نیکی کر دریا میں ڈال

ہمیشہ کی طرح اس سال بھی اکنا مک کنوینشن امریکہ کے شہر بالٹیمور میں ہوا، جمعہ کا دن تھا۔ ہم سات گھنٹے کا سفر طے کر کے بالٹیمور پہنچے اور کنوینشن سینٹر پہنچتے پہنچتے تقریبا شام ہو چلی تھی۔ مغرب کا وقت تھا اور جماعت ہونے میں کچھ دیر باقی تھی۔ میں پندرہ منٹ پہلے ہی (مصلے) نماز کی جگہ پر بیٹھ گئی۔ مجھے بیٹھے دو منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک آنٹی میرے برابر میں آکر بیٹھ گئیں۔ میں نے رسمی سلام کیا جس کے فورا ً ہی بعد انہوں نے مجھے چاکلیٹ پیش کی جس کو میں نے اپنی تکلیف کے باعث لینے سے انکار کیا۔ پھر آنٹی نے مسکراتے ہوئے پوچھا اور بیٹا آپ کہاں سے ہیں؟ کیا پاکستان سے ہیں؟۔۔۔۔۔۔(یا اللہ!مجھے بچا) جی آنٹی میں پاکستان سے ہوں۔ اچھا اچھا، ماشاءاللہ پاکستان میں کہاں سے ہیں؟آنٹی میں کراچی سے ہوں۔
اچھا ماشاءاللہ! ماشاءاللہ! میں بھی کراچی سے ہوں۔ یہاں اپنی بیٹی کے گھر آئی ہوئی ہوں۔ وہ یہیں بالٹیمور میں رہتی ہے۔ اگلے ہفتے میں اپنے بھانجے کی شادی میں اوہایو جاؤں گی، پھر شکاگو اور پھر پاکستان۔ بس بیٹا! اللہ ہم سب کو جنت میں بےحساب جگہ دے، جیسے یہاں کھلی جگہ ہے وہاں بھی ایسی کھلی جگہ دے، آمین۔۔۔جی آنٹی، آمین! بیٹا آپ بہت خوش قسمت ہو جو ابھی سے ہدایت مل گئی (یہ بات تو اب تک سمجھ سے باہر ہے)۔ بس اللہ ہم سب کے گناہ معاف فرما دے اور ہم سب کو جنت میں بےحساب جگہ دے، آمین۔ میں کبھی نماز نہیں پڑھتی تھی، چھیالیس سال تک ہمیشہ نیل پالش لگا کے رکھتی تھی۔ بس اللہ میرے اس گناہ کو معاف کردے۔ اس کے بعد جب ہدایت ملی، تب سے میں نے پردہ کر لیا، وہ بھی سب سے شرعی اور مکمل پردہ، میں بیوہ ہوں اور میری عمر پچاس سے اوپر ہے مگر اب میں نماز بالکل بھی نہیں چھوڑتی اب اپنی نیکیاں کیا دہرانا۔ بس اب اللہ قبول کرلے اور ہم سب کو جنت میں بےحساب جگہ دے، آمین۔جی آنٹی، آمین!۔۔۔۔۔۔ بیٹا مغرب کے وقت خاص استغفار کی تسبیح کرنی چاہئے، میں تو کبھی یہ تسبیح نہیں چھوڑتی، اس تسبیح کا بہت ثواب ہے، یہ کہتے ہوئے آنٹی نے ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے دانے گھمانے شروع کیئے۔۔ ابھی چند دانے ہی گرے تھے کہ ان کے فون پر کسی کی کال آگئی اور تسبیح بیچ میں ہی رہ گئی۔ کال ختم کرکے آنٹی دوبارہ میرے برابر میں بیٹھ گئیں اور پوچھا، اچھا تو بیٹا آپ یہاں کس کے ساتھ آئی ہیں؟ (اس سوال کا مطلب تھا کہ فی الحال تسبیح ملتوی ہوگئی ہے) جی اپنے شوہر کے ساتھ۔۔۔ اچھا۔۔ ماشاءاللہ ،ماشاءاللہ، بڑی خوشی ہوتی ہے تم جیسی بچیوں کو دیکھ کر جو جوڑے رکھتی ہیں۔ بس اللہ ہم سب کو بے حساب جنت میں جگہ دے۔ ابھی آنٹی شاید مزید کچھ اور کہنے والی تھیں کہ نماز شروع ہوگئی۔ نماز کے بعد آنٹی نے خاص طور پر میرا فون نمبر بھی لیا اور اس کے بعد ایک گھنٹے میں مجھے چار مرتبہ فون بھی کیا۔
وہ آنٹی مجھے نہیں جانتی تھیں اور نہ ہی میں انہیں ۔۔ لیکن ان دس پندرہ منٹوں میں مجھے پتہ تھا کہ وہ آنٹی بیوہ ہیں، پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ بالٹیمور میں بیٹی کے ہاں آئی ہوئی ہیں اور انکے بھانجے کی شادی اوہایو میں ہے جس کے بعد وہ شکاگو جائیں گی۔ انہوں نے چھیالیس سال تک نیل پالش لگانے کا گناہ کیا ہے اور پھر جب وہ نیک ہو گئیں تو انہوں نے شرعی پردہ کرلیا اور اب وہ پچاس سال سے زیادہ کی عمر میں کوئی نماز نہیں چھوڑتیں اور خاص کر مغرب سے پہلے تسبیح تو با لکل نہیں چھوڑتیں۔۔۔۔ ان تمام باتوں کو یہاں دہرانے کا مقصد ہرگز ان آنٹی کا مذاق اڑانا نہیں ہے۔ اس دن ان آنٹی کی باتوں نے مجھے درحقیقت دکھ دیا۔ بحیثیت انسان ہم سب گناہگار ہیں۔ ہم سب ہی کسی نہ کسی انداز میں دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں۔۔۔ لیکن ہم جب کبھی گناہ کرتے ہیں تب تو کسی کو نہیں بتاتے کہ آج کے دن ہم نے اتنے سارے گناہ کر ڈالے۔۔۔اور جہاں ہم کوئی چھوٹا سا بھی نیکی کا کام کریں اسکا پرچار کرنا ہمارے لیئے ضروری ہوتا ہے۔ ہم اگر کسی کو یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم کس قدر گناہگار ہیں تو میرا نہیں خیال کہ پھر کسی بھی تیسرے انسان کو پکڑ پکڑ کرہمیں یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم کتنے نیک و پارسا ہیں۔۔ کیونکہ لوگوں کو اپنی نیکیاں گنوانے سے ہم نیک نہیں بن جاتے اور نہ ہی چھپانے سے گناہ گار۔اس لیے کہ بدلہ دینے والی ذات کوئی اور اس کے بدلے کا معیار تقویٰ ہے نہ کہ نیکیوں کا ڈھنڈورا پِیٹ کر دنیا کی نظر میں نیک بننے کی کوشش کرنا۔

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *