احکام دین ،معرفت دین اور تصوف۔۔مہرساجدشاد/اختصاریہ

علامہ اقبال ضرب کلیم میں اپنی نظم تصوف میں فرماتے ہیں
خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زبان سے لاالہ کہنے کی نفی کی گئی ہے بلکہ دراصل اس کو اپنی ذات پر اختیار کرنے کی اہمیت بتائی گئی ہے۔
ایک حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے “لکل آیۂ منھا ظھر و بطن “۔
یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک ظہر (Outer Portion) ہے اور دوسرا اسکا بطن (inner Portion) ہے۔

ظاہر حصہ احکام ہوتے ہیں، باطنی حصہ معرفت کہلاتا ہے، یہ سمجھنا کہ یہ کیوں کہا گیا ، یہ کیوں بتایا گیا، اس سے کیا مرضی اور منشا مراد ہے اسی کو معرفت کہتے ہیں،معرفت کے مدارج طے ہوتے جائیں تو قرب الہی کی سیڑھیاں بندہ چڑھتا جاتا ہے۔

مسلمان ہونے کیلئے ظاہری حکم ہے کہ زبان سے شہادت دی جائے لاالہ اللہ محمد رسول اللہ۔ فقہی اعتبار سے بندہ مسلمان ہو گیا اسے تمام حقوق حاصل ہو گئے جو مسلمان کو ملنا چاہئیں۔
لیکن جب تک اس اقرار سے ذہنی انقلاب (Intellectual Revolution) نہ آ جائے اسے ایمان کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی، بندہ مومن اسی ذہنی انقلاب کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اب اقبال کی یہ پوری نظم پڑھیے اور تصوف معرفت کی دنیا سے شناسائی کا اقبال کا فلسفہ جانیے
یہ حکمتِ ملکوتی، یہ علمِ لاہُوتی
حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور
تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ عقل، جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار
شریکِ شورشِ پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری
فروغِ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *