مکئی کا آٹا۔۔۔۔۔ لعلونہ خان

یہ یکم دسمبر کی ایک خُنک و رومانوی سی دُھند بھری صُبح تھی،جب ہمیں اچانک اپنا بوریا بستر لپیٹ و سمیٹ کر فرنگیوں کے دیس جانے کا اذن ملا۔

کہیں جاتے وقت شاپنگ اور اپنی تیاری، یعنی نک سک سے تیار ہونے میں، کوئی کسر باقی رکھنا تو ہم گُناہ عظیم سمجھتے ہیں۔ لیکن سامان سفر سمیٹ کر رکھنے کا سلیقہ و طریقہ آج تک ہمیں نہیں آیا۔ سو جب اماں کی باقی بیکار قسم کی اولاد کو دیکھتے ہیں، تو انکی زندگی کا درست مصرف و فائدہ یہی نظر آتا ہےکہ ہمارے سامان کی بطریق احسن پیکنگ کروادیں۔ ذاتی طور پر ہمیں تو سفر کے لئےصرف اپنا موبائیل فون اور اس کا پاور بنک ہی انتہائی ناگزیر چیزیں لگتی ہیں۔

خیر خُدا خُدا کرکے اسلام آباد ائیرپورٹ پُہنچے۔ بچپن گُزرا، نوجوانی کے بیچ کے رنگین و سنگین فاصلے طےکرتے کرتےایک عُمر گُزر گئی، پر ائیر پورٹ آج بھی ہمیں الف لیلی کی کہانیوں جیسی ایک عجیب سی جگہ لگتی ہے۔بھانت بھانت کے لوگ جب آ جا رہے ہوں،تو ہر ایک کے چہرے کے تاثرات الگ ہی ہوتے ہیں۔ ہر ایک چہرےکو بچوں کی طرح ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے والی عادت آج تک نہیں چُھوٹی۔خاص طور پر جب کوئی جاتے ہوئے رو رہا ہو۔تو اُسکے ساتھ آنسوؤں کا سُر ملانا ہم اپنے ایمان کا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ کمبخت یہ آنسو بھی ناں، نانی کی وفات پر اتنی کوشش کی کہ نکل آئیں نمبر بنانے کو، باقی سب کزنزکی طرح، پر انہوں نے بھی قسم کھا رکھی تھی ہمارا امیج خراب کرنے کی، سو آنکھیں سارا وقت خُشک ہی رہیں۔ جبکہ ائیرپورٹس پہ ہر دوسرے اُداس وغمگین بندے کو دیکھ کر فورآ ہی یہ یہ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ خیر تو ہم کہہ رہے تھے،کہ اماں اور بھائی کو خداحافظ کہہ کر ہم مُسافروں کی بھیڑ میں اندر داخل ہوگئے۔ اندر لوگوں کے سامان کی جس طرح بہیمانہ چیکنگ ہورہی تھی، ہمارے تو اوسان ہی خطا ہوگئے کہ اس طرح اگر ہمارے بیگز اُدھیڑے گئے تو پھر ان کو واپس سمیٹ کر رکھے گا کون؟ دل کو تسلی دی کہ لعلُونہ بندی حوصلہ مت ہار، ورنہ ان لوگوں نے اور شیر ہو جانا ہے۔

ہم سے پہلے والے مُسافر کا سامان ایسے بکھیر کر رکھ دیا گیا جیسے میاں بیوی کی پہلی لڑائی میں غصے کا شکار ہونے والی ساری چیزیں سارے برتن گھر کے ہر ہر کونے کو چُوم لیتےہیں۔ ہمارا نمبر آیا اور جیسے ہی
اہلکار نے سامان کھولنا چاہا، تو ہم نے بیگز پہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ ٹھہرو، ہاتھ لگانے سے پہلے یقین دلاؤ کہ واپس سب چیزیں ٹھیک ٹھیک رکھی جائیں گی ورنہ خبردار جو میرے بیگز کو ہاتھ لگایا تو۔ اہلکار نے ہمیں ایسے عجیب و خشمگیں نظروں سے دیکھا، جیسے ہماری دماغی حالت پر اُسے پوائنٹ زیرو زیرو برابر شک بھی نہ رہا ہو۔ کہنے لگا، بی بی ہم اسی طرح لوگوں کا سامان واپس رکھنے لگے تو پھر تو ہو چُکی ہماری ڈیوٹی۔ میں نے کہا دیکھو بھئی ڈیوٹی چاہے کوئی بھی کرے، پر میں اپنے سامان کے بغیر تو جا نہیں سکتی اور پیکنگ کرنا مُجھے آتانہیں۔ سو خود ہی کوئی حل نکالو اس مسئلے کا، ورنہ بیگز تو میں کھولنے نہیں دوں گی۔ اس نے کہا آپ بات نہیں مانیں گی، تو آپ کو نہیں جانے دیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ واہ، جیسے میں مُفت میں سفر کررہی ہوں۔پُورے نوے ہزار روپیہ دیا ہے، جاؤں گی کیسے نہیں۔ چلو ایسا ہے تو مُجھے روک کر دکھاؤ، پٹھانی ہوں، وہ بھی مردان کی۔ اب وہ کچھ دھکا اور شائد ٹرخانے کو بولا کہ چلیں آپ چیک کرنے دیں، کرلیں گے کُچھ نہ کُچھ۔

اُس نے بیگز کھول کھول کر سامان اُلٹ پلٹ کرنا شروع کردیا۔ اور تو سامان میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں تھی، پر بھابھی کی ایک دوست نے مکئی کا آٹا منگوایا تھا۔ اب وہ اچھلا کہ یہ کیاہے۔ کہا بھئی مکئی کا آٹا ہے اور کیا۔ اہلکار نے تیوریاں چڑھا کر کہا آپکو پتہ ہے،شک کے طور پر آپکے ساتھ کیا ہوسکتا ہے؟ میں نے کہا وہ تو مُجھے نہیں پتہ، پر شک ختم ہونے کے بعد میں آپکے ساتھ کیا کر سکتی ہوں، وہ جانتی ہوں۔ تیوری مدہم ہوئی اور بولا “بی بی گھر میں کسی سے لڑ کر آئی ہیں کیا؟ میں نے کہا نہیں آج کوئی ملا ہی نہیں شکر ہے آپ مل گئے، زُبان کا زنگ دُور کرنے کو۔ اب وہ ہنس کر بولا اچھا بس جائیں۔ میں نے کہا شاید آپ بھول گئے کہ پیک آپ کو کرنا ہے۔ اُس نےکہا کہ نا پیک کریں آپکا جانا ہی ملتوی ہوگا۔ میں بھی سُنی آن سُنی کرکے فیس بُک پہ اپنی پُوری توجہ دینے لگی۔ اُس نے ایک دو بار میری طرف دیکھا پر جب جان گیا کہ میں تو ماننے کی نہیں اور باقی مُسافروں نے بھی جلدی جلدی کا شور مچا دیا، تو خود ہی واپس سب چیزوں کو کُچھ ٹھیک کُچھ غلط سہی پر رکھ ہی دیا۔ جاتے جاتے اپنے پیچھے ایک جُملہ سُنا جو وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا،

“توبہ،پُوری بلا تھی، اپنی ساری سروس میں پہلی دفعہ ایسی چیز سے پالا پڑا”

ائیرپورٹس پہ اکثر ہم دیکھتے اور سُنتے ہیں،کہ کسٹم والےمُسافروں کو تنگ کرتے رہتے ہیں۔ اکثر کے سامان سے چیزیں بھی نکال لیتے ہیں۔ مگر یہ صرف اُن سادہ لوح مُسافروں کے ساتھ ہوتا ہے جن کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ ہمارے احتجاج پر یہ لوگ ہمیں کسی بھی قسم کا نقصان دے سکتے ہیں۔ اگر یہ ڈر اور خوف لوگوں کے ذھن سے نکل جائے تو ایسا کوئی اختیار ان لوگوں کے پاس نہیں ہوتا کہ وہ کسی بھی مُسافر کو تنگ کر سکیں۔ البتہ اگر آپ مکئی کے آٹے کی جگہ واقعی ہیروئن لے جا رہے ہیں، تو “پورا تعاون” کیجیے۔

لعلونہ خان خیبر پختونخواہ کے ایک عزت دار اور تعلیم یافتہ گھرانے کی بہادر خاتون ہیں۔ انکی بہادری کا یہی ثبوت کافی ہے کہ ہردلعزیز عارف خٹک کی دوستی کا دعوی کرتی ہیں۔ “مکالمہ” لعلونہ کو، بغیر تصویر بھی، اپنا ساتھی بننے پر شکریہ ادا کرتا ہے، ایڈیٹر

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *