فلُو ۔ وائرس (4) ۔۔وہاراامباکر

انفلوئنزا اطالوی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب influence ہے۔ یہ قدیم نام ہے۔ اور مڈل ایج کے طبیب یہ سمجھتے تھے کہ اس کی وجہ ستاروں کا اثر ہے۔ ہر کچھ دہائیوں کے بعد اس کی زبردست لہر آیا کرتی تھی۔ یہ وہ بیماری ہے جس کا ایک سٹرین 1918 میں پانچ کروڑ جانیں نگل گیا تھا۔ جب یہ ایسی وبائی شکل اختیار نہیں بھی کرتا تو بھی جان لیوا ہے۔ ہر سال اڑھائی سے پانچ لاکھ افراد اس کی وجہ سے جان گنوا دیتے ہیں۔ آج سائنسدان یہ جانتے ہیں کہ اس کا تعلق ستاروں سے نہیں بلکہ وائرس سے ہے۔ صرف دس جین رکھنے والے وائرس سے جو بیمار لوگوں کی کھانسی، چھینک اور بہتی ناک کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ایک بار یہ ناک یا گلے تک پہنچ جائے تو پھر سانس کی نالی کی دیوار پکڑ لیتا ہے اور اندر گھس جاتا ہے۔ ایک خلیے سے دوسرے تک یہ سانس کی نالی کی دیوار میں تباہی مچاتا جاتا ہے۔ یہاں کی بلغم اور لائننگ کو تباہ کر دیتا ہے جیسے کوئی درانتی سے فصل کاٹ دے۔

تندرست لوگوں میں امیون سسٹم چند دنوں میں اس پر جوابی وار سے اس کا صفایا کر دیتا ہے۔ فلو میں درد، بخار اور تھکن ہوتی ہے۔ ایک ہفتے میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے شکار افراد میں ایک بہت تھوڑا تناسب ان کا ہوتا ہے جہاں سنجیدہ انفیکشن ہو جاتی ہے۔ خلیوں کی یہ بالائی تہہ جسے فلو کا وائرس نقصان پہنچاتا ہے، کئی ضرررساں پیتھوجن کے خلاف رکاوٹ بنتی ہے۔ پیتھوجن (ضرر رساں جراثیم) بلغم میں پھنس جاتے ہیں اور دفاعی نظام کے خلیے ان کا صفایا کر دیتے ہیں۔ لیکن جب یہ بالائی تہہ فلو کا وائرس کاٹ دیتا ہے تو پیتھوجن کو موقع مل سکتا ہے کہ وہ خطرناک انفیکشن کر سکیں جو مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ اوسطاً، ایک ہزار مریضوں میں سے ایک میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انفلوئنزا ایسا وائرس ہے جو ماضی میں بہت سی اموات کا باعث بن چکا ہے اور ہر سال اپنے شکار کرتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ پرسرار ہے۔ موسمی فلو عام طور پر ان کے لئے خطرناک ہے جن کا امیون سسٹم اس وائرس کو قابو نہ کر سکے۔ خاص طور پر چھوٹے بچے اور بزرگ۔ لیکن 1918 کی وبا جیسی واقعات میں یہ خاص طور پر مضبوط امیون سسٹم والوں کے لئے مہلک ثابت ہوا۔

اپنے تمام اسرار کے باوجود یہ واضح ہے کہ یہ آیا کہاں سے ہے۔ پرندوں سے۔ انسان کو ہونے والے تمام سٹرین پرندوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے بھی جو انسانوں کو نہیں ہوتے۔ کئی پرندوں میں یہ وائرس موجود رہتا ہے لیکن بیمار نہیں کرتا۔ یہ ان کی سانس کی نالی میں نہیں، بلکہ آنتوں میں ہوتا ہے۔ فضلے کے ذریعے خارج ہوتا ہے۔ ایسا پانی پینے سے یہ دوسرے پرندے میں پہنچتا ہے۔

پرندوں کے فلو کے کچھ سٹرین نوع کی رکاوٹ پھلانگ کر انسانی وائرس بن گئے۔ بہت سی ناکام چھلانگیں رہی ہوں گی۔ کیونکہ پرندوں میں ان کا قدرتی گھر ہے اور یہ انہیں انسانوں میں پھیلنا مشکل بناتا ہے۔ 2005 میں ایک سٹرین H5N1 پھیلا جو عام فلو سے کہیں زیادہ مہلک تھا۔ برڈ فلو انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہو سکتا تھا، صرف پرندے سے انسان میں ہوتا تھا۔

فلو کا وائرس اپنی جینز کی کاپی بنانے میں نکما ہے اور غلطیوں کی شرح زیادہ ہے۔ اس وجہ سے میوٹیٹ ہونے کی رفتار زیادہ ہے۔ یہ میوٹیشن اس وائرس کے لئے مفید ہیں۔ اور یہ جلد انسانوں سے مانوس ہو سکتا ہے۔ کچھ میوٹیشن اس کی شکل تبدیل کرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ انسانوں کو اچھی طرح پکڑ سکتا ہے۔ کچھ اسے انسانی جسم کے درجہ حرارت میں رہنے کے قابل بناتی ہیں جو پرندوں کے مقابلے میں کئی ڈگری کم ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پرندوں میں یہ آنت سے پانی سے آنت میں پہنچتا ہے۔ انسانوں میں یہ سائنس کی نالی، قطرے اور پھر سائس کی نالی میں۔ سردیوں میں یہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، خاص طور پر جب نمی کم ہو۔ خیال یہ ہے کہ ایسے موسم میں وائرس سے لدے قطرے گھنٹوں تک فضا میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی ترسیل آسان ہو جاتی ہے۔ نمی والے موسم میں یہ جلد گر جاتے ہیں۔

کئی بار فلو ایک قطرے پر سواری کر کے نئے میزبان کو انفیکٹ کرتا ہے جس کو پہلے ہی ایک اور طرح کے وائرس نے انفیکٹ کیا ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں خلیے میں مل جائیں تو گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ جب میزبان خلیہ ان دونوں کے کاپی بنانے کے احکامات کی تکمیل کرتا ہے تو جین آپس میں مکس ہو جاتے ہیں۔ یہ ویسے ہے جیسے وائرس جنسی عمل کر رہا ہو۔ دونوں “والدین” کے جین کا ملاپ ہو جاتا ہے اور نئی کمبی نیشن بنتے ہیں۔

فلو کی تاریخ میں ایسے واقعات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وائرس اپنی جینز کا تبادلہ کرتے ہیں۔ چند بہت ہی کم مواقع میں وائرس انسانی فلو اور پرندوں کے فلو کے وائرس کا ملاپ کر چکے ہیں۔ یہ ایک تباہ کن واقعہ ہے۔ کیونکہ یہ نیا سٹرین آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں جا سکتا ہے اور کسی انسان کے پاس اس کا دفاع نہیں ہوتا۔

ہر سال میں برڈ فلو وائرس تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ انہیں تباہ ہونے اور ختم ہو جانے سے بچاتا ہے۔ صرف انسان ہی نہیں،، گھوڑے، کتے اور دوسرے ممالیہ بھی پرندوں سے یہ وائرس لے چکے ہیں۔ ایک وبا سوٗر سے 2009 میں پھیلی تھی۔ میکسیکو سے شروع ہونے والا سوائن فلو میں بطخ، سور اور انسان کے فلو کے وائرس کا ملاپ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فلو کے وائرس کو پھیلنے سے بچانے کا سب سے موثر طریقہ ہاتھوں کی صفائی ہے۔ سائنسدان اس کی ویکسین بنانے کے بہتر طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ پیشگوئی کر کے کہ آنے والے سیزن میں کونسا فلو وائرس خطرناک ہو سکتا ہے۔ ابھی ہم فلو پر برتری حاصل کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوئے لیکن اب اس کے لئے ہم ستاروں کی طرف نہیں دیکھتے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *