے آزاد کرنے کے لیے مذہب سے ہی انکار کر دیا اور شیطان نے انکی آنکھوں پر کچھ ایسا پردہ گرایا کہ خود کو حق بجانب سمجھنے لگے اور اپنی بات کو حق ثابت کرنے کے لیے مختلف بے بنیاد دلائل سے آراستہ ہو کر میدان میں اتر آئے۔

سنجیدگی برطرف،  تعیش پسند ملحد کو واپس لانے کا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمان کو تھوڑی سی موج مستی کرنے کی اجازت دے دی جائے. اس سے نفسانی الحاد کی طرف جانے والا یہ راستہ بند ہو سکتا ہے۔

مانا کہ یہ ممنون حسین والا فارمولا ہے لیکن ملحد بننے سے روکنے کے لئے…۔

بس زرا سی گنجائش!!!!

بقدر ضرورت گنجائش!!!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *