• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت کو لگتے زوردار جھٹکے۔۔ غیور شاہ ترمذی

کورونا کی وجہ سے عالمی معیشت کو لگتے زوردار جھٹکے۔۔ غیور شاہ ترمذی

چین نے 4 جنوری 2020ء کو پہلی بار خاص طور پر ووہان شہر میں دسیوں افراد کے کرونا کے مرض میں مبتلا ہونے کا اعلان کیا اور اس کو covid-19 کا نام دیا پھر یہ مرض تقریباًٍ ساری دنیا میں پھیل گیا۔ بہت سے ممالک نے اپنی سرحدیں بند کردیں اور نقل و حرکت پر پابندی لگا دی۔ اسی دوران اقوام متحدہ کے سربراہ António Guterres نے کہا ہے کہ Covid-19 کو پھیلنے سے نہ روکا گیا تو کئی ملین لوگ مرجائیں گے۔ اقوام متحدہ کے اس خوفناک اور انتہائی سنجیدہ انتباہ کے بعد کئی ممالک نے سکو ل، یونیورسٹیوں کو بند کر دیا اور اجتماعات پر پابندی لگا دی، لاک ڈاؤن اور اجتماعی قرنطینہ کا اعلان کیا گیا۔ یہ سب اقدامات کرنے اس لئے بھی ضروری تھے کیونکہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کا اب تک کا واحد دریافت شدہ طریقہ صرف یہ ہے کہ جو اس سے متاثر ہو چکے ہیں، انہیں اُن سے الگ کر دیا جائے جو متاثر نہیں ہوئے۔ دنیا میں سینکڑوں ملین اشخاص اس امید سے گھروں میں روکے گئے ہیں کہ شاید کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن ہو جس کی وجہ سے اب تک 40 ہزار سے زیادہ لوگ مر چکے ہیں۔ انسانی تاریخ میں کسی بھی وباء کا مقابلہ کرنے کے لئے کبھی اس قسم کے سخت اقدامات نہیں اٹھائے گئےجو اس وقت مختلف ممالک نے مختلف انداز سے اٹھائے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 800 ملین سے زیادہ لوگ 30 سے زیادہ ممالک میں گھروں میں محبوس ہیں، خواہ یہ عام حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ہو یا گھومنے پھرنے پر پابندی کی وجہ سے۔ ان جیسے سخت اقدامات ہوتے چلے جانے سے دنیا بھر میں تمام کاروباری سرگرمیاں اور صنعتی پیداوار کا عمل بھی معطل ہوتا چلا گیا جس سے عالمی معیشت کو انتہائی کاری ضرب لگ چکی ہے۔

سچی بات تو یہی ہے کہ اس وباء کے بغیر بھی عالمی معیشت کساد کا شکار تھی۔ ایسے حالات میں دنیا میں لاک ڈاؤن کے سخت اقدامات اگر عالمی معیشت کونہ بھی گرائیں تو بھی اس کو مزید سست روی سے دوچار کر دیں گے۔ دنیا بھر میں صنعتی پیداوار کا زیادہ تر عمل خام تیل اور اُس سے حاصل کیے  جانے والے کیمیکلز پر دارومدار کرتا ہے۔ کورونا وائرس نے عالمی تجارتی سرگرمی کو مفلوج کر دیا ہے اور تیل کی قیمتوں کو گرا دیا ہے۔ تیل کی قیمتیں کم ہونے اور روس کی جانب سے پیداوار بڑھانے پر مجبور ہونے سے اس وقت روس اور سعودی عرب کے درمیان قیمتوں کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ روس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تیل پر ہے اسی لئے امریکہ نے سعودی عرب کو روس کے مقابلے میں پیداوار میں اضافے کے لئے متحرک کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 19مارچ 2020ء کو یہ کہتے ہوئے روس کو دھمکی دی کہ “وہ مناسب وقت پر روس اور سعودی عر ب کے درمیان قیمتوں کی جنگ میں مداخلت کرے گا‘‘۔ اس وقت سعودی عرب اپنے حلیف امریکہ کی خوشنودی کے لئے روس کے خلاف امریکہ کے مارکیٹ شئیر کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے روس اور سعودی عرب کے درمیان پیداوار کم رکھنے کا معاہدہ تین سال جاری رہنے کے بعد ٹوٹ گیا۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب عالمی منڈی میں تیل کی طلب کم ہونے سے دونوں ممالک مسائل کا شکار ہیں۔ تیل کی قیمتیں 20 سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔ آنے والے معاہدوں کے لیے میکس برنٹ کی قیمت 75. 28 ڈالر ہے۔ روس چونکہ سعودیہ کے امریکہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کو جانتا ہے چنانچہ روسی روسنف کمپنی کے ترجمان میخائیل لیونیف نے روسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “کئی بار اوپیک پلس معاہدہ کو جاری رکھنے کے لئے تیل کی پیداوار میں کمی کی گئی مگر بہت سرعت سے عالمی مارکیٹ میں اس کی جگہ امریکی شیل آئل کو لایا گیا”۔ دوسری طرف 1۔2 ملین بیریل کمی کرنے کے معاہدے کو جاری نہ رکھا جاسکا بلکہ پیداوار میں اضافہ کیا گیا جس کی وجہ سے تیل نے اپنی ایک تہائی قیمت کھو دی جوکہ سنہ 1991ء کی خلیج جنگ کے بعد سب سے زیادہ خسارہ ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے واسطے روس نے اپنے ایشیائی گاہگوں کے لئے قیمت میں 6 ڈالر کمی کی۔یوں کرونا وائرس نے عالمی معیشت کو ہلاک کر رکھ دیا ہے جس سے تیل کی قیمتیں گر گئیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطرہ ہے عالمی معیشت زمین بوس ہوجائے گی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کووڈ۔19 کے 2 مہینوں تک جاری رہنے کی صورت میں اس کی عالمی معیشت کے لئے 76.6 ارب ڈالر جبکہ 3 مہینوں تک جاری رہنے سے 155.9 ارب ڈالر اور 6 مہینوں کے دورانیہ کی مالیت 346.9 ارب ڈالر تک کے نقصانات ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کو عالمی مالیت کے دو تہائی نقصانات کو اکیلے برداشت کرنا پڑے گا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت کو لگنے والے اس کاری ضرب کے جھٹکے اتنے شدید ہیں کہ دونوں عالمی طاقتوں یعنی امریکہ اور چین نے بوکھلا کر ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جبکہ امریکی ایماء پر چین کے خلاف 20 کھرب ڈالرز کے ہرجانہ کا دعویٰ بھی دائر کر دیا گیا ہے۔ اس دعویٰ میں الزام لگایا گیا ہے کہ کورونا Covid-19 کا پھیلاؤ چین سے شروع ہوا اور اب تک کی ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ چمگادڑوں کے یا بجّو (پانگولان) سے انسانوں میں پھیلا۔ درمیان میں کوئی اور جانور بھی اسی تسلسل میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ چینی لوگ ہر قسم کے جانوروں بشمول ان جنگلی جانوروں اور درندوں کو بھی کھا جاتے ہیں اور چین کا شہر ووہان اس قسم کے گوشت کا تجارتی مرکز ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز یہی ووہان شہر ہے۔ اس دعویٰ میں مزید الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چینی حکومت نے جنوری تک ووھان کی سمندری فوڈ مارکیٹ کو بھی بند نہیں کیا جہاں سے یہ مرض پھیل گیا تھا۔ بحران کی ابتدا میں اس مرض کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کرنے پر 8 چینی باشندوں کو غیر مصدقہ معلومات فراہم کر نے کا مرتکب قرار دے کر گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح ووہان کے مقامی حکام نے 18 جنوری کو ایک روایتی مقامی تہوار کی بھی اجازت دی گئی جس میں تقریباً 40 ہزار خاندانوں نے شرکت کی۔ چینی عہدہ داروں نے 31 دسمبر تک اس بحران کے خطرات کو عوام سے پوشیدہ رکھا۔ جب صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو چین نے عالمی ادارہ صحت کو اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ “مرض سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا مشکل تو ہے مگر ممکن ہے”۔ اس کے بعد 23 جنوری کو چینی حکومت نے ووہان شہر میں لاک ڈاؤن کیا اور سفر پر مکمل پابندی لگا دی۔ جبکہ اگر یہی پابندی چینی حکومت دسمبر کے شروع میں لگا دیتی تو اس موذی وائرس کو بڑھنے سے روکا جا سکتا تھا۔ دعویٰ میں الزام لگایا گیا ہے کہ “چینی حکومت دسمبر 2019ء کے وسط سے ہی اس کے پھیلاؤ سے باخبر تھی مگر اس نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی اور سال کے آخر میں اس کے شکار افراد کی تعداد بڑھنے تک اس کا اعتراف نہیں کیا”۔ اس دعویٰ میں بیان کیا گیا ہے کہ چین کے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے یہ موذی مرض چین میں پوری طرح پھیلا اور پھر ایران میں ان چینی مزدوروں کے ذریعے منتقل ہوا جو قم شہر میں ریلوے ٹریک تعمیر کرنے والی چینی کمپنی میں کام کر رہے تھے۔ اسی طرح اٹلی نے ٹوسکانا اور لومباڈی نامی اپنے علاقوں میں چینی سرمایہ کاری سے نقل و حمل کے انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو شروع کیا ۔ رپورٹس کے مطابق لومبارڈی کے علاقے میں ہی 21 فروری کو کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا اور یہی علاقہ اب تک سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اٹلی کے بعد اس مرض کو یورپ، امریکہ اور دیگر دنیا میں بھی اس طرح پھیلنے کے انکشافات کئے گئے ہیں۔ اس دعویٰ میں درخواست کی گئی ہے کہ چونکہ چینی حکومت نے چینی عوام اور دنیا سے اس قاتل مرض کی حقیقت کو چھپایا لہذا ہزاروں جانوں کے ضیاع اور عالمی معیشت کو لگنے والے زوردار جھٹکوں کے ازالہ کے طور پر چینی حکومت دنیا کو 2000 ارب ڈالرز یعنی 20 کھرب ڈالرز کی ادائیگی کرے۔ دوسری طرف چین نے بھی اس دعویٰ کے جواب میں امریکہ پر اسے پھیلانے کے الزامات لگائے ہیں تاکہ چین کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی کا راستہ روکا جا سکے۔

امریکہ کی طرف سے چین پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے الزامات اور چین کی طرف سے امریکہ پر لگائے جوابی الزامات کے باوجود بھی اب تک کی ہونے والی تحقیقات کے مطابق اس وباء کو پھیلانے کے پیچھے امریکہ یا چین کے ہاتھ ہونے اور اس کو دوسرے ملکوں میں منتقل کرنے کی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ اس کے دو نمایاں اسباب میں پہلا یہ ہے کہ یہ دونوں ملک خود اس مرض میں گردن تک ڈوب گئے ہیں۔ تادم تحریر اعداد وشمار کے مطابق چین میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 81470 اور مرنے والوں کی تعداد 3303 ہے جیسا کہ چائنا نیشنل ہیلتھ کمیٹی نے 23 مارچ 2020 ء کو کہا: اگر وہ اس کو پھیلانے کے ذمہ دار ہوتے تو کم از کم اپنے آپ کو بچا لیتے۔ جبکہ CNN Health کے مطابق امریکہ میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 2810 اور متاثرین کی تعداد تادم تحریر 155700 ہے ۔ چین اور اٹلی کے بعد کرونا سے متاثر ملکوں میں امریکہ تیسرے نمبر پر ہے۔ تازہ ترین اقدامات کے مطابق سات ریاستوں میں ایک تہائی امریکیوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کے احکامات دئیے گئے ہیں نیویارک، کونیٹیکٹ اور نیوجرسی کے بعد لویزیانا اور اوہائیو نے بھی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی ہے ۔ پس اگر اس مرض کو پھیلانے کے پیچھے امریکہ ہوتا تو کم از کم اپنے آپ کو بچا لیتا۔ اس ضمن میں دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان دونوں ممالک میں سے کسی ایک کی جانب سے اس وائرس کو بنانے کی بات اس لئے بھی درست نہیں کہ ابھی تک کوئی ایسی دلیل نہیں کہ یہ وائرس لیبارٹری میں بنایا گیا ہے۔ چنانچہ Nature Medicine میگزین کے مطابق پہلے سے معلوم کورونا وائرسوں کی اقسام کے جینیاتی مادے کی ترتیب کے حالیہ کورونا وائرس کے ساتھ تقابل سے یہ بات مضبوطی سے ثابت ہو تی ہے کہ یہ کورونا وائرس فطری عمل کے نتیجے میں بناہے۔ میگزین نے یہ بھی کہا ہے کہ “اس بات کی تائید وائرس کے بنیادی ڈھانچے اور مالیکیولر سٹرکچر کے متعلق معلومات سے بھی ہوتی ہے۔لیبارٹری میں بنائے گئے وائرس کو اس کے بنیادی ڈھانچے سے پہچانا جاسکتاہے”۔ اس سلسلہ میں مزید معلومات اس ویب سائیٹ سے مل سکتی ہیں۔

https://www.npr.org

دنیا بھر میں ہونے والے اس وسیع ترین لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی ناکامی کو کم نہیں کیا جا سکے گا بلکہ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس میں مزید اضافہ ایک اور بڑی ناکامی کا سبب بن رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ نفسیاتی امراض کا شکار ہوں گے۔ دنیا کو کوشش کرنی ہو گی کہ وہ اس وباء کو اب تک جہاں اس کا پھیلاؤ ہو چکا ہے، بس وہاں تک ہی اسے محدود کر دیا جائے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ وہیں رہیں اور غیر متاثرہ علاقوں کے لوگ وہاں نہیں جائیں۔ اس دوران جہاں عالمی ادارے اور تمام حکومتیں لاک ڈاؤن والے علاقوں میں تمام لوگوں کو صحت اور علاج معالجے کی تمام سہولیات مفت فراہم کریں ، ہسپتال اور لیبارٹریوں کا بندوبست کریں ، شہریوں کی بنیادی ضروریات اور تعلیم و امن وامان کا بندوبست کریں، مریضوں کو تندرست لوگوں سے الگ رکھنےکے لئے مریضوں کو قرنطینہ کریں وہیں اس کے ساتھ ساتھ تندرست لوگوں کو اپنے کام جاری رکھنے، اجتماعی اقتصادی سرگرمیاں حسبِ سابق جاری رکھنے کی اجازت دے بلکہ کوشش کر کے ان سرگرمیوں کو اس حد تک بڑھا دیں کہ دنیا میں کسی بھی ضروری اشیاء کی فراہمی میں قلت نہ پیدا ہو پائے خصوصاً‘‘ خوراک، ادویات، لباس اور انسانی ضروریات کی دیگر اشیاء میں کسی بھی طرح کی قلت ایک اور بہت بڑے بحران کو جنم دے گی جس کا نتیجہ ضروری اشیاء کے حصول کے لئے مار دھاڑ، چھینا جھپٹی اور جنگ و جدل جیسے بھیانک نتائج تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *