• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(گیارہواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(گیارہواں دن)۔۔گوتم حیات

نوّے کی دہائی کے کرفیو زدہ دنوں میں ہمارے  سکول آئے روز بند رہتے اس لیے ہم اپنا زیادہ تر وقت گھر کے اندر ہی گزارتے تھے۔
اُن دنوں  سکولوں کا یوں کئی کئی دنوں تک بند رہنا مجھے اچھا لگتا تھا۔ ا کول جانا مجھے پسند نہیں تھا اس لیے یہ چھٹیاں میرے لیے غنیمت تھیں۔ میں ان فکروں سے بے نیاز تھا کہ شہر میں لگنے والا کرفیو اچھا ہے یا برا، بلکہ مجھے تو اس بات کا بھی ٹھیک سے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کرفیو ہوتا کیا ہے۔۔۔؟۔۔۔

میرے گھر کی گلی کے کونے میں ایک بڑا سا میدان تھا جہاں پر اکثر ہم لوگ کھیل کود کے لیے جاتے تھے۔ اُس میدان کے ساتھ ہی ایک وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی مسجد تھی اور مسجد کے اندر ایک باغ بھی موجود تھا۔ اُن دنوں اُس مسجد کے تین بڑے دروازے تھے جو کہ ابھی بھی موجود ہیں لیکن اس وقت مسجد کا ایک بڑا دروازہ ہماری گلی کے سامنے کھلتا تھا۔ جب ہم اپنے گھر کا دروازہ کھول کر بائیں ہاتھ کی طرف دیکھتے تو مسجد کا وہ دروازہ ہمیں باآسانی نظر آتا۔ دو دہائیوں بعد وہ مسجد اور میدان دونوں اپنی جگہ پر موجود ہیں، لیکن نوّے کی دہائی کے نقشے میں کافی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان تبدیلیوں کے سبب مسجد نے اپنی کشادگی کو مزید وسعت دیتے ہوئے میدان کا بہت سا حصہ اپنے اندر یوں سمو لیا ہے کہ دیکھنے والے کو وہ مسجد کا ہی حصہ معلوم ہو اور بیچارا میدان اب اپنے اصل تشخص سے بےنیاز مزید سکڑتا ہی جا رہا ہے۔ میدان کے اندر کچھ نئے مکانات بھی بن چکے ہیں۔ ابھی بھی اس میدان میں دن اور شام کے اوقات میں بچّے کھیل کود میں مگن رہتے ہیں۔ شام کو اکثر میدان سے گزرتے ہوئے مجھے اُن کھیلتے ہوئے بچوں میں اپنا آپ نظر آنے لگتا ہے۔

میدان کے آخر میں پیٹرول اور تیل کی ایک قدرے درمیانے سائز کی شاپ “راحت اینڈ سنز” کے نام سے تھی یہ دکان اور اس دکان کے ساتھ ہی موٹر مکینک کی کچھ اور دکانیں بھی تھیں (یہ سب دکانیں ابھی بھی موجود ہیں) جب ہم اپنی گلی سے میدان کی طرف جائیں تو سیدھا چلتے ہوئے تھوڑا آگے جا کر میدان کے آخر میں دو راستے جاتے ہیں، بائیں طرف تو “راحت اینڈ سنز” والی دکانیں ہیں اور دائیں طرف والے راستے میں جو دکانیں ہیں وہ جنرل مشرف کے زمانے میں بنائی گئیں یہی کوئی دوہزار چار سے دوہزار آٹھ کے درمیان۔ میدان کے دائیں ہاتھ والی یہ دکانیں مسجد کی ملکیت ہیں اور ان کے سامنے ایک پکّی سڑک ہے جہاں پر گاڑیوں کی آمدورفت ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔

کرفیو کے زمانے میں یہ سڑک اکثر و بیشتر سنسان ہی رہتی تھی۔ اس سڑک کے پاس ہی فُٹ پاتھ کے اوپر وردی والوں کی چوکی بھی بنا دی گئی تھی۔ ان دنوں اس طرح کی فوجی چوکیاں شہر کے بہت سے علاقوں میں پورے جنگی سازوسامان سے لیس ہو کر کاشت کی گئیں تھیں۔

وہ جنگ کا سا ماحول تھا یا آناً فاناً جنگ کا ماحول بنا دیا گیا تھا۔۔۔۔؟ کرفیو کے زمانے کی وہ چوکیاں جو شہر کی شاہراہوں، گلیوں اور بازاروں میں کاشت ہوئیں کیا ان سے شہریوں کو تحفظ مِلا یا ان شہریوں سے وہ چراغ بھی چھین لیے گئے جن کو تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ ان چوکیوں کو قائم کرنے والے حاکموں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسوں میں کیا تھا۔۔۔ یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کو میرے شہر کا ہر باشعور انسان تنہائی میں سوچتا ہے کہ تین دہائیوں بعد بھی شہر کی اُس کرفیو زدہ صورتحال پر کسی بڑی محفل میں آزادی سے بات کرنے کی ممانعت ہے۔

کرفیو کے دنوں میں ہم اکثر اوقات میدان میں کھیلتے کودتے سڑک پر بھی چلے جایا کرتے تھے اور خوش ہو کر وردی والوں کی چوکی کو دیکھا کرتے تھے۔ اُن دنوں ہمیں فوجی اچھے لگتے تھے کہ ہمارے خاندان میں فوج کی ملازمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ (یہ رجحان اب بھی قائم ہے لیکن ذاتی طور پر میں اور صائمہ اس فرسودہ، جنگجوعانہ رجحان سے ہزاروں میل کی دوری اختیار کر چکے ہیں)۔
ایک دن صائمہ نے گھر آکر خوشی خوشی بتایا کہ چوکی میں بیٹھے ہوئے فوجی سے اس نے ہاتھ ملایا ہے وہ بہت اچھا فوجی ہے۔ مجھے بھی فوجی سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا اور ہم اُسی وقت بھاگے بھاگے فوجی سے ملنے گئے۔ اب یہ ہمارا روز کا معمول بن گیا تھا کہ ہم چوکی میں جانے لگے۔ وہ فوجی بھی ہم سے بہت مانوس ہو گیا تھا۔ اُس نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ پنجاب سے آیا ہے اور یہاں ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد وہ واپس پنجاب چلا جائے گا۔ صائمہ اکثر اوقات اُس کا رومال اور اُس کے موزے گھر پر دھونے کے لیے لے آتی۔ ہمیں بہت خوشی ہوتی تھی اُس فوجی کا رومال اور موزے دھو کر۔ (یہ کام ہم دونوں اپنی خوشی سے کرتے تھے اور ضد کر کے اُس فوجی کے موزے اور رومال اپنے گھر پر لے آتے تھے) ایک دو بار تو وہ ہماری گلی میں بھی ہم سے ملنے کے لیے آیا تھا۔ آج میں جب ان باتوں کو لکھ رہا ہوں تو میرے اندر خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ کاش میں 2020 کے موجودہ لمحے میں اُس فوجی سے مل سکوں اور اُس سے پوچھ سکوں کہ کرفیو کے زمانے میں کیا کیا ہوا تھا؟؟؟ کیا اُس نے بھی شہر کے لڑکوں کو ٹارچر سیلوں میں بند کر کے اُن پر وحشیانہ تشدد کیا تھا۔۔۔

کیا بجلی کے کرنٹ سے اُن کے بدنوں پر ارتعاش پیدا کیا تھا۔۔۔۔ کیا اُس نے بھی شہر کے بدنصیب لڑکوں کی کلائیاں موروڑی تھیں اور ان کی اُنگلیوں کے ناخنوں کو پلاس سے کھینچ کر نکالا تھا۔۔۔ کیا اُس نے ان کی دل دہلا دینے والی آوازوں سے تنگ آکر اُن کے منہ میں کپڑوں کا انبار ٹھونسا تھا۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یا۔۔۔ اُس نے اُن بےگناہ شہریوں پر تشدد کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے حاکم کے احکامات کی نفی کی تھی؟؟؟؟ کیا چوکی میں بیٹھا ہوا وہ خوبصورت اور نرم دل فوجی (جس کے موزے اور رومال دھونے کے لیے میں اور صائمہ مچلا کرتے تھے) جب ٹارچر سیل میں جاتا تھا تو اُس کی نرم دلی برقرار رہتی تھی یا اُس نرم دلی کی جگہ پر کسی وحشی طاقت کا راج ہو جاتا تھا اور اُس طاقت کے وحشیانہ نشے میں چُور ہو کر وہ اُن بدنصیب لڑکوں پر اپنے من پسند آزمودہ نسخے اپناتا تھا۔۔۔ کہ یہی اُس کی اصل ڈیوٹی تھی اور اسی ڈیوٹی کو خوش دلی سے سرانجام دے کر ہی وہ اپنی تنخواہ حاصل کرتا تھا اور پھر اس ماہانہ تنخواہ کی کچھ رقم وہ پنجاب بھجوا دیتا تھا۔ کیونکہ اُس نے کرفیو کے زمانے میں مجھے اور صائمہ کو بتایا تھا کہ وہ پنجاب سے آیا ہے۔۔۔ اور ڈیوٹی پوری کرنے کے بعد وہ پنجاب واپس چلا جائے گا۔۔۔!!

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *