گوگی گارڈن۔ایک پریم کتھا(16)۔۔ڈاکٹر کاشف رضا

سال کا پہلا نور بھرا ایونٹ آن پہنچا تھا۔ جب سے رزلٹ آیا تھا، طیبہ کے مزاج بدل چکے تھے۔ حنان نے ایک نمبر زیادہ لے کر محبت کی کشتی میں پہلا سوراخ کر دیا تھا۔ حنان نے کافی بار طیبہ سے پرانی محبتیں بحال کرنے کی کوشش  کی ۔۔ اس نے طیبہ کو یقین دلایا کہ وہ فورتھ ایئر میں طیبہ سےکم از کم دو،تین سو نمبر کم لے گا۔ طیبہ پھر بھی نہ مانی۔ وہ نہ اس کے  میسجزکا جواب دیتی نہ کالز اٹینڈ کرتی ۔ کبھی کبھار اٹینڈ کرتی تو ڈانٹ دیتی۔ اب تو اس نے ننھے منے حنان کا نمبر بھی بلاک لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ حنان اس صورتحال سے کافی مخمصے کا شکار تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اصل ماجرا کیا تھا۔ ایک دو بار تو اس نے نشتر ٹاور سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔لیکن طیبہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کلاس میں اس نے حنان کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ ہر وقت موبائل میں لگی رہتی۔

آج حنان کے پاس Bonfire کی صورت ایک اور موقع تھا۔وہ طیبہ سے کسی بھی قیمت پہ  عشقیہ معاملات درست کرنا چاہتا تھا۔ رزلٹ آنے کے بعد سے وہ ٹوپی اتار چکا تھا۔ اس نے بالوں میں سرسوں کا تیل لگانا کم دیا تھا۔ اس کی مانگ اب درمیان کی بجائے سائیڈ پہ  نکلتی تھی۔

صبح سے وہ Bonfire پہ طیبہ کے متعلق منصوبہ بندی کررہا تھا۔ “طیبہ کس سائیڈ پہ  ہوگی،کیا پہنا ہوگا، کیا بات کروں گا، کیسے راضی کروں گا اسے،ٹوپی پہن کے جاؤں کیا؟ کیا پہنوں؟۔۔” اس نےمکمل مشق کی تھی۔ اس نے عمیرہ احمد کی کتابوں سے چند معرکتہ الآرا ڈائیلاگز بے انتہا نفاست سے یاد کیے۔ آنکھوں میں تین چار پاؤ  سرمہ بھی انڈیل لیا۔

سفید سوٹ پہنے، سندھی جیکٹ لگائے وہ وقت سے پہلے ہی Quad پہنچ گیا۔ فائنل ائیر کے سینئرز انتظامات کو آخری شکل دینے میں مصروف تھے۔ان کے علاوہ ابھی دس، بیس لوگ ہی وہاں پہنچے تھے۔ حنان نے اپنے دیرینہ تعقات کو استعمال کرتے ہوئے آرگنائزر والا بیش بہا قیمتی کارڈ حاصل کر لیا تھا۔ سفید سوٹ، سندھی جیکٹ، سائیڈ پہ  نکلی ہوئی مانگ اور رنگ برنگا آرگنائزر کارڈ، فرشتہ صفت حنان اب ایک مکمل نشتیرین لگ رہا تھا۔ کارڈ گلے میں لٹکاتے ہی اس کی گردن میں خودبخود خم آگیا تھا۔ وہ Quad میں ٹہلنے لگا۔ سبھی لوگ اس کی نگرانی میں کام کرتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔ وقت گزرتا گیا۔ حنان ریہرسل کر رہا تھا۔ وہ رٹے ہوئے ڈائیلاگز دہرا رہا تھا۔ Quad میں ارد گرد گھوم کے اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ کہاں پہ  کھڑا ہونا اس کے لیے سیاسی اور ذاتی طور پر فائدہ مند ہوگا۔ طیبہ ابھی نہیں پہنچی تھی۔

وقتِ مقرر آن پہنچا۔ لوگوں نے موبائل فونز نکال لیے۔ ایک دو افراد چھت پہ چڑھے ہوئے تھے۔ عوام آچکی تھی۔ میوزک جاری تھا۔ رنگ و نور کی گھٹا چھانے لگی تھی۔ لوگ اپنے اپنے محبوب کا دیدار کرنے کے لیے پوزیشنز سیٹ کرچکے تھے۔ آگ سے پہلے آگ لگ چکی تھی۔ نشانے باندھ لیے گئے تھے۔ بھرپور شور ہوا، آگ بھڑکی، ایک زوردار شعلہ بلند ہوا اور Bonfire کا آغاز ہوا۔ سٹیج سے اعلانات کا آغاز ہوا۔ پرفارمنسز شروع ہورہی تھیں۔

حنان وسوسے کا شکار تھا۔اسے ڈر لگنے لگا کہ شاید طیبہ نہ آئے۔ اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑانا شروع کیں۔ آج حور پریاں Quad میں اتری ہوئی تھیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک، رنگ برنگی، نیلی پیلی، جامنی، دو رنگی، سہ رنگی! حنان کچھ پریوں کو پہلی بار جینز پہنے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ دوسری طرف اکثر بوائز ویسے کے ویسے مشٹنڈے اور جان ایلیا کی بلیک اینڈ وائٹ فوٹو کاپیاں لگ رہے تھے۔ کچھ بوائز کی داڑھی مونچھوں پہ  بس تھوڑا سا رسمی طور پر منہ لگا ہوا تھا۔ حنان بس سامنے کی طرف دیکھنے لگا۔ پرفارمنسز میں بھی پریاں فرشتوں کے شانہ بشانہ داؤ پیچ آزما رہی تھیں۔ مشٹنڈوں نے آنکھیں اپنی اپنی حوروں پہ  گاڑی ہوئی تھیں۔ روح پرور سماں بندھ چکا تھا۔ حنان کی نظریں کسی کو تلاش کر رہی تھیں۔ سامنے سے پہلی قطار میں بائیں طرف سے چوتھے، پانچویں نمبر پہ نور کا منبع ظاہر ہوا۔ حنان نے غور سے دیکھا۔ اس کا موبائل گرتے گرتے بچا۔ یہ طیبہ تھی۔۔

حنان نے فوراً ساتھ والے کو دھکا دیا، اپنی پوزیشن ایڈجسٹ کی اور آنکھیں پھاڑے طیبہ کو دیکھنے لگا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ پرفارمنسز کی چاشنی ماند پڑچکی تھی۔ پریوں کا حسن پھیکا پڑ رہا تھا۔ اب جیسے وہاں صرف طیبہ تھی۔

حنان نے ایک بار پھر پوزیشن بدلی۔ اس کے ہارمونز ڈسٹرب ہوچکے تھے۔ وہ پیچھے سے گھومتا ہوا لڑکیوں والی سائیڈ کے قریب ہو گیا۔ یہاں سے وہ طیبہ کو قریب سے دیکھ سکتا تھا۔

طیبہ آج آگ کا گولا لگ رہی تھی۔اس کی موحودگی میں آگ جلانے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ محض لکڑیوں کا ضیاع ہو رہا تھا۔حنان کے دل میں اب جا کے آگ لگ چکی تھی۔طیبہ نے آج نقاب نہیں کیا تھا۔ اس نے سفید اور سیاہ رنگوں سے مزین پرپل بھڑکیلا لباس پہنا ہوا تھا۔ حنان سکتے میں تھا۔اسے ایک بار پھر سے طیبہ سے محبت ہوچکی تھی۔ طیبہ پرفارمنسز دیکھنے میں مست تھی اور حنان اسے دیکھنے میں۔ حنان مسکرا رہا تھا۔

طیبہ بھی مسکرا رہی تھی۔ حنان نے غور سے دیکھا۔ وہ پرفارمنسز پر نہیں، بلکہ کرسی پر بیٹھے کسی کو دیکھ کر  مسکرا رہی تھی۔ ٹانکا فٹ ہو چکا تھا۔ حنان بھونچکارہ گیا۔ اس نے طیبہ کو دیکھا، پھر کرسی پر بیٹھے گنجے شخص کو دیکھا۔ وہ واقعی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اور وہ شخص تو باقاعدہ اشارہ بھی کر رہا تھا جن کا جواب طیبہ مسکرا کر دے رہی تھی۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے 14 لکھ رہا تھا۔ طیبہ اثبات میں سر ہلا رہی تھی۔ حنان سٹپٹا کر پیچھے ہٹ گیا۔

بون فائر اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا۔ اب لوگ دیوانہ وار دھمال نما کچھ کررہے تھے۔۔ حنان سوچوں میں گم تھا کہ وہ کون تھا جسے دیکھ کر طیبہ مسکرا رہی تھی۔ وہ بیٹھ گیا اور برین پر زور دے کے سوچنے لگا۔ “طیبہ کا بھائی ہو سکتا ہے۔یا اس کا کزن بشیر۔ کون تھا وہ؟”

شاہ رخ خان کے تین صدی پرانے ڈائیلاگز دہراتے ہوئے وہ طیبہ کی طرف چلا گیا۔ لوگ واپس جا رہے تھے۔ رش کم ہو چکا تھا۔ طیبہ کو اکیلا پا کر حنان جھٹ سے اس کے پاس پہنچا۔

“طیبہ!”

“ہیلو۔ طیبہ۔ طیبہ” طیبہ نے اس سے منہ موڑ لیا تھا۔ وہ اس کی بات کا جواب نہ دے رہی تھی۔

“طی۔۔۔”

“ہاں بولو؟”

“کیسی ہو آپ؟”

“آپ سے مطلب؟” طیبہ کا دل کر رہا تھاکہ حنان کو باقی بچی آگ کے الاؤ  میں جھونک دے۔

“کیا ہوا؟ ناراض ہو ابھی تک؟ یار وہ پتا نہیں کیسے میرا ایک نمبر زیادہ آگیا آپ سے۔ سوری۔”

“تنگ مت کرو مجھے۔ جاؤ یہاں سے۔” طیبہ بھڑک اٹھی تھی اور واپسی چلنے لگی۔

“یار میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آئی  لو یو ویری مچ” حنان نے فوراً اس کے قریب ہو کر کہا۔” تم کہو تو تمہارے لیے چاند تارے توڑ کر لا سکتا ہوں۔”

“ہونہہ! ایک ٹیسٹ تو پاس نہیں کرا سکتے اور آئے آسماں سے تارے توڑنے والے۔” طیبہ اب بہت تیز ہو چکی تھی۔ وہ باہر کی طرف جارہی تھی۔

“میں تمہاری خاطر جان دے سکتا ہوں۔
میں تمہاری پریکٹیکل کاپیز بھی بنا سکتا ہوں۔
میں تمہارے ساتھ نشتر پوائنٹ پہ  سموسے بھی کھا سکتا ہوں۔
میں تمہاری بائیومیڑک اٹینڈنس لگوا سکتا ہوں۔
کسی دن نشتر ٹاور سے جمپ لگا کر خودکشی کرلوں گا میں۔۔۔۔پھر نہ کہنا۔” حنان اب سستے ڈائیلاگز پہ  اتر آیا تھا۔

بائیومیٹرک اٹینڈنس والی آفر پہ  طیبہ کے کان کھڑے ہوئے تھے۔ مگر وہ چلی گئی۔ حنان کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ پانچ دن بعد “اینٹی ویلنٹائنز ڈے” تھا۔ ننھی منی طیبہ نے عین موقع پر بے وفائی کر دکھائی تھی۔

حنان نے آرگنائزر کارڈ اتار پھینکا، اپنی سندھی جیکٹ اتاری اور باقی حاجیوں کے ساتھ زمین پر دیوانہ وار دھمال ڈالنے لگا۔ آگ بجھ چکی تھی۔

جاری ہے

ڈاکٹر کاشف رضا
ڈاکٹر کاشف رضا
کاشف رضا نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ابھرتے ہوئے نوجوان لکھاری ہیں۔ وہ اپنی شستہ زبان،عام فہم موضوعات اور انوکھے جملوں سے تحریر میں بے پایاں اثر رکھتے ہیں۔ان کی تحریریں خصوصاً نئی نسل میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *