حیات کا پراجیکٹ ۔ زندگی (27،آخری قسط)۔۔وہاراامباکر

فطری قوتیں طاقتور ہیں اور انہیں اپنے عمل کے لئے کیمسٹری یا فزکس کو سمجھنا نہیں پڑتا۔ لیکن بڑے طوفان مادے کو اکٹھا کر کے جہاز نہیں بنا سکتے۔ جبکہ انسانی ذہانت بہت کچھ اور بہت جلد کر سکتی ہے۔ انسان محدود عقل اور طاقت کے باوجود مادے کو ترتیب دینے کے چیمپئین ہیں۔ اگر فطرت کے اصول سمجھ لیں تو بہت جلد اس کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر لیتے ہیں۔ ایوی ایشن انجینر بڑے جمبوجیٹ بنا لیتے ہیں۔ ابھی تک ہم زندگی نہیں بن سکے لیکن کوانٹم بائیولوجی کی فہم نئے راستے کھول سکتی ہے۔ اور ایسا کرنا ایک بڑا انقلاب ہو گا۔

زندگی کی ٹیکنالوجی نئی نہیں۔ زراعت کی ٹیکنالوجی سے ہم خوراک بناتے آئے ہیں۔ روٹی، مکھن، پھلوں کا جوس، غلہ۔ ہم انزائم کو ڈیٹرجنٹ میں استعمال کرتے ہیں، لباس کی ٹیکنالوجی میں استعمال کرتے ہیں۔ اربوں ڈالر کی فارماکولوجی اور بائیوٹیکنالوجی نیچرل پراڈکٹس جیسا کہ اینٹی بائیوٹکس پیدا کرتی ہے۔ توانائی میں بائیوفیول بنایا جاتا ہے۔ لکڑی، کاغذ اور فوسل فیول بھی۔ یہ زندگی کی ٹیکنالوجی کو اپنے مقصد کے استعمال کی مثالیں ہیں۔

لیکن یہاں پر اس کی حدود اور مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ فوٹوسنتھیسز کے پراسس کے کچھ سٹیپ غیرمعمولی ایفی شنٹ ہیں لیکن زیاہ تر نہیں۔ اور یہ وہ وجہ ہے کہ مجموعی طور پر ہم شمسی توانائی سے کیمیائی توانائی زراعت میں جب حاصل کرتے ہیں، اس کی ایفیشنسی بہت کم ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ پودوں اور مائیکروب کا ایجنڈا ہمارے ایجنڈے سے مختلف ہے۔ انہوں نے اپنا زندگی کا نظام چلانا ہے۔ ہم ان کے لئے محض طفیلیے ہیں۔ مائیکروب جو اینٹی بائیوٹک، انزائم یا ادویات بناتے ہیں، وہ اس کام میں ایفی شنٹ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے لئے دوسرے کام بھی کر رہے ہیں۔

کیا ہم زندگی کو انجینر کر سکتے ہیں کہ وہ ہمارے ایجنڈا پر چلے؟ ظاہر ہے کہ ہاں اور ہم اس وقت بھی اس ٹیکنالوجی سے بہت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جنگلی جانوروں اور پودوں کو سدھایا ہے اور اپنے مطابق ڈھالا ہے۔ مصنوعی چناوٗ نے بڑے بیج یا شریف جانور دئے ہیں لیکن اس کی بھی حد ہے۔ مثلاً، ہر سال اربوں ڈالر نائیٹروجن کھاد پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ کئی اجناس، جیسا کہ مٹر کو اس کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ وہ بیکٹیریا اپنی جڑوں میں پالتے ہیں جو ہوا سے نائیٹروجن لے کر براہِ راست انہیں دے سکیں۔ اگر گندم کے ساتھ بھی یہ کام کیا جا سکے یعنی مٹر کی طرح یہ پودا اپنی نائیٹروجن خود فکس کر سکے تو یہ زراعت میں بڑا انقلاب ہو گا اور ماحول کے لئے بہترین خبر۔ لیکن سیریل کے ارتقا میں یہ خاصیت کبھی آئی ہی نہیں۔

اس رکاوٹ پر جزوی طور پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جینیاتی انجینیرنگ بیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی۔ آج بہت سی اہم فصلیں جینیاتی طور پر ترمیم شدہ ہیں۔ بائیوٹیکنالوجی کی صنعت جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مائیکروب پر انحصار کرتی ہے۔ اس میں جینز آگے پیچھے کی جاتی ہیں۔ چاول کے پودے کے پتوں میں وٹامن اے ہوتا ہے، چاول میں نہیں۔ وٹامن اے رکھنے والے چاول (گولڈن رائس) بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت کامیاب ہے لیکن یہاں پر بھی حدود ہیں۔

سنتھیٹک بائیولوجی کا خواب زندگی کی نئی اقسام پیدا کرنا ہے جو دنیا کو بدل سکیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟
ہم گھر بناتے ہیں۔ طوفان میں ٹائل اڑ جاتی ہے۔ کسی معمار سے یہ ٹھیک کروائی جاتی ہیں۔ پائپ لیک ہو جاتے ہیں۔ پلبر انہیں ٹھیک کرتا ہے۔ گاڑی خراب ہو جاتی ہے۔ مکینک کی ضرورت پڑتی ہے۔ مرمت کی ضرورت کی وجہ ماحول کی طرف سے لگائے گئے کچوکے ہیں۔

زندگی مختلف ہے۔ ہمارا جسم ہر وقت اپنے آپ کو نیا کرنے، مرمت کرنے، ضرر والے ٹشو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جب سے ہم پیدا ہوئے ہیں، ہم اپنے آپ کو تازہ کرتے رہتے ہیں۔ جدید آرکیٹیکچر زندگی کی کچھ خاصیتوں کی نقالی کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً، نارمن فوسٹر کے بنائے گئے ٹاور کی باہری جلد سپنج سے متاثر ہو کر بنائے گئے ہے جو عمارت کے سٹریس کو ٹھیک طریقے سے تقسیم کر لیتی ہے۔ ہرارے کے ایسٹ سنٹر کا ائر کنڈیشنگ سسٹم دیمک کے بل کی طرز پر بنانے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ سرد رہے اور ہوا کا گزر رہے۔ گرین وچ یونیورسٹی کے آرکیٹکچرل ریسرچ گروپ کی ڈائریکٹر ریچل آرمسٹرانگ اس سے ایک قدم آگے جانا چاہتی ہیں۔ بائیومیٹرک آرکیٹکچر بنانا چاہتی ہیں۔ مصنوعی خلیوں پر مشتمل جو اپنی مرمت کر سکیں، خود کو برقرار رکھ سکیں اور کاپی بنا سکیں۔ ہوا، بارش یا سیلاب سے ضرر کا پتا لگا کر مرمت کا عمل کر سکیں۔ جاندار مادے کی تخلیق سے معذور افراد کے لئے اعضاء بن سکتے ہیں۔ کینسر کے خلیوں کو ڈھونڈ کر مارے جانا ممکن ہو سکتا ہے۔ فارمیسوٹیکل، ایندھن اور خوراک کسٹم انجینیرنگ سے آ سکتی ہے۔ بہت سے فنکشن ممکن ہو سکتے ہیں۔

پانی کے ننھے سے قطرے کو تیل میں لپیٹ کر کیمیکل داخل کر کے پروٹوسیل بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کیمیائی طور پر ایکٹو پروٹوسیل متاثر کن کنسٹرکشن ہے لیکن کیا یہ زندگی ہے؟ اس کے لئے ہمیں زندگی کی کسی معقول تعریف پر اتفاق کرنا ہو گا۔ اپنی کاپی بنانا زندگی کی خاصیت سمجھی جاتی ہے اور یہ کئی جگہوں کے لئے ٹھیک ہے لیکن اعصابی خلیے یا خون کے سرخ خلیے بھی زندہ ہیں، اگرچہ وہ اپنی کاپی نہیں بناتے۔ حتیٰ کہ، بدھ راہب یا کیتھولک پادری بھی اپنی کاپی بنانے جیسے جنجھٹ میں نہیں پڑتے لیکن وہ زندہ ہیں۔ کاپی بنانا کسی نوع کی لمبی مدت کی بقا کے لئے ضروری ہے لیکن زندگی کی لازمی خاصیت نہیں۔

زندگی کی اہم خاصیت وہ ہے جو یہ آرکیٹکٹ نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خود کو برقرار رکھنا۔ اور ابھی تک بنائے گئے پروٹوسیل اس تعریف پر پورا نہیں اترتے۔ انہیں بائیومالیکیول سے بھرنا پڑتا ہے اور یہ ان پر کیمیکل کرتب دکھا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ مصنوعی پروٹوسیل زندہ خلیوں کے برعکس چابی بھرے کھلونے ہیں جو خود میں چابی بھرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

کیا کوئی جزو مِسنگ ہے؟ یہ بالکل نیا فیلڈ ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ آئندہ آنے والی دہائیوں میں اچھی پیشرفت ہو گی۔ کوانٹم مکینکس وہ گمشدہ سپارک ڈھونڈنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اور اس کا جواب نہ صرف ٹیکنالوجی کا انقلاب لا سکتا ہے بلکہ زندگی کی تہہ میں جا کر اس کا راز معلوم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

کوانٹم بائیولوجی کے ماہرین کا آرگومنٹ یہ ہے کہ زندگی کی تھرموڈائنمک وضاحت ناکافی ہے۔ یہ زندگی کے کوانٹم رئیلم سے رشتے کی وضاحت نہیں کر سکتی اور زندگی کا انحصار اس پر ہے۔ یہ نقطہ نظر کس حد تک ٹھیک ہے؟ آج کی ٹیکنالوجی میں اس کا حتمی جواب نہیں دیا جا سکتا کیونکہ خلیے میں کوانٹم مکینکس کو آن یا آف تو نہیں کر سکتے۔

اگر ہم پروٹو سیل بنانے کا پراجیکٹ کبھی کر سکے تو پھر یہ زندگی کی ٹیکنالوجی کا بڑا انقلاب ہو گا۔ مصنوعی زندگی جو کوانٹم اور کلاسیکل دنیاوٗں کے کنارے پر سفر کر سکے گی۔ مصنوعی خلیے جو زندہ عمارتوں کی اینٹوں کا کام کر سکیں گے۔ مائیکروسرجن جو پرانے اور ضرر اکٹھا کرنے والی ٹشو کو تبدیل کر سکیں گے۔ فوٹوسنتھیسز اور تنفس تک، انزائم ایکشن اور کوانٹم ناک، کوانٹم جینوم، کوانٹم قطب نما اور ممکنہ کوانٹم دماغ سے سیکھ کر کوانٹم سنتھیٹک بائیولوجی اہم کام کر سکتی ہے۔

اور سب سے اہم یہ کہ ایسے پراجیکٹ کی کامیاب تکیل فائن مین کا کہنا، “جو بنایا نہیں، اسے سمجھا نہیں” کا جواب دے سکے گی۔ اگر ایسے پراجیکٹ میں کبھی بھی کامیابی ہو سکی تو ہم آخرکار دعویٰ کر سکیں گے کہ ہمیں معلوم ہے کہ زندگی بے تربیتی کی قوتوں کا کس طریقے سے ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور کلاسیکل اور کوانٹم دنیا کی سرحد پر سواری کر لیتی ہے۔ زندگی کے بہت سے پہلو ہم پہچان چکے ہیں۔ اس کی کیمسٹری، خلیاتی سٹرکچر اور پھر اسے کھول کر مالیکیول کی سطح تک جا چکے ہیں، جینیاتی ڈیزائن دیکھ چکے ہیں۔ ایسے پراجیکٹ کی کامیابی سے ہم اس چیشائر بلی کی آخری رہ جانے والی مسکراہٹ پہچان لیں گے اور اس بڑے سوال کا جواب دینے کے قابل ہو جائیں گے کہ آخر ۔۔۔۔
زندگی کیا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شُد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *