پاکستان زندہ باد۔۔محمد فیصل

وہ اٹھا اس نے زمین کو ٹھوکر ماری ،آسمان کی جانب دیکھا اور منظرسے غائب ہوگیا۔۔ اس کا سفر 73 سال قبل شروع ہوا تھا۔۔ 14 اگست 1947 کو وہ اس ٹرین میں سوار تھا جس میں ہندوؤں اور سکھوں نے خون کی ہولی کھیلی تھی۔ لاشوں کے درمیان ایک لاش بن کر اس کی زندگی تو بچ گئی تھی لیکن ٹرین سے بہتے لہو میں وہ اپنے خونی رشتوں کے لہو کا ایک قطرہ بھی نہیں پہچان پایا تھا کیونکہ خون کا رنگ ایک سا ہوتا ہے۔کون آیا اور کس نے اسے بچایا یہ تو اس کو یاد نہ تھا لیکن اس مفلوک الحالی اور بے سروسامانی میں بھی جب اس کے کانوں نے سنا کہ اس کے قدم پاک سرزمین پر ہیں تو وہ بے ساختہ سجدہ میں گر گیا کیونکہ اپنوں کو کٹا کر سجدہ ریز ہونا حسین کی سنت ہے۔۔۔ پاکستان اس کے لیے زمین کے کسی ایک ٹکڑے کا نام نہیں تھا۔۔۔ یہ تو اس کا وہ عشق تھا جس کا خراج اس نے اپنے پیاروں کے خون سے ادا کیا تھا۔۔۔۔وہ عشق زادہ تھا اس لیے اپنے زخم بھول گیا۔

مٹی کی محبت میں اس نے وہ قرض بھی چکانے شروع کردیئے جو اس پر واجب بھی نہ تھے۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ جو “شریک سفر” نہ تھے وہ سنورتے جارہے تھے اور اس جیسے دیوانے بکھرتے جارہے تھے۔۔قائد اعظم کو ایمبولینس نہ ملی تو لیاقت علی خان کسی محلاتی سازش کا شکار ہوکر اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔۔دل میں کسک تو اٹھتی تھی لیکن وہ محب ہی کیا جو اپنے محبوب کا ساتھ چھوڑ دے۔۔

بٹ کے رہے گا ہندوستان لے کر رہیں گے پاکستان کا، نعرہ لگانے والے کا گلا اب چیخ چیخ کر پکارتا تھا پاکستان زندہ باد۔ 1971 میں سقوط مشرقی پاکستان کے وقت اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ پاکستان زندہ باد کہتے ہوئے اس کی آواز مدہم پڑ جاتی ہے۔ شاید چوٹ دل پر لگی تھی لیکن دل ٹوٹ گیا تو کیا ہوا اور ملک ٹوٹ گیا تو کیا ہوا پاکستان نام کا ایک خطہ تو موجود تھا اور اس کا تو عشق پاکستان تھا۔

وہ اب نئے پاکستان میں تھا ۔۔اسے ایک دریا کے بعد دوسرے دریا کا سامنا تھا۔اسے ایک پل لگتا کہ سب بدل جائے گا اور کبھی لگتا تھا کہ جیسے سب کچھ رک گیا ہے۔۔۔۔اس کے خوابوں کی سرزمین میں ظلم بچے جن رہا تھا اور انصاف بانجھ ہوگیا تھا۔لوگ آتے تھے اس سے کھیلتے تھے اور چلے جاتے تھے۔

ہر گزرتے سال    ہونٹوں سے نکلنے والی پاکستان زندہ باد کی صدا مدہم ہوتی چلی جارہی تھی۔۔پاکستان کی طرح اب وہ بھی بوڑھا ہوگیا تھا۔ وہ اب نہ اپنے خواب شمار کرتا تھا اور نہ ہی ان کے عذاب۔۔۔۔ لیکن اپنی نحیف آواز میں پاکستان زندہ باد کی صدا بلند کرنے کی کوشش ضرور کرتا تھا۔وہ کراچی شہر کی گلیوں میں اپنے ناتواں جسم کے ساتھ نجانے کب سے گھوم رہا تھا۔ یادداشت اب کمزور ہوگئی تھی۔

وہ اپنے محبوب کے مرقد کی طرف جانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔ہر راستہ گندگی سے اٹا تھا۔۔۔سیاسی بہروپیوں کا تماشا جاری تھا۔اس کو احساس ہوا کہ آج کوئی خاص دن ہے۔۔۔۔آخر کار اسے علم ہو ہی گیا کہ آج 14 اگست ہے۔۔۔۔وہ اپنے کمزور جسم کے ساتھ تیز قدموں قائد کے مزار کی جانب جانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔۔پھولے سانس کے ساتھ آج اس کو اپنا سفر 14 اگست 1947 کے اس خونی سفر سے بھی زیادہ بھاری لگ رہا تھا۔۔۔وہ لرزتے قدموں مزار کی سیڑھیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔۔۔وہ قائد اعظم کے سامنے پوری طاقت کے ساتھ ایک مرتبہ پھر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہتا تھا۔۔اس نے اپنے قدم مزید تیز کردیئے اچانک ہٹو بچو کے شور میں کسی مضبوط ہاتھ والے نے اسے ایک گالی دے کر سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا۔۔۔۔کیونکہ کوئی “شاہی شخصیت”مزار پر حاضری دینے آئی تھی۔۔۔۔وہ بے بسی کی تصویر بنے مزار کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں پاکستان زندہ باد کہنا چاہا تو اس کی آواز حلق میں پھنس گئی۔۔۔۔اور پھر وہ اٹھا،زمین کو ٹھوکر ماری،آسمان کی جانب دیکھا اورمنظر سے غائب ہوگیا۔